بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / انتخابی اصلاحات کمیٹی کا بل منظور

انتخابی اصلاحات کمیٹی کا بل منظور


اسلام آباد۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کا بل کمیٹی نے منظور کرلیا جس پر جمعہ کے روز دستخط ہوں گے۔اسلام آباد میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کے بعد کمیٹی ارکان کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ الیکشن بل 2017 پر سب جماعتوں نے اتفاق کیا ہے اور انتخابی اصلاحات کمیٹی کا بل کمیٹی نے منظور کرلیا ہے جس پر دستخط کی تقریب جمعہ کو ہوگی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ انتخابی قوانین کی تیاری کے لیے ذیلی کمیٹی نے 90 سے زائد اجلاس کیے، انتخابی قوانین الیکشن کمیشن کی مشاورت سے بنائے گئے اور ان کی تیاری میں تمام جماعتوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔انہو ں نے کہا کہ الیکشن قوانین الیکشن کمیشن کی مشاورت سے بنائے گئے ہیں۔

ان میں 9 قوانین کو ضم کیا گیا ہے۔ تمام پارٹیوں نے بھرپور حصہ لیا۔ ان کے تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔ اسحق ڈار نے کہا کہ کوشش ہے ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے صاف شفاف انتخابات کا نفاذ ممکن ہو سکے۔ بل کی تیاری ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ الیکشن بل 2017ء پر تمام جماعتوں کا اتفاق رائے ہے۔ اور انتخابی اصلاحات کمیٹی کا بل کمیٹی نے منظور کرلیا ہے جس پر دستخط کی تقریب جمعہ کو ہوگی۔ بل کی تیاری کے بعد ذیلی کمیٹی آئینی ترمیم کے حوالے سے کام کرے گی۔ بل کے تحت سینیٹ ،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ایک جیسے انتخابات ہونگے۔ ۔اسحاق ڈار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تیاری کے لئے ایک قانون کی ضرورت تھی اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہتمام جماعتوں کا اس پر اتفاق تھا کہ بہترقوانین بنیں، کوشش ہے ایسے اقدامات کیے جائیں جس سیانتخابات کا انعقاد شفاف ہو۔ بل کی تیاری ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ تمام ارکان مبارکباد کے مستحق ہیں،میں کمیٹی کے چیئرمین اسحاق ڈار اور سب کمیٹی کے چیئرمین زاہد حامد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے انتھک محنت کی اور تمام ممبران نے بھرپور ساتھ دیا۔

جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق نے کہا کہ میں جماعت اسلامی کی طرف سے پارلیمانی اور سب کمیٹی دونوں کا ممبر تھا ہم نے سو سے زیادہ اجلاسوں میں شرکت کی۔ دو سال کی کوششوں کے بعد آج یہ رپورٹ فائنل ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کے ووٹ پرتحفظات ظاہر کیے اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ پر بھی تحفظات بتادیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے اس پر بائیو میٹرک سسٹم اوورسیز کے حوالے سے تحفظات ہیں۔ اب تک ہم نے اس پر کوئی میکانزم نہیں بنایا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس میں حکومت کی کوئی خامی تھی۔ ہم سب نے کوشش کی ہے کہ اس کا کوئی مناسب حل نکالیں لیکن ہم ابھی تک اس پر کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ 10 فیصد خواتین کے ووٹ کے حوالے سے تحفظات ہیں لیکن جو 90 فیصد کام ہوا ہے اس کو ہم سراہتے ہیں۔ الیکشن کے حوالے سے 9 قوانین کو ترتیب دے کر ایک قانون بنا دیا ہے۔ ہمارے تحفظات موجود ہیں لیکن اوورآل جو کام ہوا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ اے این پی کے رہنما ء ستارا ایازنے کہا کہ اچھے نظام کے لئے حکومت کا ساتھ دیا۔دوسری جانب تحریک انصاف نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کے اجلاس سے واک آوٹ کیا۔پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے مطالبات نہ مانے جانے پر اجلاس سے واک آوٹ کیا، کافی وقت سے حکومت کو کہہ رہے تھے لیکن وہ اصلاحات نہیں کی جارہیں، اب بنی گالا میں اجلاس کے بعد آیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے