بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / فیملی میڈیسن کا ڈپلومہ کورس

فیملی میڈیسن کا ڈپلومہ کورس

ہمارے ہاں ویسے توہر شعبہ زندگی تنزلی اوربد انتظامی کاشکار ہے لیکن اگرمعیاری خدمات اور اعدادوشمار کی زبان میں بات کی جائے تو صحت کا شعبہ دیگر شعبوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی ابتری‘ بدنظمی اور قابل رحم صورتحال سے دوچار نظر آئے گا۔ اس تنزلی کی ویسے تو کئی وجوہات اور اسباب ہیں لیکن اس ضمن میں فی الوقت اگر کوئی بڑی اور فوری وجہ نظرآتی ہے تو وہ ہمارے ہاں وژن اور ترجیحات کے فقدان کے ساتھ ساتھ مادی اور افرادی وسائل کے استعمال میں کی جانیوالی بے احتیاطی ہے جسے اگر کوتاہی اور نالائقی کہا جائے تو شایدبے جانہ ہوگا اس تلخ حقیقت کا اندازہ ان اعداد وشمار سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں20 کروڑ کی آبادی کیلئے سارے ملک میں ایک لاکھ 76ہزار جنرل ڈاکٹرز اور تقریباً 37ہزار سپیشلسٹ دستیاب ہیں جو اتنی بڑی آبادی کیلئے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں یہ بات اور بھی قابل غور ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق شعبہ صحت کا زیادہ تر بوجھ تقریباً 70سے 80فیصدپرائیویٹ سیکٹرنے اٹھایا ہواہے اس طرح یہ بات بھی محتاج بیان نہیں ہے کہ ہمارے ہاں سرکاری ہسپتالوں کے انفراسٹرکچراور وہاں تعینات طبی اور دیگرعملے وغیرہ کا معیار انتہائی ناقص ہے واضح رہے کہ شعبہ صحت میں اصلاحات کا دعویٰ ویسے تو ہر حکومت کرتی رہی ہے اور اس سلسلے میں بعض مواقع پر کچھ نہ کچھ اقدامات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں لیکن موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت نے پہلی دفعہ معاشرے کے انتہائی غریب اور پسماندہ افراد کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کیلئے جو بعض نمایاں اقدامات مثلاً پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام اور خیبر پختونخوا صحت سہولت پروگرام شروع کئے ہیں ان دونوں پروگراموں میں پائی جانیو الی خامیوں کے باوجودان نظاموں سے کم از کم معاشرے کا طبقہ صحت کی کچھ نہ کچھ سہولیات حاصل کرنے کے قابل ہوگیا ہے ‘عالمی ادارہ صحت نے پاکستان جیسے پسماندہ اوردیہی آبادی پرمشتمل ممالک کیلئے فیملی میڈیسن اورفیملی فزیشن پر مبنی صحت کے متبادل نظام کی سفارش کی ہے۔ یہ سفارش ایسٹ میڈیٹیرین ریجن کے 63ویں سیشن میں کی گئی ہے ۔ایمرو کے اس سیشن میں کہا گیا ہے کہ فیملی فزیشن پرائمری ہیلتھ کیئر کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کے کردار کے حامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے 2030تک ہر دس ہزار کی آبادی پر تین فیملی فزیشنز کی تقرری کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تربیت یافتہ فیملی فزیشنز کی تعیناتی سے نہ صرف دوردراز کے پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے بلکہ اس سے غریب آبادی کو اخراجات کی مد میں صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ خطے کے کئی ترقی پذیر ممالک میں فیملی فزیشنز کا کامیاب تجربہ کیاگیا ہے جسکے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے ہیں اس سلسلے میں افغانستان ‘مصر‘ عراق ‘لبنان ‘مراکش ‘ سعودی عرب ‘اردن اور سوڈان کی مثالیں نمایاں ہیں جہاں فیملی میڈیسن کے عنوان سے طبی تعلیمی اور تربیتی اداروں میں الگ تعلیمی اور تربیتی شعبہ متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت چھ ماہ کے ڈپلومہ کورس سے لے کر دو اور چار سال تک کے ڈگری پروگرام بھی شروع کئے گئے ہیں ان کامیاب تجربات کی روشنی میں عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں بھی فیملی میڈیسن کا ڈپلومہ کورس شروع کرنے کی سفارش کی ہے۔

کانفرنس کی سفاشات کی روشنی میں پائلٹ پروگرام کے تحت کے ایم یو میں ایک سال کا ڈپلومہ کورس شروع کرنے کی منظوری بھی دی گئی جبکہ متذکرہ کورس میں داخلے کے لئے ایم بی بی ایس اور ہاؤس جاب کے علاوہ پی ایم ڈی سی کے ساتھ رجسٹریشن کی کم از کم شرط رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیایہ کورس چارماڈیولز پر مشتمل ہوگا جن میں بچوں اور خواتین کی صحت ‘امراض قلب ‘سینہ ‘ای این ٹی ‘امراض چشم‘ سرجری ‘ہیماٹالوجی‘ زخموں ‘خون اور نفسیاتی امراض سے متعلق بنیادی تعلیم اور تربیت دی جائے گی۔ عالمی ادراہ صحت کے مطابق اسوقت پاکستان کو کم از کم 60ہزار فیملی فزیشنز کی ضرورت ہے جن کی تعلیم وتربیت متعلقہ اداروں کیلئے یقیناً ایک بڑا چیلنج ہے۔ توقع ہے کہ کے ایم یو میں پائلٹ بنیادوں پر فیملی میڈیسن ڈپلومہ پروگرام کا آغاز نہ صرف فیملی فزیشنز کی کمی کے ازالے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ہماری دیہی آبادی کو صحت کی بہتر اور معیاری سہولیات بھی دستیاب ہوسکیں گی۔