بریکنگ نیوز
Home / کالم / خود انحصاری

خود انحصاری

انسانی زندگی میں دو طرح کے رویئے عام دکھائی دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ اپنے زور بازو پر انحصار کرو اور جو بھی روکھی سوکھی مل جائے اس پر اللہ کا شکر ادا کرو او ربہتر کے لئے تگ و دو کرواس رویئے کے لوگوں کیساتھ ہمیشہ اللہ کریم کی مدد شامل حال رہتی ہے۔ دوسرا رویہ یہ ہے کہ خود ہاتھ نہ ہلاؤاور دوسروں کی طرف دیکھتے رہو کہ وہ آپ کی کچھ مدد کر دیں اس رویئے والے لوگوں پر اللہ کریم بھی اپنی مدد کا دروازہ بند کر دیتے ہیں اور ایسے لوگ ساری عمر ذلت و رسوائی کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔ہمارے ملک کے معرض وجود میں آتے وقت دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوئی تھی‘ ایک حصہ کی کمان روس کے ہاتھ میں تھی اور اس میں شامل مملکتیں خود کو آزاد پالیسی کا حامل کہتی تھیں۔ دوسرا حصہ ان مملکتوں پر مشتمل تھا جو خود کو امریکہ کیساتھ وابستہ رکھتے تھے اور ایسے ممالک سیٹو اور سینٹو وغیرہ کے رکن تھے اور یہ روس کے نظام حکومت کے یعنی کمیونزم کے خلاف تھے جن مملکتوں کا جوڑ امریکہ کیساتھ تھاان کو سب کچھ امریکہ سے ملتا تھا جس میں خوراک کے علاوہ اسلحہ اور گولہ بارود بھی شامل تھااور یہ اسلحہ صرف اس لئے دیا جاتا تھا کہ اسے روس یا کمیونزم کیخلاف استعمال کیا جائے گاایسی مملکتوں کو خود انحصاری کی طرف جانے کی اجازت نہیں تھی اسکے مقابلے میں جو مملکتیں رو س کیساتھ تعاون میں تھیں انکو روس تکنیکی معاونت کرتا تھا اور انکو خود انحصاری کی طرف گامزن کرنے کی کوشش کی جاتی تھی چنانچہ ان ممالک میں اسلحہ کے کارخانے لگا کر دیئے گئے انکو ہر طرح سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونیکی تربیت دی گئی چنانچہ امریکہ کے حامی ممالک کو نہ تو اسلحہ بنانے کے کارخانے لگانے کی اجازت تھی اور نہ دوسرا کوئی کارخانہ کہ جس سے وہ ممالک امریکہ کے ہاتھ سے نکل جائیں ان میں ہمارا بدقسمت ملک بھی شامل تھا۔ہمیں گندم سے لیکر ہوائی جہازوں اور ٹینکوں تک امریکہ سے مل رہے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے کاہلی کو اپنا شعار بنا لیاہمارے حکمرانوں نے اپنی آمدنی کوبڑھانے کے طریقے تو اپنائے مگر ملک کو آگے لے جانیکی طرف سے غافل رہے ہمیں اس جانب سے آنکھیں کھولنے کیلئے قدرت نے ایک جنگ کی جانب دھکیل دیا1965 میں ہم پر ایک جنگ مسلط ہوئی جس میں ہمارے پاس جو ہتھیار تھے۔

انکو ہندوستان کیخلاف استعمال کرنے سے منع کر دیا گیامگر ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ ہم اس اسلحے سے اپنا دفاع کرتے۔ چنانچہ امریکہ نے ہماری اسلحے کی امداد بند کر دی وہ تو اللہ کی مدد ہوئی کہ ہندوستان خود ہی جنگ بندی کیلئے یو این او میں چلا گیا اور ہمارا بھرم رہ گیااس کے بعد ہمارے حکمرانوں کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے روس اور چین کے ساتھ معاہدے کر کے اسلحے کے کارخانے لگائے اور اپنی ضرورتوں کو پورا کرنیکی طرف خود انحصاری کی جانب قدم اٹھائے اس کے بعد بھی ہم امریکہ کے شکنجے میں ہی پھنسے رہے اور اس کیلئے ہمیں ایک اور جنگ میں جھونک دیا گیا اور امریکہ کی جانب سے کھل کر ہماری مدد کی گئی مگر جوں ہی امریکہ نے اپنے ہدف حاصل کئے اس نے ہماری جانب سے آنکھیں پھیر لیں خدا جانے یہ کیوں ہے کہ ہم اپنے ہی دفاع میں جانیں دینے کے باوجود امریکہ کے احکام کی تعمیل کے لئے مجبور ہیں ادھر ہم ایک نئے چکر میں پھنسا دیئے گئے ہیں کہ ہمارے حکمران خاندان پر مقدمات بنائے جا رہے ہیں اور اسطرح جس ترقی کی جانب ہم نے قدم بڑھائے ہیں۔

اسکا پہیہ رکنے کا خدشہ ہے اور جو سی پیک منصوبہ ہم نے شروع کر رکھا ہے اس کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے اور ہماری امریکہ کی جانب سے فوجی اور دوسری امداد جس کے معاہدے ہم سے کئے گئے ہیں ان سے انحراف کیا جا رہا ہے اور ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم اس ترقی کی جانب سے منہ موڑ لیں جو سی پیک کی صورت میں ہمیں ملنے والی ہے۔اس میں جانے یا انجانے میں ہماری سیاسی پارٹیاں بھی ملوث ہو رہی ہیں اور ان کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے ایک نیا قانون پاس کروا دیا ہے کہ پاکستان کی امداد بند کر دی جائے او راس پر ایسی شرائط عائد کی جا رہی ہیں کہ جس میں ہمیں اس سی پیک سے قدم پیچھے موڑنے پڑینگے ہو سکتا ہے کہ اس ہنگامے میں کسی کو وزارت عظمیٰ مل جائے مگر جو نقصان ہونے جا رہا ہے اسکی طرف سے سب کی آنکھیں بند ہیں جسطرح 1969 میں ہمارے ساتھ ہوا تھا کہ پاکستان ہر طرح سے ترقی کی راہ پر گامزن تھا کہ ایک نئی پارٹی بنائی گئی اور یوں وزارت عظمیٰ تو مل گئی مگر ملک کو جو نقصان ہوا اس کی تلافی ناممکن ہے۔