بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ملک میں قبل از وقت انتخابات کا کوئی امکان نہیں ٗ پرویز خٹک

ملک میں قبل از وقت انتخابات کا کوئی امکان نہیں ٗ پرویز خٹک

پشاور ۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ میں ملک میں قبل از وقت انتخابات نہیں دیکھ رہاہوں۔ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔ آئین میں ایسا کوئی راستہ بھی نہیں کہ قبل از وقت انتخابات کرائے جائیں۔ نوازشریف خاندان کے خلاف جے ائی ٹی کا فیصلہ آچکا ہے۔جے آئی ٹی نے اپنا کام کردیا اب سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اسمبلیوں کے خلاف نہیں بلکہ نوازشریف خاندان کے خلاف ہے۔اگر سپریم کورٹ نے نواز شریف خاندان کے خلاف فیصلہ نہ دیا تو میں صوبہ خیبرپختونخوا میں سب کوکہوں گا کہ وہ کرپشن شروع کردیں کیونکہ اگر چھوٹے چوروں کے لیے سزا اور جزاہے اور بڑے چوروں کومعاف کیا جائے یہ کہاں کاانصاف ہوگا۔آخر کب تک بڑے چور وں پرہاتھ نہیں ڈالا جاسکے گا۔ اور چھوٹے چوروں کوپکڑا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کرپٹ حکمرانوں کااصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔

عوام اب تبدیلی کا ساتھ دیں گے کرپشن اور پاکستان اب مزید ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔2018 کے عام انتخابات میں وفاق سمیت چاروں صوبوں میں پاکستان تحریک انصاف حکومت بنائے گی۔ اور عمران خان ہی اس ملک کے وزیر اعظم ہوں گے۔ وہ نوشہرہ کے علاقے گنڈھیری میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ضلعی رہنما نیاز علی خان کے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت زنڈو بانڈہ میں تحصیل کونسلر ملک استراج خان کی اپنے ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی سے اے این پی سے محمد خان کونسلر نے اپنے ساتھیوں اور خاندان اور پی ایم ایل این سے نذیر خان اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت مستعفی ہوکر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر جلسوں سے خطاب اور زرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے خیبر خان اور سکندر خان کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ سے یہ خطاب کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کاکاخیل، ضلع ناظم نوشہرہ لیاقت خان خٹک ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹرعمران خٹک، تحصیل کونسلر احد خٹک ڈسٹرکٹ نائب ناظم اشفاق احمد خان ضلعی کونسلر نازد خان، نیازعلی خان اوراستراج خان نے بھی خطاب کیا۔وزیر اعلیٰ نے نیاز علی شاہ اور دیگر شامل ہونے والوں کو مبارکباد دی اور انکو تحریک انصاف کی ٹوپیاں پہنائی اور پارٹی میں خیر مقدم کیا۔

پرویز خان خٹک نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کافیصلہ ہے اور اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اور اللہ کی لاٹھی سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ شریف خاندان بچوں سے لیکر باپ دادا تک کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں۔ میں اللہ سے پرامید ہوں کہ یہ سب انجام تک ضرور پہنچیں گے۔ نواز شریف اوران خاندان کے علاوہ اور بھی چور ہیں جو اپنے انجام تک پہنچیں گے۔ چوہدری نثار کے حوالے سے کچھ نہیں جانتا ۔ کیونکہ ان سے کافی عرصے سے رابطہ نہیں ہے۔پرویز خٹک نے کہا کہ س ترقیاتی کام صوبہ بھر میں جاری ہیں اور ضروری بھی ہیں مگر ہماری ترجیح نظام کی تبدیلی ہے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد میرے لئے انتہائی پریشان کن صورت حال یہ تھی کہ اصلاح کا عمل کس کام سے شروع کیا جائے کیونکہ صوبے کی ہر چیز ہی تباہ حال تھی۔ہمارے تمام تر اصلاحاتی اقدامات کا مرکز و محور غریب لوگ ہیں۔ صوبائی حکومت نے غریب کو طاقت ور مافیا کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے اداروں کو سیاسی مداخلت ختم کرکے با اختیار بنایا۔سرکاری محکموں میں رشوت اور چوری کے خلاف جہاد شروع کیا۔سب کو اپنا دشمن بنا لیا صرف غریب کی خاطر تاکہ اسے عزت کی زندگی جینے کا موقع مل سکے۔اداروں کی اجاہ داری ختم کئے بغیر ترقی کا سفر ممکن نہیں۔ وزیرا علیٰ نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کی وجہ ایماندار قیادت کا فقدان ہے۔انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایک ہی آسمان کے نیچے اور ایک زمین پر رہتے ہوئے اور ایک جیسے وسائل رکھتے ہوئے ہم تزلی کا شکار کیوں ہیں۔چھوٹے چھوٹے ممالک ہم سے آگے نکل گئے مگر ہم اپنے بنیادی مسائل حل کرنے سے قاصر ہیں۔ہمارے پیچھے رہ جانے کی وجہ یہی ہے کہ بد قسمتی سے ابھی تک پاکستان کو ایماندارقیادت میسر نہیں آئی۔جو بھی بر سر اقتدار آیا اس نے عوام کی بیوقوف بنا کے حسب توفیق لوٹ مار کی۔اداروں کو عوام کی خدمت کی بجائے اپنا غلام بنایا۔ شعبہ تعلیم میں حکومتی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو سرکاری سکول جانوروں کا باڑا معلوم ہوتے تھے۔

نہ کمرے ، نہ فرنیچر ، نہ سٹاف ، نہ چار دیواری ، نہ بجلی اور نہ پانی کوئی بھی چیز میسر نہیں تھی۔ صوبائی حکومت نے یہ سہولیات پہنچانے کے لئے اربوں روپے خرچ کئے۔ 45ہزار اساتذہ میرٹ پر بھرتی کئے، سکولوں کی سطح پر اساتذہ والدین کونسل قائم کی۔ غریب کو امیر کے مقابلے میں لانے کے لئے پرائمری کی سطح پر انگلش میڈیم کا آغاز کیا۔ کام چوری پر سزا اور اچھی کارکردگی پر جزا کا نظام وضع کیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں سرکاری سکولو ں پر عوام کا اعتماد بحال ہو چکا ہے۔شعبہ صحت میں حکومتی اصلاحات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس وقت صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ڈاکڑ، ٹیکنیشن اور طبی آلات موجود ہیں۔ہسپتالوں کی سطح پر فارمیسی قائم کی گئی ہے۔صوبے کے غریب خاندانو ں کے لئے صحت انصاف کارڈ ہمارا بہترین پالیسی اقدام ہے۔اس سکیم کے تحت 18لاکھ مستحق خاندانوں کو کارڈ دیئے گئے۔اس سال مزید 10لاکھ کارڈز دیں گے تاکہ جو لوگ رہ گئے وہ بھی اس سکیم سے استفادہ کر سکیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تھانوں میں بدمعاشی ختم کرکے انہیں قانون کا پابند بنایا۔ دو نمبر ایف آئی آر کے اندارج کا سلسلہ ختم کیا۔

اب تھانوں میں غریب کو عزت دی جاتی ہے۔رشوت کے خاتمے کے لئے وسل بلوئر جیسا اہم قانون پاس کیا۔جو شخص رشوت کی نشاندہی کرے گا اسے موصول شدہ رقم کا تیسرا حصہ دیا جائے گا۔اسی طرح خدمات کی آسان فراہمی کے لئے خدمات تک رسائی کا قانون پاس کیا۔متعلقہ ذمہ داران پندرہ دن کے اندر مطلوبہ خدمت کی فراہمی کے پابندہیں بصورت دیگر انہیں جیب سے جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔سی پیک کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ صوبے کا زبردست مستقبل ہے۔ پانچ دس سالوں کے بعد صوبے میں بے روزگاری کا مسئلہ نہیں رہے گا۔وسیع پیمانے پر کارخانے لگائے جا رہے ہیں، صنعت کا فروغ بے روزگاری کا واحد حل ہے۔ سرکاری نوکریاں کافی نہیں ہیں کیونکہ ہر گھر میں بے روزگاری ہے۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ نے پارٹی میں شامل ہونے والے لوگوں کو تحریک انصاف کی ٹوپیاں پہنائیں۔