بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سپریم کورٹ وزیراعظم کو نااہل کرنے میں بے اختیار ہے ٗعرفان قادر

سپریم کورٹ وزیراعظم کو نااہل کرنے میں بے اختیار ہے ٗعرفان قادر


اسلام آباد۔سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا ہے کہ اگر پانامہ عملدرآمد بینچ عدالتی مثالوں پر عمل کرتا ہے اور وزیراعظم کو نااہل قرار دیتا ہے تو یہ نا اہلی آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہو گی آئین اور قانون کے تحت سپریم کورٹ کو کوئی ایسا اختیار حاصل نہیں کہ وہ وزیراعظم کو نا اہل کر سکے ۔عدالت الیکشن کمیشن کو بھی ریفرنس نہیں بھیج سکتی ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی بھیج سکتے ہیں آرٹیکل 62,63 کے تحت نا اہلی کے حوالے سے واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ معاملہ سپیکر قومی اسمبلی طے کر یں گے کہ آیا کوئی نا اہلی کا سوال پیدا ہوا ہے کہ نہیں عدالت کو اس کا اختیار سرے سے دیا ہی نہیں گیا۔

ان خیالات کا اظہار عرفان قادر نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایک سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار ہے اور دوسرا عدالتی نظیریں ہیں گزشتہ دور حکومت میں سپریم کورٹ اپنے دائرہ اختیار سے باہر نکل گئی تھی اور بہت سے ارکان ا سمبلی کو نااہل قرار دے دیا تھا اگر پانامہ کیس سننے والے تین جج صاحبان عدلتی نظیروں پر عمل کریں گے تو پھر ان کو بھی دائرہ اختیار سے باہر نکلنا ہوگا اگر یہ عدالتی نظریوں پر عمل نہیں کرنا چاہتے تو پھر ان کو چیف جسٹس کے پاس کیس بھیجنا پڑے گا اور یہ لکھ کر بھیجنا پڑے گا کہ ماضی کی عدالتی مثالیں آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہیں۔
اس صورت میں چیف جسٹس صاحب لارجر بینچ تشکیل دے سکتے ہیں اور یہ بینچ ماضی کے عدالتی فیصلوں میں نقائص کا جائزہ لے سکتے ہیں اور ان نقائض کو دور کر سکتے ہیں اور اگر پانامہ بینچ عدالتی مثالوں پر عمل کرتا ہے اور وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیتا ہے تو یہ نا اہلی آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہوگی۔اس پر حکومت کا کیا رد عمل ہوتا ہے حکومت کہہ سکتی ہے ہم تو قانون اور آئین پر عمل کریں گے پھر یہ سارے مسائل سامنے آئیں گے۔

پاکستان مشکل صورتحال میں آ گیا ہے ایک طرف قانون اور آئین ہے اور دوسری طرف عدالتی مثالیں ہیں جو آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہیں اسی صورتحال کے تحت جج صاحبان فوری فیصلہ نہیں سنا سکے اور انہوں نے فیصلہ سنانے کا وقت نہیں بتایا یہ پاکستان کی عدلیہ کا بڑا امتحان ہے کہ وہ آئین اور قانون کا ساتھ دیتے ہیں یا وسط مدت میں اپنی ساکھ بچانے کے لیے وہی فیصلہ کرتے ہیں جو فیصلہ انہوں نے ماضی کی حکومتوں میں دیا ہے یہ سیاستدانوں کا بھی بڑا امتحان ہے کہ وہ آپس میں اسی طرح سیاست کھیلتے یا وہ چاہتے ہیں کہ آئین اور قانون کی پاسداری ہو اور اس طرح کے معاملات آئین اور قانون کے مطابق طے ہوں اور ارکان اسمبلی کی نا اہلی آئین اور قانون کے مطابق طے ہو یہ ساری چیزیں عدالت کے بھی سامنے ہیں اور پاکستانی قوم کے بھی سامنے ہیں اور سیاستدانوں کے بھی سامنے ہیں ان کا کہناتھا کہ جے آئی ٹی کسی قانون کے تحت نہیں بنائی گئی۔

ایسا کوئی قانون ہے نہیں کہ کوئی جے آئی ٹی بنے ،میں تو تین ججوں کے آرڈر جس میں انہوں نے چیف جسٹس کو سفارش کی کہ آپ عملدرآمد بینچ بنائیں، میں تو چیف جسٹس پر حیران ہوں کہ انہوں نے عملدرآمد بینچ بنا کیسے دیا کہ ایک کیس کا فیصلہ ہی نہیں اور عملدرآمد بینچ بنا دیا عملدرآمد بینچ اس وقت بنایا جاتا ہے جب کوئی حتمی فیصلہ ہو پھر اس پر عملدرآمد کروایا جاتا ہے عملدرآمد بینچ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر عملدرآمد کروا کر فیصلہ کرے گا اس طرح کی کوئی نظیر نہیں ملتی ان کا کہنا تھا کہ ابھی تو یہ بھی ہیں تین جج فیصلہ کے لیے بیٹھیں گے یا پانچ جج بیٹھیں گے اس قدر اس فیصلہ میں ابہام پیدا ہو گیا ہے ۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ یہ منفرد کیس نہیں اسی طرح کے الزامات چیف جسٹس کے بیٹے پر بھی لگے تھے اور چیف جسٹس کو ان کے بیٹے سے علیحدہ کر دیا گیا تھا عرفان قادر کا کہنا تھا کہ آئین میں آرٹیکل 62,63 کے تحت نا اہلی کے حوالے سے واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ یہ معاملہ سپیکر قومی اسمبلی طے کریں گے کہ آیا کوئی نا اہلی کا سوال پیدا ہوا ہے کہ نہیں عدالت کو اس کا اختیار سرے سے دیا ہی نہیں گیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کا تعین آرٹیکل 175 کی شق 2 میں کیا گیا ہے اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کی کسی عدالت کو بشمول سپریم کورٹ کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا ماسوائے اس اختیار کے جو قانون اور آئین نے اس کو دیا ہو آئین اور قانون میں کوئی سپریم کورٹ کو وزیراعظم یا کسی رکن اسمبلی کو نااہل کرنے کا نہیں اختیار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا جاتا ہے تو اس پر صدر مملکت براہ راست کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کسی رکن اسمبلی کو نا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا اگر حکومت،پارلیمنٹ اور صدر مملکت چاہیں تو اس طرح کے فیصلوں پر عملدرآمد روک سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کے تحت سپریم کورٹ کو کوئی ایسا اختیار حاصل نہیں کہ وہ اسے نا اہل کر سکے ان کا کہنا تھا کہ عدالت الیکشن کمیشن کو بھی ریفرنس نہیں بھیج سکتی ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی بھیج سکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ آ رٹیکل 190 کے تحت پاکستان کے تمام جوڈیشل اور ایگزیکٹو حکام سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے پابند ہیں وہاں مقننہ اور سپیکر پر ایسی کوئی پابندی عائد ہیں ہوتی اس لیے لفظ عدالتی اور انتظامی حکام کا لکھا ہے وہاں پر مقننہ کا لفظ نہیں ہے مقننہ تمام قوانین کا سرچشمہ ہے تمام عدالتیں اور تمام قوانین مقننہ نے بنانا ہیں مقننہ چاہے تو آئین میں ترمیم کر کے سارے ججز کو گھر بھی بھیج سکتی ہے یہ تمام اختیارات مقننہ کے پاس ہیں لہٰذا عدالت مقننہ کے بنائے ہوئے قانون اور آئین سے انحراف نہیں کر سکتی۔