بریکنگ نیوز
Home / کالم / تبدیلی محسوس ہوئی ہے

تبدیلی محسوس ہوئی ہے


پچھلی تین دہائیوں سے مملکت خداداد کو بتدریج مسائل و مشکلات کے بھنور کی طرف لے جانے والے مسائل پر ایک نظر ڈالی جائے توسرکاری ملازمتوں کی سفارش و رشوت کی بنیاد پربندر بانٹ کا رجحان اس فہرست میں نمایاں نظر آتا ہے بات اگر صرف اپنے صوبے کی کی جائے تو یہاں بھی نہ صرف سابق وزرائے اعلیٰ بلکہ صوبائی وزراء اور مختلف ادوار میں حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والی با اثر شخصیتیں بشمول سیاسی جماعتوں کے اکابرین اس رجحان کو تقویت دینے میں اپنا اپنا حصہ ڈالتی رہی ہیں ۔ چھوٹی سی چھوٹی سرکاری آسامی سے لے کر بڑی بڑی آسامیوں تک کے مشتہر ہوتے ہی (اگر ان کے مشتہر ہونے کی نوبت آئے تو) اِن آسامیوں کے حصول کے خواہشمند افراد کی پہلی سوچ یہی رہی ہے کہ مقصد کی تکمیل کیلئے’ تگڑی‘ سفارش تک رسائی حاصل کی جائے یا پھر آسامی’ خریدنے‘کیلئے لین دین کا ذریعہ تلاش کیا جائے جبکہ بعض مخصوص آسامیوں کے حوالے سے تو عوام کو یقین ہو چکا کہ ’بھاری نذرانے‘ کام میں لائے بغیر اِن ملازمتوں کا حصول ناممکن ہے جہاں تک پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جانے والی تقرریوں کا تعلق ہے ان میں میرٹ کو فوقیت دینے کی کوشش کی جاتی رہی تاہم ان تقرریوں کے حوالے سے بھی حکومتی اور دیگر بااثر شخصیات کے دباؤ کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں کلاس فور ملازمین کی آسامیاں عملاً اراکین صوبائی اسمبلی کی صوابدید بن چکیں جبکہ کسی بھی صوبائی سرکاری ادارے میں خالی آسامیوں پر تقرریوں کے اختیار کا متعلقہ صوبائی وزیر کا استحقاق بن جانا بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔

سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں پر تعیناتی کے لئے ٹیسٹ وا نٹرویوز میں شریک امیدواروں کی باہمی گفتگو کے دوران یہ جملہ اکثر سماعتوں سے ٹکراتا رہاہے کہ ’ کامیاب امیدواروں کی فہرست تو پہلے ہی تیار کر لی گئی ہے ، ٹیسٹ ، انٹرویو کا عمل محض قانونی تقاضوں کی تکمیل اور خانہ پری ہے‘ مختلف ادوار میں صوبائی وزراء کا اپنے اپنے محکموں کے افسران کو خصوصی ہدایت دیناکہ خالی آسامیوں کی تفصیلات تسلسل کے ساتھ انکے علم میں لائی جاتی رہیں اور’مخصوص ا فراد ‘کی تقرریوں کے لئے سرکاری محکموں میں خصوصی طور پر آسامیوں کی گنجائش نکالنا بھی اس سلسلے کی کڑی رہی۔ خالی آسامیوں کے سامنے آنے پر ان پر تقرریوں کیلئے منظور نظر امیدواراوں کی فہرستوں کا تیارہونا اور پھر ان فہرستوں کے مطابق تقرریوں کے عمل کی انجام دہی ایسی حقیقتیں ہیں جن سے بارہا پردہ اٹھ چکا۔ جذبہ دیانت کے تحت قواعد و ضوابط کی کماحقہ ٗ پابندی کی کوشش کرنے والے سرکاری افسران کی کوشش کا نتیجہ ’بے کار‘ سے عہدے پر تبادلے یا پھر او ایس ڈی بن جانے کی شکل میں سامنے آنا بھی معمول رہا ہے ویسے یہ رسک لینے والے افسران اہم عہدوں پر کم کم ہی پائے گئے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں کے وقت وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزراء اپنے اپنے طور پر اس امر کا خاص خیال رکھتے آئے ہیں کہ ان عہدوں پر ایسے افسران کی تقرری عمل میں لائی جائے جو حکومتی اکابرین کے ساتھ معاملات باہمی تعاون کی بنیاد پر چلانے میں مہارت رکھتے ہوں اور قوانین کو مصلحتوں اورضرورتوں کے مطابق توڑ موڑ کرمخصوص اہداف کی حامل شکل دینا جانتے ہوں جیسے کہ ابتداء میں ذکر ہوا یہ صورتحال کسی ایک دورِ حکومت کا عطیہ نہیں بلکہ مختلف ادوارِ حکومت میں بتدریج ارتقائی منازل طے کرتے کرتے آگے بڑھی اور اپنے پنجے گاڑتی رہی ۔

خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک صوبے میں ’تبدیلی‘لانے کے حوالے سے جن خیالات کا تسلسل کے ساتھ اظہارکر رہے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ’سرکاری ملازمتوں کی فروخت کا دور گزر چکا ،اب نوکریاں فروخت نہیں ہو رہیں بلکہ میرٹ پر اہل افراد کو دی جارہی ہیں ‘۔زیر نظر تحریر میں سرکاری آسامیوں پر تقرریوں سے متعلق ’پس منظر ‘کا جو خاکہ پیش کیا گیا ہے وہ واضح کر رہا ہے کہ پرویز خٹک اپنے قول کو فعل کی کسوٹی پر پورا اتارنے کیلئے کن کن مشکلات کا سامنا کر ر ہے ہوں گے۔بہر حال باوجود اسکے کہ موجودہ صوبائی حکومت کی اپوزیشن جماعتیں اب بھی صوبائی محکموں میں ہونے والی تقرریوں اور تبادلوں کے حوالے سے سفارش و رشوت ستانی کے الزامات عائد کر رہی ہیں، بعض حقائق ان الزامات کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں کے پی میں بھرتیوں کا عمل ’این ٹی ایس‘ سے جوڑنے اور کئی دیگر فیصلوں کی بدولت صوبے میں سرکاری ملازمتوں کی ’ خریدوفروخت ‘کے حوالے سے عوامی سطح پرشکایات میں نمایاں کمی آئی ہے اور ا س حوالے سے صورت حال بہتری کی جانب گامزن دکھائی دیتی ہے۔ البتہ ’ٹرانسفرز‘میں میرٹ کو نظر انداز کرنے اورمنظور نظر افراد کو نوازنے کی روش کے خاتمے کے معا ملے میں عوام ابھی اطمینان و یقین کی منزل سے دور ہیں لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مسئلے کا پائیدار حل ابھی مزید اقدامات کا متقاضی ہے ۔