بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / انٹر ی ٹیسٹ

انٹر ی ٹیسٹ

خیبرپختونخوا کے سرکاری و نجی میڈیکل کالجز میں داخلے کے خواہشمند امیدواروں کیلئے ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایولویشن ایجنسی کے زیراہتمام انٹری ٹیسٹ کا انعقاد معمول کے مطابق ہوا جس میں مجموعی طورپر33ہزار53 طلباء وطالبات نے حصہ لیا ان میں بیس ہزار اکتالیس طلباء اور تیرہ ہزار گیارہ طالبات کو امید ہے کہ انہیں طب کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع میسر آئے گا۔ بنیادی سوال اپنی جگہ ہے کہ ’پے در پے امتحانی بورڈز‘‘ جیسے کڑے مراحل سے گزرنے والے طلباء و طالبات کی ذہانت و اہلیت جانچنے کے لئے انٹری ٹیسٹ کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے اور اگر انٹری ٹیسٹ ہی اہلیت و قابلیت جانچنے کا درست معیار ہے تو پھر امتحانی بورڈز کی ضرورت کیا ہے؟ انٹری ٹیسٹ کے لئے اِمتحانی طریقۂ کار بھی غیرمنطقی ہے جبکہ طلباء و طالبات بالخصوص سرکاری سکولوں سے فارغ التحصیل ہونے والوں کے لئے انٹری ٹیسٹ اوبجیکٹو ٹائپ (ایم سی کیوز) سوالات سمجھنا اور وقت و منفی نمبروں کا نفسیاتی دباؤ الگ سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بورڈ امتحانات میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد انٹری ٹیسٹ نتائج ملتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہے! بارہ سال کی تعلیم اور بالخصوص میٹرک کے بعد دو سال کی تعلیم کا نچوڑ چند گھنٹوں میں پیش کرنے کا مطالبہ کہاں کا انصاف ہے؟

انٹری ٹیسٹ کا تصور پیش کرنے سے لیکر اسے جاری و ساری رکھنے کے درپردہ کئی ایسے محرک بھی ہو سکتے ہیں جن میں تعلیم کو ہر گزرتے دن مہنگا کیا جا رہا ہے کہ یہ عام اور متوسط آمدنی والے طبقات کی قوت خرید سے باہر ہو جائے۔ انٹری ٹیسٹ میں حصہ لینے والوں کو کامیاب یا ناکام قرار نہیں دیا جاتا بلکہ انہیں نمبر دے دیئے جاتے ہیں جن پر بعدازاں سرکاری و نجی کالجوں کے داخلوں کو تقسیم کیا جاتا ہے جہاں میرٹ کیلئے داخلی امتحانی نظام کی جگہ بطور متبادل انٹری ٹیسٹ نے لے لی ہے جبکہ نجی اداروں کے مقابلے سرکاری کالجوں میں نشستیں بڑھانے اور بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ و اہلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ تو مزید میڈیکل کالجز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور نہ ہی انٹری ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو اس بات کی ضمانت دی جاتی ہے کہ وہ انہیں طب کے شعبے میں تعلیم کیلئے داخلہ مل پائے گا انٹری ٹیسٹ کے فیصلہ سازوں کی اپنی قابلیت کیا ہے اور کیا وہ بھی کسی ایسے ہی انٹری ٹیسٹ کی بدولت فیصلہ سازی کے منصب پر فائز ہوئے ہیں اور آسانیاں پیدا کرنیکی بجائے مشکلات پر مشکلات بنانے کو اپنی کارکردگی سمجھتے ہیں! تصور کیجئے کہ دن رات محنت کرنیوالے طلباء و طالبات امتحانی بورڈ میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرتے ہیں جن کا ذرائع ابلاغ میں خوب چرچا کیا جاتا ہے لیکن پھر اچانک یہ قابلیت کافی نہیں سمجھی جاتی اور چند گھنٹے کے ایک ایسے امتحان کو کسوٹی قرار دے دیا جاتا ہے جو مقررہ وقت کے انتہائی دباؤ اور ناکافی سہولیات کے ماحول میں لیا جاتا ہے اصلاح ضروری ہے۔

انٹری ٹیسٹ میں حصہ لینے والوں کی رہنمائی سے لیکر انہیں امتحانی مراکز میں بنیادی سہولیات کی فراہم نہ ہونے کا نوٹس کون لے گا اور اس سلسلے میں شکایت کس سے کی جائے؟ انٹری ٹیسٹ کے کوچنگ مراکز مشرومز کی طرح ہر ضلع میں پھیلے ہوئے ہیں جہاں بھاری فیسیں ادا کرنے والوں کو تربیت دی جاتی ہے کہ انہوں نے کس طرح سوالات میں چھپے سوالات کو کھوج کر صرف اور صرف سوفیصد درست جوابات ہی کا انتخاب کرنا ہے۔ کم آمدنی والے اور بالخصوص سرکاری سکولوں کالجوں سے فارغ التحصیل طلباء و طالبات کیلئے مالی طور پر ممکن نہیں ہوتا کہ وہ ایسی مہنگے داموں تربیت گاہوں سے استفادہ کریں تو کیا اس سلسلے میں صوبائی محکمۂ تعلیم سے مطالبہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ نہ صرف انٹری ٹیسٹ کے ناجائز وجود کا نوٹس لے بلکہ سرکاری اداروں کے طلباء و طالبات کی رہنمائی کا بھی بندوبست ہونا چاہئے؟ رواں ہفتے تئیس جولائی کو ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کالج کو بھی انٹری ٹیسٹ کا امتحانی مرکز قرار دیا گیا جہاں سینکڑوں کی تعداد میں آنے والے امیدواروں کے ہمراہ ہزاروں کی تعداد میں اہل خانہ اور گاڑیوں کے ہجوم نے ایبٹ آباد کی ٹریفک کا نظام تہس نہس کر کے رکھ دیاانٹری ٹیسٹ کے موقع پر ٹریفک پولیس کسی قسم کی رہنمائی کا انتظام نہیں کرتی اور نہ ہی دیگر شہروں سے بالخصوص پہلی مرتبہ آنے والوں کے لئے بورڈ آویزاں کئے جاتے ہیں! اِس کوتاہی کی وجہ سے یونین کونسل میر پور سے منڈیاں اور منڈیاں سپلائی سے ایوب کمپلیکس ہسپتال آمدورفت کرنے والوں کو تمام دن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔