بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / مسلمان سے دوستی ٗاسرائیلی لڑکی غیرت کے نام پر قتل

مسلمان سے دوستی ٗاسرائیلی لڑکی غیرت کے نام پر قتل


رملہ۔ مسلمان شخص سے تعلقات پر اپنی نوعمر بیٹی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کرنے والے اسرائیلی شخص پر فرد جرم عائد کردی گئی۔اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی شہر رملہ سے تعلق رکھنے والے مسیحی سمی کارا کو اپنی 17 سالہ بیٹی ہینرییٹ کے ایک مسلمان شخص کے ساتھ تعلق پر اعتراض تھا۔رپورٹ کے مطابق ہینرییٹ نے اپنے مسلمان دوست کی وجہ سے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ہینرییٹ نے اپنے ایک رشتہ دار کو اپنے اسلام قبول کرنے کے ارادے کے بارے میں بتایا کہ جنہوں نے ان کے والد کو فون کرکے سب بتادیا جس کے بعد ہینرییٹ کے والد نے ان کے قتل کا فیصلہ کیا۔

ہینرییٹ کی والدہ الیہام نے پولیس کو بتایا کہ ان کے شوہر اپنی بیٹی کے رویئے سے پریشان تھے اور اسے ‘خاندان کی عزت’ کے خلاف سمجھتے تھے۔رپورٹ کے مطابق ہینرییٹ کے خاندان نے مذکورہ مسلمان شخص سے ان کا تعلق ختم کرنے کی کوشش کی جبکہ ان پر تشدد بھی کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے گھر چھوڑ دیا، تاہم دو ہفتے بعد یعنی 13 جون کو ہینرییٹ کو قتل کردیا گیا۔بتایا گیا کہ گھر چھوڑنے کے بعد ہینرییٹ نے کئی جگہوں پر پناہ لینے کی کوشش کی، انہوں نے اپنے ایک دوست کی والدہ کے گھر بھی قیام کیا تاہم گھر والوں کی دھمکیوں کی وجہ سے وہ وہاں سے بھی جانے پر مجبور ہوگئیں۔

رپورٹ کے مطابق قتل سے ایک ہفتہ قبل ہینرییٹ نے اپنی والدہ کے خلاف مقدمہ درج کروایا جبکہ اس سے قبل ایک مرتبہ والد کی جانب سے تشدد اور دھمکیاں دیئے جانے پر بھی انہوں نے پولیس کو بلوایا تھا۔ہینرییٹ کی لاش اپنے والدین کے گھر میں کچن میں پائی گئی تھی، ان کی گردن پر چاقو کے نشانات تھے۔دوسری جانب اس حوالے سے بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ ہینرییٹ کے والد سمی کارا مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں، آخری مرتبہ 2004 میں ان پر منشیات رکھنے اور اسمگلنگ سمیت دیگر الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی۔