بریکنگ نیوز
Home / کالم / استحصابی طبقے

استحصابی طبقے


مفادات کی سیاست دھیرے دھیرے اپنے نقطہ عروج کی جانب بڑھ رہی ہے مولانا فضل الرحمن صاحب کا یہ بیان کہ کیا تحریک انصاف زرداری کو نواز شریف سے کم چور سمجھتی ہے، بڑا معنی خیز اور ذومعنی ہے، لگتا ہے کہ سردست انہوں نے پی پی پی سے اپنی راہیں جدا کرلی ہیں ادھر محمود خان اچکزئی کا یہ فرمان کہ وہ میاں صاحب کی طرف بڑھایا ہوا دوستی کا ہاتھ نہیں چھوڑیں گے میاں نوازشریف کیلئے تقویت کا باعث بنا ہوگا اور اس سے بھی کافی حد تک ان کی ڈھارس بندھی ہوگی شیرپاؤ گروپ اور اے این پی کے رہنما بھی فی الحال وزیراعظم کا ساتھ چھوڑنے والوں میں نہیں، ویسے حکمران لاکھ دودھ میں دھلے کیوں نہ ہوں اگر اقتدار میں ان کا دورانیہ حد سے زیادہ ہوجائے تو وہ رعایا کو برے لگنے لگتے ہیں، ایوب خان اور ضیاء الحق کا حشر ہم نے دیکھا اور بھی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں، تب ہی تو سعدی شیرازی نے کہا تھا کہ ا گر پری بھی کسی کے گلے کا ہار بن جائے تو وہ بھی ہار پہننے والے کو بری لگنا شروع ہوجاتی ہے میاں برادران یا ان کے خاندان کا اب مزید اقتدار سے چمٹ کر رہنا ان کیلئے شاید سود مند نہ ہو اس درد سر سے اگر وہ خود ہی اپنی جان چھڑالیں تو یہ انکی صحت کیلئے شاید بہتر ہو آج کل تو ملک میں میڈیا کافی آزاد ہے بلکہ مادر پدر آزاد ہے آج کل تو حکمرانوں کیلئے یہ معلوم کرنا ازحد آسان ہے کہ عوام میں ان کی مقبولیت کا کیا عالم ہے انسان غلطی کا پتلا ہے گوشت پوست کا ایک لوتھڑا ہے، لغزش کرنا اس کی سرشت میں جیسے لکھ دیا گیا ہے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا اورپھر اللہ پاک اور قوم سے معافی مانگنے سے انسان کی عزت نہیں گھٹتی بلکہ زیادہ ہوجاتی ہے۔

انسان اقتدار میں بھی ہو اور پھر تجارت بھی کرے تو لامحالہ کسی نہ کسی جگہ وہ ایسا قدم اٹھالیتا ہے کہ جس سے اسکی تجارت کو فائدہ پہنچ جاتا ہے تب ہی تو دانشوروں نے کہا ہے کہ ہمیں افسوس ہوتا ہے اس قوم پر کہ جس کے ارباب اقتدار تاجر بھی ہوں، ن لیگ کے قائدین کے حمایتی اکثر یہ بات دہراتے ہیں کہ بھئی میاں برادران کا خاندان کوئی فقرا تھوڑی تھا وہ تو کئی عشروں سے تجارت کررہا ہے جس میں اس نے مال بنایا ہے، تجارت یقیناًکوئی جرم نہیں پراگر کسی شخص کے پاس تھوڑے ہی عرصے میں اتنا زیادہ مال آجائے‘ روپوں‘ پراپرٹی‘ بینک بیلنس وغیرہ کے انبار لگ جائیں کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں دنگ رہ جائیں تو پھر سمجھ جاؤ کہ اس نے کسی کا حق مارا ہے اور پھر جو شخص پبلک آفس ہولڈر ہو اس کو تو ہر وقت وضو میں رہنا ضروری ہوتا ہے وہ تو ہر وقت عوام اور اپوزیشن کی سرچ لائٹ میں ہوتا ہے یہ جو اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہم سیاست عبادت سمجھ کر کرتے ہیں سب کتابی باتیں ہیں، خدا لگتی یہ ہے کہ اس ملک میں عرصہ دراز سے لوگ سیاست کو عبادت نہیں بلکہ تجارت سمجھ کر کررہے ہیں الیکشن لڑنے کیلئے دو تین کروڑ روپے لگاؤ اور پھر پانچ سال اسمبلی میں بیٹھ کر اس رقم سے چار گنا زیادہ رقم حکومت سے اپنے اپنے حلقے میں ترقیاتی کاموں کیلئے اپنے نام منظور کرواؤ، اس میں سے ایک چوتھائی خرچ کرو اور باقی اپنی جیب میں ڈالو، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی کیا مجال کہ وہ کسی رکن اسمبلی سے حساب کتاب مانگ سکے؟ اس کے علاوہ پانچ سال تک دنیا کی ہر سہولت بشمول مفت علاج معالجہ وغیرہ اور اچھی خاصی ماہانہ تنخواہ اور دیگر الاؤنسز بھی حاصل کرو، وہ زمانے گزر گئے جب سردار عبدالرب نشتر جیسے سیاست کرتے تھے کہ جو الیکشن لڑنے کیلئے اپنے گھر گروی رکھ دیتے تھے۔