بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پولیس ایکٹ پر عملدرآمد کیلئے قواعد تشکیل دینے کی ہدایت

پولیس ایکٹ پر عملدرآمد کیلئے قواعد تشکیل دینے کی ہدایت


پشاور ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ہدایت کی ہے کہ صوبے میں پولیس ایکٹ پر بہتر طور پر عمل درآمد کیلئے فوری طور پر قوائد و ضوابط تشکیل دیئے جائیں۔ وہ صوبے میں پولیس ایکٹ پر عمل درآمد سے متعلق آج وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری عابد سعید، آئی جی پی صلاح الدین محسود، امپلیمنٹیشن کمشنر طار ق عمر خطاب ، سیکرٹری خزانہ شکیل قادر، وزیراعلی کے پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار، سیکرٹری داخلہ سراج خان اور محکمہ قانون اور دیگر محکموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔

پولیس ایکٹ کے تحت قواعد و ضوابط کی تشکیل، پرنسپل، علاقائی اور ضلعی سطحوں پر مختلف سیفٹی کمیشنز کی تشکیل کیلئے تقاضوں ، مختلف تقاضوں کی تکمیل اور عمل درآمد کے عمل سے متعلق اُمور کا تفصیلی جائزہ اور غور و خوض کیا گیا۔شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہماری حکومت نے عوام کی خواہشات اور اُمنگوں کے مطابق پولیس کو ایک آزاد ادارہ بنانے کا ہدف کامیابی سے حاصل کرلیا ہے تاہم یہ آزادی بے قید اور مادر پدر آزاد نہیں ہونی چاہیئے اور اس میں پولیس فورس کے احتساب اور جوابدہی کیلئے خدمات کو مختلف سطح پر تحفظ دینا ضروری ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب پولیس فورس کے خلاف شکایات کی مختلف ٹائرز کمیشنز کی سطح پر بھر پور مانیٹرنگ کا نظام ہو۔

جواس فورس پر ایک چیک ہو گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پولیس ایکٹ پر بہترطورپر عمل درآمد کیلئے تمام سطحوں پر سیفٹی کمیشنز کی تشکیل کی رفتار تیز کی جائے اور کہا کہ پولیسنگ کے نظام کو موثر طور پر چلانے کیلئے سیفٹی کمیشن کے ممبران کو بھی اپنی کارکردگی فعال طو رپر دکھانی ہو گی پرویز خٹک نے مزید ہدایت کی کہ امپلیمنٹیشن کمشنر رہنمائی کیلئے ایک روڈ میپ دیں گے تاکہ صوبے میں پولیس ایکٹ پر عمل درآمد کے عمل کی موثر نگرانی کی جا سکے اور یہ مکمل شکل میں قانون کے مطابق عوام کے مسائل کے حل کیلئے موثر ہو ۔

انہوں نے کہاکہ پولیس کو اختیارات اور آزادی دینے کے حکومتی فیصلے کے بعد جرائم کے گراف میں کمی لانے میں پولیس نے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پولیس کو آزادی اور خود مختاری دینا آسان فیصلہ نہیں تھا کیونکہ ہماری سوچ ہے کہ اداروں کے قیام کے پیچھے مقاصد ہو تے ہیں اور جب یہ سیاسی اثر ورسوخ سے آزاد ہوں تو تب ہی اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں اسی سوچ کو مدنظر رکھ کر ہم نے پولیس کو خود مختار فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہم نے اداروں کو خود مختار بنا کر متعدد قابل قدر کامیابیاں حاصل کیں اوراس کامیابی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم وہ تمام اقدامات کو قانونی شکل دیں تاکہ کامیابی کا عمل مکمل اور دیر پا ہو ۔

انہوں نے کہاکہ پولیس فورس میں سزا وجزا کا عمل بھی بہت ضروری ہے تاکہ وہ مکمل طو رپر اپنی قانونی ذمہ داریوں سے انصاف کرسکیں۔ پولیس فورس میں احتساب کے عمل کو جامع اور حقیقت پسند بنانے کیلئے صوبائی، علاقائی اور ضلعی تمام سطحوں پر سیفٹی کمیشنز کی شکل میں مختلف سطح پر نگرانی اور مانیٹرنگ پولیس ایکٹ کے تحت لازمی ہے تاکہ پولیس فورس مکمل طور پر قوم کی خواہشات کے مطابق کام کر سکے ۔ انہوں نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ امپلیمنٹیشن کمیشن کو دفتر سمیت دیگر ضروری سہولیات فراہم کریں انہوں نے سیفٹی کمشنر کی تشکیل کو مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی ۔جس میں حکومتی ، حزب اختلاف اور سول سوسائٹی کے آزاد ممبران وغیرہ کی نمائندگی ہو گی ۔