بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اسحاق ڈار کے جمع کردہ دستاویزات میں اہم انکشافات

اسحاق ڈار کے جمع کردہ دستاویزات میں اہم انکشافات

اسلام آباد۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے پاس بھی دبئی کا ( ورک پرمٹ ویزا ) ہے اور دبئی کے شاہی خاندان کے پاس ملازمت کرتے ہیں ۔ اسحاق ڈار نے یہ دستاویزات ایک دن قبل سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہیں جن میں انہوں نے اپنی آمدن بارے معلومات فراہم کی ہیں ۔ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی کے حکمران شیخ مبارک النیہان کے مشیر ہیں اور تین سالوں کی خدمات کے عوض 82 لاکھ پونڈ جو ایک ارب روپے بنتے ہیں بطور تنخواہ وصول کی ہے۔

یہ 82 لاکھ پاؤنڈ بنک الفلاح گلبرگ برانچ لاہور میں ڈیپازٹ کرا رکھے ہیں تاہم اسحاق ڈار نے شیخ مبارک النیہان کے ساتھ مشیر کا عہدہ اور نوکری حاصل کرنے کا کوئی سرٹیفیکیٹ یا معاہدہ پیش نہیں کیا ہے ۔ ایک سادہ کاغذ پر عدالت کو بتایا ہے کہ وہ دبئی کے حکمرانوں کا ذاتی ملازم ہے ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ دبئی کے حکمرانوں کی البرق نامی کمپنی میں ملازم ہیں تاہم انہوں نے البرق کمپنی کی پاکستان سے کاروباری معلومات فراہم نہیں کیں ۔ اسحاق ڈار نے چالاکی سے یہ معلومات جے آئی ٹی کو فراہم نہیں کی تھیں جس کا مقصد تھا کہ کہیں جے آئی ٹی ان معلومات اور دستاویزات کا فرانزک تجزیہ نہ کرائے اور اصل حقائق سامنے آ جائیں ۔

عدالت عظمیٰ آج سے اسحاق ڈار اور وزیر اعظم نواز شریف کی دبئی کے اقامہ ویزا رکھنے بارے تحقیقات کر رہی ہے یہ بدقسمی ہے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار دبئی کے اقامہ ویزا رکھنے کے ساتھ ساتھ دبئی کے حکمرانوں کے ذاتی ملازم بھی نکلے ہیں ۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے ٹیکس چوری کے لئے اپنی ایک ارب روپے کے اثاثوں اور آمدن پر عائد 17 کروڑ روپے ٹیکس قومی خزانہ میں جمع کرانے کے بجائے ہجویری ٹرسٹ کو فراہم کر دیئے ۔ اسحاق ڈار نے ہجویری ٹرسٹ میں ٹیکس چوری کے پیسے سے داتا دربار لاہور اور بری امام دربار اسلام آباد میں دیگیں تقسیم کرتے ہیں ۔