بریکنگ نیوز
Home / کالم / مطالبات‘ ہڑتال اور ترقی

مطالبات‘ ہڑتال اور ترقی

جمہوری ممالک میں اپنے مطالبات منوانے کے لئے ہڑتال کو ایک کامیاب ہتھیارکے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔عموماً ملازمین کی ہڑتالیں اپریل‘ مئی اور جون میں کی جاتی ہیں تاکہ آنے والے بجٹ میں ملاز مین کیلئے سہولیا ت کا اعلان ہو سکے یا ہڑتال الیکشن کے قریب کی جاتی ہے تاکہ آئندہ کے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ ووٹروں کو اپنی جانب مائل کیا جا سکے بعض دفعہ ملازمین ایسے وقت میں ہڑتال پر چلے جاتے ہیں کہ جب اسکا کوئی موقع نہیں ہوتااس ہڑتال کا مقصد صرف قوم کی چلتی گاڑی کا پہیہ روکنا ہوتا ہے ابھی بجٹ کے پیش ہونے کا زیادہ عرصہ نہیں گزرا اور جو وعدے بجٹ میں ملازمین کے ساتھ کئے گئے ہیں ان کا اطلاق ہو چکا ہے اور اس ماہ یعنی جولائی سے تنخواہوں میں اور دیگر مراعات کا اطلاق شروع ہو گیا ہے ۔ ایسے میں اگر ملازمین کا کوئی گروہ ہڑتال پر جاتاہے تو اسے ان کے جائز مطالبات کی خاطر ہڑتال پر جانا نہیں کہا جائے گا بلکہ ہماری نظر میں یہ ایک سازش کا حصہ ہو گااس لئے کہ کم یا زیادہ جو بھی مراعات ملازمین کو دی جانی تھیں وہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے دے دی ہیں اب اس پر عمل درآمد کا وقت ہے ایسے میں ہڑتال کروانا اور مطالبات پیش کرنا قوم کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ہم جانتے ہیں کہ کئی سالوں سے کچھ ادارے مسلسل نقصان میں جا رہے ہیں ان میں پاکستان سٹیل ملز‘ پی آئی اے اور ریلوے شامل ہیں ان میں اصلاحات تو کی گئی ہیں مگر جن اداروں میں پی پی پی اور ق لیگ نے اپنے کارکنوں کو ’’گھسیڑا‘‘ تھا ان میں ا ب تک بہتری کی کوئی امید اس لئے نہیں کہی جا سکتی کہ نہ تو ان کو نکالا جا سکتا ہے اور نہ ان سے کام لیا جا سکتا ہے اسلئے کہ جونہی حکومت وقت ان پر ذرا سی بھی سختی کرتی ہے تو انکو گھسیڑنے والے ہنگامہ برپا کر دیتے ہیں اور سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے حکومت اس کام سے باز رہ جاتی ہے اور وہ لوگ اسی طرح اداروں کی تباہی کا ذریعہ بنے رہتے ہیں ایسے لوگوں کو سیاسی طور پر ملازمتیں دی گئی ہیں کہ جن کو اپنے کام کا کوئی علم ہی نہیں تھااور ایسے لوگوں کو نکال باہر کیا گیا ہے جو کاموں میں ماہر تھے اور ایک ایک ویکنسی پر دس دس آدمیوں کو بھرتی کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ تم ہی اس ادارے کے اصل مالک ہو اور جب مزدور کو مالک بنا دیا جائے گا تو کیا ادارے کی تباہی میں کوئی کسر رہ جائے گی ؟ اس کا سوچنا بھی محال ہے۔

اگر ایک ان پڑھ آدمی کوخزانے کاہیڈ بنا دیا جائے گا تو خزانے پر جو اثر پڑے گا وہ ایک جاہل شخص بھی جان سکتا ہے اداروں کیساتھ یہی کچھ ہوا ہے اگر ایک ہوائی جہاز کیلئے عملے کی ضرورت دس افراد تھی تو وہاں پر تین سو آدمیوں کو بھرتی کر دیا گیا اب دس تو کام والے ہونگے اور دو سو نوے صرف بیٹھ کر روٹیاں توڑنے والے ہوں گے ایسے میں وہ دس بھی خود کو آرام دینے کا ہی سوچیں گے اس طرح تین سو آدمی تنخواہ وصول کر رہے ہوں گے مگر کام ایک ٹکے کا بھی نہیں ہو رہا ہو گا تو ادارے کو نقصان نہیں ہو گا تو کیا ہو گا۔ پی پی پی کو یہ فخر ہے کہ اس نے لوگوں کو نوکریاں دیں بے روزگاری کو دور کرنے کے اقدامات کئے یہ ان کے لئے فخر کی بات تو ہے مگر جن اداروں میں ان لوگوں کو نوکریاں دی گئیں ان کا کیا حال ہوا اس کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔

اگر کسی دوسری حکومت نے ایسے ناکارہ لوگوں کو نکالا تو جب دوبارہ پی پی پی حکومت آئی ان سب لوگوں کو نہ صرف اپنے عہدوں پر بحال کیا گیا بلکہ جس عرصہ کے لئے ان کو باہر نکالا گیا اس عرصے کی تنخوا ہ بھی ان کو دی گئی اس طرح ادارے کو معاشی طور پر تباہ کر دیا گیا۔ موجودہ حکومت کے وزیر ریلوے نے بلا شبہ دن رات محنت کر کے ریلوے کو خسارے سے نکال کر فائدے میں ڈال دیا اس میں وزیر کے علاوہ عملے کی بھی کوششوں کو سراہا جانا چاہئے۔اس میں شک نہیں کہ ریلوے ملازمین نے بھی ریلوے کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیااور حکومت نے بھی ریلوے ملازمین کے جائز مطالبات کا ہمیشہ خیال رکھا اور یہی وجہ ہے کہ حکومت اور ریلوے کے عملے نے مل کر یہ کارنامہ سر انجام دیا مگر اب کچھ لوگوں نے حکومت کے جانے کا سن کر اپنے کرتوتوں کا دوبارہ اعادہ شروع کر دیا ہے جس میں ریلوے کے انجن ڈرائیوروں کی موجودہ ہڑتال بھی شامل ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وقت ایسی ہڑتال کا نہیں ہے جو مقام عملے نے دن رات محنت سے ریلوے کو دیا ہے اسے ہڑتالوں کی وجہ سے ضائع نہیں ہونا چاہئے۔