بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / لاوارث فصیل شہر

لاوارث فصیل شہر

تبدیلی کے دعوے اپنی جگہ مگرکم از کم فصیل شہر کے معاملے پر تو صوبہ کی تمام حکومتوں کی پالیسی میں یکسانیت ہی نظر آتی ہے کیونکہ شہر کی اس اہم نشانی کو نہ تو مسلم لیگ اورپی پی پی کے ادوارحکومت میں توجہ مل سکی نہ ہی درویشوں ‘قوم پرستوں اور اب تبدیلی کے دعویداروں کو اس جانب نظر التفات کاوقت ملاہے چنانچہ ہرگزرتے دن کیساتھ تاریخی فصیل شہر دم توڑتی جارہی ہے اور حکمرانوں کو فاتحہ خوانی کی فرصت بھی نہیں پشاور اڑھائی ہزار سال سے آبادچلا آرہاہے اس کی موجودہ فصیل اگرچہ انگریزوں کے دور میں تعمیر ہوئی مگر اسکی بنیادیں سینکڑوں سال پرانی ہیں قیام پاکستان کے بعدکئی سال تک فصیل اصل صورت میں بحال رہی جبکہ اندرون شہر کے دروازوں کاسسٹم بھی بدستور جاری رہا ہر دروازے کے ساتھ ایک پولیس چوکی ہوا کرتی تھی رات کو مخصوص اوقات کے بعددروازے بندکردیئے جاتے تھے اور تاخیر سے جانے والوں کو پھر گیٹوں پر تعینات سنتریوں کی طرف سے کڑے سوال جواب کے مرحلہ سے گزرنا پڑتا بد قسمتی سے قیام پاکستان کے بعدسے ہم اپنے پرانے نقوش کو بچانے کے معاملہ میں حددرجہ بے حس ہوتے چلے گئے اور ہماری اسی بے حسی کی زد میں تاریخی فصیل شہر اور اس کے دروازے بھی آگئے اور اب حالت یہ ہے کہ محض دو دروازے ہی اصل حالت میں باقی بچے ہیں جبکہ فصیل کا بہت بڑا حصہ بھی ہماری اسی بے حسی اورقبضہ مافیا کی نذر ہوگیاہے اس دوران اس صوبہ پر پی پی پی ‘مسلم لیگ ‘اے این پی ‘ایم ایم اے کی حکومتیں رہیں مگر مجال ہے کہ کسی نے بھی فصیل شہر کی باقیات کو محفوظ کرنے پر کسی قسم کی توجہ دی ہو اے این پی کے دور میں کم از کم چنددروازوں کو تو بحال کیاگیا مگر پھر کچھ بھی نہ ہوا پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو تبدیلی کے نعرے سن کر ہم جیسے خوش فہموں کو یہ امید ہوچلی کہ اب تو فصیل شہر کی فریادسنی جائیگی مگر چار سال گزرنے کے بعدبھی اس تاریخی ورثے کومحفوظ بنانے کے لئے کوئی اہم پیشرفت نہ ہوسکی جس کے بعداب اس کے بچے کھچے حصوں پر بھی قبضہ اورپلازہ مافیا کی نظر یں جمی ہوئی ہیں اس وقت ڈبگری چوک سے تھوڑا سا رامداس کی طرف آئیں تو بیچ میں فصیل کا ایک حصہ محفوظ ہے اسی طرح رامداس چوک سے آسیہ گیٹ تک اورپھرسردچاہ گیٹ اورسرکی گیٹ کے درمیان کچھ حصہ باقی ہے سب سے طویل حصہ کوہاٹی چوک سے لے کر یکہ توت گیٹ کے درمیان موجودہے جبکہ یکہ توت سے گنج گیٹ کے درمیان بھی کچھ ٹکڑے کھڑے ہیں اوراس وقت ان بچے کھچے حصوں کو ہڑپ کرنے والے پوری طرح سے تیار نظر آتے ہیں۔

بالخصوص کوہاٹی گیٹ والے حصوں کے اندرونی طرف تو مختلف پلازے اورمارکیٹیں بننی شروع ہوچکی ہیں اوراگر ابھی سے پیش بندی نہ کی گئی تو چندماہ کے دوران ان زیر تعمیر پلازوں اور مارکیٹوں کے آگے واقع فصیل شہر راتو ں رات غائب کردی جائے گی اور حسب معمول ادارے ایک دوسرے پرملبہ ڈالتے رہ جائیں گے رمضان المبارک کے آغاز سے چند ہفتے قبل پہلی بار ضلعی حکومت نے فصیل شہر کی تعمیر مرمت کامنصوبہ شروع کرنے کااعلان کیا اور ا س کاآغاز کوہاٹی گیٹ سے ہی کیا غالباًڈیڑھ کروڑ کی رقم مختص کی گئی اورپھر اس پرکام بھی شروع ہوا پہلی بار احساس ہوا کہ اس شہر کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے والے بھی موجودہیں مگر مقام حیرت و افسو س ہے کہ رمضان سے قبل محض چند فٹ کی فصیل کی تعمیر ومرمت کی گئی اس کے بعدسے مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے جو مرمتی کام ہوا وہ چند لاکھ کاہی ہے تو پھرباقی رقم کاکیاہوا ضلع حکومت کو اس بارے میں وضاحت ضرور کرنی چاہئے اور اگر اس نے ماضی کے دیگر حکمرانوں کے برعکس ایک تاریخی نوعیت کاکام شروع کیاتھاتو اس کو تکمیل تک پہنچا کر پشاور کے شہریوں کی حقیقی نمائندگی کاحق ادا کرناچاہئے اگر لاہور میں جاکر دیکھیں تو وہاں تاریخی فصیل کے بعض بچے کھچے حصوں کو خوبصورت انداز میں ہمیشہ کیلئے محفوظ کرلیاگیاہے ہمارے ہاں بھی ایسا ہوسکتا ہے موجودہ حصوں کو محفوظ بناکراس پر پشاور کی مختصر تاریخ لکھ کر شہر میں سیاحت کو فروغ بھی دیا جا سکتاہے ا س معاملہ میں محکمہ سیاحت و آثارقدیمہ سے بھی مددلی جاسکتی ہے فصیل شہر کے ساتھ ساتھ شہر کے دوسرے تاریخی مقامات کو محفو ظ بناکر پشاور کو ایک بار پھرسیاحت کامرکز بنایا جاسکتاہے ہمارے خیال میں اب وقت آگیاہے کہ فصیل شہر کو محفوظ ورثہ قراردینے کیلئے قانون سازی کرکے اسکی ایک اینٹ بھی اکھاڑنے پر سخت سزا تجویز کی جانی چاہئے۔