بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / افغان امن مذاکرات کی خواہش

افغان امن مذاکرات کی خواہش

افغانستان میں ہر گزرتے د ن کیساتھ امن وامان کی صورتحال نہ صرف مخدوش ہوتی جا رہی ہے بلکہ افغان حکومت اپنی اس ناکامی کو ایک برسرزمین حقیقت تسلیم کرنے کی بجائے اپنی اس نا اہلی اور ناکامی کا ملبہ مسلسل پاکستان پر ڈال کر سمجھتی ہے کہ اس الزام تراشی سے وہ اپنی ناکامی چھپانے میں کامیاب ہو جائیگی حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے ساری دنیا اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور وہ اس جنگ میں خود بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھا چکا ہے لہٰذا اس سے یہ توقع رکھنا کہ اسے اپنے ہاں دہشت گردی پر قابو پانے کیساتھ ساتھ افغانستان میں قیام امن کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھا لینا چاہئے تواس خواہش کو دیوانے کا خواب تو سمجھا جا سکتا ہے اسے مسلمہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کے مطابق ہر گز قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ہمیں یہ تمہید افغان حکومت کی جانب سے طالبان کو مذاکرات پر راضی کرنے کیلئے گزشتہ روز افغان سفیر ڈاکٹر عمر زاخیل وال کی مولانا سمیع الحق سے ہونیوالی ملاقات کے تناظر میں باندھنی پڑی ہے واضح رہے کہ افغان حکومت نے عمر زاخیل وال کے ذریعے مولانا سمیع الحق سے افغانستان میں قیام امن کیلئے افغان طالبان پر اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنے کیلئے پچھلے چند ماہ کے دوران چوتھی بار رابطہ کیا ہے۔ تاہم مولانا سمیع الحق کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانانے افغان سفیر پر واضح کردیا ہے کہ ا فغان حکومت جب تک افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کا کوئی شیڈول نہیں دیگی تب تک طالبان کسی قسم کے مذاکرات پر راضی نہیں ہوں گے۔

مولانا کا یہ بھی کہنا تھا کہ بات چیت کے آغاز کیلئے امریکہ اور افغان حکومت کو اپنے روئیے میں لچک پیدا کرنی ہوگی افغان طالبان ایک ایسا سر بستہ راز ہیں جن پر پچھلے اٹھارہ سال کے دوران نہ تو عالمی دہشت گردی کا کوئی الزام ثابت کیا جا سکا ہے اور نہ ہی امریکہ اور اس کے اتحادی تمام ترجدید ٹیکنالوجی اور جنگی ساز وسامان کے استعمال کے باوجود طالبان کے عزم وحوصلے کو پست کر سکے ہیں۔یہ باتیں کافی عرصے سے زیر گردش ہیں کہ امریکہ طالبان کیساتھ مذاکرات کا خواہش مند ہے لیکن اسکی اس خواہش کی کمندعین اس مقام پر آ کر ٹوٹ جاتی ہے کہ طالبان کو مذاکرات سے پہلے اپنا اسلحہ پھینک کر نہ صرف موجودہ افغان سیٹ اپ کو من وعن تسلیم کرنا ہوگا بلکہ افغانستان میں امریکی موجودگی اور اس کے قائدانہ کردار کو بھی ماننا ہو گا سوال یہ ہے کہ جب طالبان اسلحہ پھینک کر مسلح مزاحمت سے دست کش ہوجائینگے اور وہ موجودہ افغان سیٹ اپ جو امریکی بیساکھیوں پر کھڑا ہے کو بھی تسلیم کر لیں گے اور انہیں افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی اور ان کے کردار پر بھی کوئی اعترض نہیں رہے گا تو پھر وہ امریکہ اور افغان حکومت سے مذاکرات کس بات پر کریں گے دو سال قبل جب دوحامیں طالبان سے امن مذاکرات کی بات چلی تھی تواس وقت طالبان نے بھی اپنی کچھ پیشگی شرائط امریکہ کے سامنے رکھی تھیں۔

جن میں بعض سرکردہ طالبان قیدیوں کی رہائی‘اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے طالبان رہنماؤں کے ناموں کا اخراج اور طالبان سے سفری پابندیوں کا خاتمہ شامل تھا جن کا آج تک امریکہ نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا ہے لہٰذا اس پس منظر کے ساتھ اگر امریکہ طالبان سے کسی قسم کے مذاکرات کا خواہاں ہے تو اس بیل کے منڈھے چڑھنے کے فی الحال دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آتے افغان حکومت طالبان سے مذاکرات کیلئے جس غیر سفارتی اور غیر حقیقی انداز میں مولانا سمیع الحق کا کندھا استعمال کرنا چاہتی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ان مذاکرات کے مستقبل میں کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں بلکہ عین ممکن ہے کہ مولانا سمیع الحق کی جانب سے کوئی مثبت اشارہ ملنے کی صورت میں افغان حکومت اس آمادگی کو پاکستان کے خلاف بطور چارج شیٹ اسی طرح استعمال کر سکتی ہے جس طرح بھارت مولا نا مسعود اظہر‘سید صلاح الدین اور حافظ سعید کے ناموں کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی تحریک مزاحمت سے جوڑکر پاکستان کیخلاف بطور پروپیگنڈا اور عالمی دباؤ ڈالنے کیلئے استعمال کرتا ہے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ افغان حکومت کو پاکستان متعدد مرتبہ یہ باور کرا چکا ہے کہ اگر وہ افغانستان میں پائیدار اور مستقل امن کی خواہاں ہے تو اسے اگر ایک طرف طالبان کے وجودکو قبول کرتے ہوئے براہ راست افغان طالبان سے رابطہ کر کے ان کی شرائط اور مطالبات پر مثبت رد عمل دینا چاہئے تو دوسری جانب افغان حکومت کو افغانستان کی نازک صورتحال اور یہاں بھارت اور امریکہ کی جانب سے پاکستان اورچین کیخلاف لڑی جانیوالی پراکسی جنگوں کے تناظر میں بھی صرف طالبان سے مذاکرات کی بجائے امریکہ ‘چین ‘پاکستان اور افغان حکومت کے چار فریقی مذاکراتی عمل کی بحالی اور اسے نتیجہ خیز بنانے کے لئے فضاء کو ساز گار بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔