بریکنگ نیوز
Home / کالم / جمہوریت خطرے میں؟

جمہوریت خطرے میں؟

سوا سال ہو گیا ہے کہ پانامہ کیس نے پاکستان کو مفلوج کر کے رکھا ہوا ہے۔ قوم کو عدالتی فیصلہ آنے کا انتظار ہے کیونکہ ماضی میں بھی ججوں کے ریمارکس کی بنیاد پر عوام نے یہ تاثر قائم کر لیا تھا کہ حکمران جماعت کا اقتدار ختم ہو جائیگا اور اسے کڑے احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن معاملہ لٹک گیا اور آج تک نظریں اس عدالت عظمیٰ پر ٹکی ہوئی ہیں‘ جس کی اپنی نظریں کسی اور ریاستی ادارے کی جانب سے اشارے کی منتظر ہیں! ایمپائر کی انگلی نہیں اٹھ رہی جس سے پس پردہ سودے بازی کے تاثر کو تقویت مل رہی ہے! سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کو نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں چند دن یا چند ہفتے لگ سکتے ہیں‘مگر پاناما پیپرز سکینڈل پر ہونے والی اس طویل‘ قانونی جنگ نے ملک میں جمہوری سیاست کے ارتقاء پر واضح نقوش چھوڑے ہیں اس کے علاوہ اس نے ایک جمہوری سیاست کی نشوونما میں موجود مشکلات کو بھی آشکار کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکمران جماعت اور حزب اختلاف کمرہ عدالت کے اندر اور باہر اور ٹی وی ٹاک شوز میں آپس میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں‘ تو اس دوران پارلیمنٹ بالکل غیر ضروری محسوس ہو رہی ہے۔

یقینی طور پر‘ اگر قائد ایوان نواز شریف کے گرد گھومنے والے مسائل کے حل کے لئے قانون سازوں نے اپنا کردار ادا کیا ہوتا اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو حکمران اشرافیہ کے اثر و رسوخ کے بغیر آزادانہ طور پر کام کرنے دیا گیا ہوتا تو اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ مقدمے میں اختلافی فیصلے کی وجہ سے ججوں کو وزیراعظم اور انکے خاندان کیخلاف مالی بدعنوانی کی تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کی ضرورت محسوس ہوئی ہمارے ملک کی قانونی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ جس میں سپریم کورٹ ملک کے سب سے بڑے سیاستدان کیخلاف اسطرح کا ایکشن لے۔ کئی حلقوں نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا کہ احتساب سے بالاتر لوگوں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا گیا مگر حکومتی وفاداروں کے نزدیک ان کے محبوب رہنما کے خلاف ’قوم کی بے لوث خدمت‘ کرنے پر ’عالمی سازش‘ کی جا رہی ہے۔ کابینہ ارکان بار بار یہ جملہ دہراتے ہیں کہ ’پہلے ان کی حکومت کو ایٹمی دھماکے کرنے پر ختم کر دیا گیا اور اب انہیں سی پیک شروع کرنے پر سزا دی جا رہی ہے اور اب جب سپریم کورٹ اس کیس کو انجام تک پہنچانے کے قریب ہے‘ تو چیزیں مزید پریشان کن ہوتی جا رہی ہیں۔ کچھ ’لبرل‘ عذر خواہوں کی جانب سے ایک اور سازشی مفروضہ یہ پیش کیا گیا کہ عدالتی اقدامات ملکی جمہوری نظام کو ڈی ریل کرنیکی سازش ہیں۔ نواز شریف کے پاس اس مسئلے پر پارلیمنٹ سے کلین چٹ حاصل کرنے کا موقع تھا ۔

مگر ان کے خاندان اور ان کے بیانات میں تضادات کی وجہ سے وہ اس صورتحال تک پہنچے مگر پھر بھی نواز شریف کے پاس پانچ رکنی بنچ اور پھر جے آئی ٹی میں خود کے دفاع کا موقع تھا اب کیس واپس تین رکنی بنچ کے سامنے ہے اور ان کے پاس ایک اور لائف لائن موجود ہے اسلئے ایک طاقتور وزیر اعظم کے خلاف سازش اور انہیں پھنسانے کا الزام کافی مضحکہ خیز ہے۔ مظلومیت کا کارڈ شریف خاندان کو کچھ ہمدردی دلوا سکتا ہے مگر عدالت کے سامنے یہ کارڈ نواز شریف کے کچھ کام نہیں آئیگایہ حقیقت ہے کہ ماضی میں احتساب کو سیاسی مخالفین کو پھنسانے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ فوجی حکمرانوں نے احتساب کا نعرہ لگا کر منتخب سیاسی حکومتوں کو گرایا اور سیاسی رہنماؤں کو اطاعت پر مجبور کیا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح نیب قوانین کو جنرل مشرف کی حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا۔ جن لوگوں پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد تھے‘ انہیں حکومت کے ساتھ وفاداری کا اعلان کرنے پر کابینہ میں لے لیا گیا چنانچہ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ احتساب ایک خراب لفظ بن گیا مگر وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے خلاف جاری پاناما لیکس کی حالیہ تحقیقات کو ماضی کے ہتھکنڈوں کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ درحقیقت عدالت تو سیاسی قیادت کو احتساب کا مرحلہ مزید شفاف اور معقول بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار دیکر تحقیقات مضبوط کرنے کا موقع دے رہی ہے۔

احتساب ایک مرحلہ ہے اور اسے ایک دفعہ کے اقدام یا سویلین سیاسی رہنماؤں کے خلاف مہم نہیں سمجھنا چاہئے۔ اس ملک کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تحقیقاتی اداروں کو مکمل طور پر غیر مؤثر کر دیا گیا ہے اور وہ آزادانہ طور پر اپنا کام نہیں کر سکتے۔ یہی حال دیگر سرکاری اداروں کا بھی ہے۔ ہمارے سیاسی اور عدالتی نظام میں موجود دراڑیں پاناما کیس کی وجہ سے مزید واضح ہو گئی ہیں شریف خاندان کے خلاف زیادہ تر مقدمات کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا تھا جہاں سے انہیں باہر نکالنے کی ہمت کوئی ادارہ نہ کرتا۔ دیگر سیاسی رہنما بھی قانون کی گرفت سے آزاد ہیں اس بات کا تو یقین نہیں کہ وزیر اعظم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے سے چیزیں تبدیل ہوں گی مگر اس بے مثال اقدام سے نظام میں اصلاحات اور احتساب کو مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ جج صاحبان کے آزادانہ طور پر اپنا کام کرنے سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ اگر عدالتیں اور دیگر ادارے اپنا کام نہ کریں‘ تو جمہوری نظام نہیں چل سکتا اور کیا کوئی ایسا نظام حکومت چل سکتا ہے جس میں مالی و انتظامی نظم و ضبط نہ ہو؟ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: زاہد حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)