بریکنگ نیوز
Home / کالم / دہشت گردی کے الزامات!

دہشت گردی کے الزامات!


 

امریکہ نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے مالی وسائل جمع کرنیوالی دہشت گرد تنظیموں کیخلاف اقدامات نہ کئے تو اسے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دہشت گردی پر ملکی رپورٹ برائے دوہزار سولہ کے عنوان سے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہونیوالی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو انسداد دہشت گردی کی کاروائیوں میں اہم اتحادی قرار دیتے ہوئے پاکستان کو ایسے ممالک کی فہرست میں بھی شمار کیا گیا ہے جہاں پر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں!امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ رپورٹ انیس جولائی کو کانگریس میں پیش کی جو اس محکمہ کی جانب سے دنیا بھر میں دہشت گردی اور اسکی روک تھام کے حوالے سے سالانہ جائزے کا حصہ ہے۔ کانگریس کو موصول ہونیوالی اس رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ پاکستان میں دہشتگرد کاروائیوں میں نمایاں کمی آئی جو مسلسل جاری ہے جبکہ یہ بھی الزام لگایا کہ اسلام آباد سرحد پار دہشت گردی کی کاروائیاں کرنیوالے گروپوں کو روکنے میں ناکام رہا۔امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس میں پیش کی جانے والی مذکورہ سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک میں شمار کیا جو دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔ لشکر طیبہ اور جیش جیسی تنظیمیں دوہزار سولہ کے بعد بھی پاکستان سے چلائی جا رہی ہیں انہیں منظم کرنے کے ساتھ مالی مدد فراہم کی جارہی ہے۔ سوال چاہے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ہو‘ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کا ہو‘ ایف سولہ کی فروخت کا ہو یا پھر القاعدہ کے مطلوب رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا‘ پاکستان امریکہ کی مخاصمت اور دوغلی پالیسی کا ہمیشہ شکار رہا ہے۔ پاکستان کیخلاف طویل مدتی اقتصادی پابندیاں‘ ایف سولہ کی ادا شدہ رقم کی واپسی سے انکار‘ یہ سب امریکہ کے ماضی کے پاکستان سے معاندانہ رویئے کی واضح دلیلیں ہیں۔ فریب کاری ایسی کہ اسکا مشرقی پاکستان کی حفاظت کیلئے روانہ کیا جانے والا بحری بیڑہ اُنیس سو اکہتر سے آج تک نہیں پہنچ سکا اور کہیں لاپتہ ہو گیا۔ امریکہ پاکستان میں ان تمام جماعتوں کا منفی کردار تو نظر آجاتا ہے مگر وہ بھارت کی دہشت گردی‘ کشمیر میں خونریزی اور گاؤ رکھشا کے نام پر جاری مظالم پر خاموشی اختیار کئے رکھتا ہے۔ دوسری طرف اگر اتنی بڑی افغان فوج نیٹو اور اسکے اتحادی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود دو تہائی افغان طالبان کے زیراثر ہے اور وہاں ہر دوسرے دن دہشت گردی کے واقعات اور خودکش حملے ہوتے ہیں تو پاکستان سے یہ توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ ہم دہشت گرد عناصر کا قطعی خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ جہاں تک پاکستان کی سیاسی قیادت کی پالیسیوں اور عسکری کاروائیوں کا تعلق ہے‘ اس کی کامیابیوں سے انکار ممکن نہیں حال ہی میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ نے ردالفساد میں توسیع کرتے ہوئے خیبر فور نامی فوجی کاروائی کا آغاز کردیا ہے جسکا مطمع نظر پاکستان کے چپے چپے سے دہشت گرد عناصر کی بیخ کنی ہے۔بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دہشت گردی سمجھتا ہے۔

پاکستان کو بھی وہ کشمیریوں کی اس تحریک کی اخلاقی و سفارتی مدد پر دہشت گردوں کا پشت پناہ قرار دیکر دہشت گرد ریاست ڈکلیئر کرانے کیلئے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کررہا ہے بھارت کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر عالمی برادری نے پاکستان پر جماعت الدعوۃ اور جیش پر پابندی کیلئے دباؤ ڈالا پاکستان نے اس کے باوجود عالمی برادری کے کہنے پر پابندیاں عائد کردیں جبکہ ان تنظیموں کا اس دہشت گردی سے قطعی تعلق نہیں جسکے خلاف امریکہ کی قیادت میں جنگ جاری ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں امریکہ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی میں بتدریج کمی ہوئی ہے۔ ساتھ ہی حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کیخلاف خاطرخواہ کاروائی نہ کرنے کا الزام بھی عائد کردیا۔ پاکستان میں دہشت گردی کیخلاف بلاامتیاز آپریشنز سے دہشت گردی میں کمی ہوئی پاکستان میں افغانستان سے دہشتگرد داخل ہو کر کاروائی کرتے ہیں۔ پاکستان میں چھپے ہوئے دہشت گرد جہاں پاکستان کو نشانہ بناتے ہیں‘ وہیں وہ بارڈر پار بھی اپنے اہداف کو ٹارگٹ کرنیکی کوشش کرتے ہیں۔یہ پاکستان کو بھی مطلوب ہیں۔ بارڈر کے دونوں اطراف موجود اورپاکستان کو مطلوب دہشت گردوں کی نقل و حرکت بارڈر مینجمنٹ کے باعث محدود ہوئی ہے جس سے پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کم ہوچکی ہے۔

پاکستان نے بارہا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پیشکش کی ہے کہ اگر انکے پاس دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے کوئی ثبوت ہے تو پاکستان کو دیں‘ پاکستان ان کے خلاف کاروائی کے لئے تیار ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے قلع قمع میں افغان سرحد پر دیوار کی تعمیر اور باڑ کی تنصیب سے مدد مل سکتی ہے جسکی افغانستان مخالفت کررہا ہے امریکہ بارڈر مینجمنٹ میں پاکستان سے تعاون کرے تو دہشت گردوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: نیاز اے خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)