بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / جہانگیر ترین کے وکیل سے 5سوالوں کے جواب طلب

جہانگیر ترین کے وکیل سے 5سوالوں کے جواب طلب

اسلام آباد۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے جہانگیر ترین نا اہلی کیس کی سماعت پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرضی باتوں پر کسی کو کیسے نا اہل کر سکتے ہیں، جہانگیر ترین کو جاری شوکاز پر عمل ہی نہیں ہوا، جرمانہ ادائیگی پر ایس ای سی پی اور جہانگیر ترین کا معاملہ ختم ہو گیا، جو معاملہ ختم ہو گیا اس پر آرٹیکل 62کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟کیا کوئی صرف جرمانہ دینے پر صادق اور امین نہیں رہتا؟آپ چاہتے ہیں کہ ہم کہہ دیں 12سال بعد جہانگیر ترین صادق نہیں رہے،عدالت نے جہانگیر ترین کے وکیل سے 5سوالوں کے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت (آج) جمعرات تک ملتوی کر دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کو سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق حنیف عباسی کی درخواست پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیاہر پارلیمنٹرین کے خلاف کیس براہ راست سپریم کورٹ لایا جاسکتا ہے۔

آج جہانگیر ترین کل کسی اور رکن اسمبلی کے خلاف درخواست آئے گی، ملک میں دوسرے فورمز کی موجودگی میں کیس یہاں لایا جاسکتا ہے؟ وکیل نے کہا کہ پانامہ کیس آف شور کمپنیوں کے باعث یہاں لایا گیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا پانامہ کو بنیاد بنا کر یہاں کیس سنیں؟ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین نے زرعی اراضی پر ٹیکس ادا نہیں کیا،جہانگیر ترین کے خلاف چار آئینی گراؤنڈز ہیں، جہانگیر ترین اثاثے ظاہر نہ کرنے پر صادق اور امین نہیں، جہانگیر ترین نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے بچوں کی آف شور کمپنیاں ہیں۔ عاضد نفیس نے کہا کہ جہانگیر ترین نے آف شور کمپنیاں اور لندن اثاثے ڈیکلیئر نہیں کئے، جہانگیر ترین نے اپنی آمدن چھپائی‘ زرعی ٹیکس ادا نہیں کیا، جہانگیر ترین کی کمپنی نے 49 ملین کا قرضہ معاف کردیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا کسی اور رکن اسمبلی کا نام بھی پانامہ لیکس میں آیا۔

عاضد نفیس نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق اور کسی ممبر اسمبلی کا نام پانامہ کیس میں نہیں۔ یونائیٹڈ شوگر مل کے شیئر جہانگیر ترین نے خریدے یونائیٹڈ شوگر مل کی خریداری کے وقت جہانگیر ترین وزیر انڈسٹری کے عہدے پر تھے۔ عدالت نے کہا کہ جن دستاویزات پر آپ انحصار کررہے ہیں وہ آپ نے کیسے حاصل کیں۔ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جو پبلک دستاویزات ہیں جہانگیر ترین کے خلاف غیر امانت داری کا مکمل کیس ہے۔ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین کے خلاف الزامات تسلیم شدہ ہیں ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ مہربانی کرکے آرٹیکل 62 کی شق ایف ون پڑھیں۔آرٹیکل 62 کی شق ایف ون میں کورٹ آف لاء کا ذکر ہے۔ وکیل نے کہا کہ ایس ای سی پی ریگولیٹری ادارہ ہے، اگر ایس ای سی پی کوئی فیصلہ دے تو وہ بھی کورٹ آف لاء کی طرح ہو گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ فرضی باتوں پر کسی کو کیسے نا اہل کر سکتے ہیں۔ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین کو ایس ای سی پی نے قصور وار قرار دیا تھا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جہانگیر ترین کس طرح فراڈ کے مرتکب ہوئے؟نقصان کس کو ہوا اور کیسے ہوا؟یہ بھی واضح کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر ترین کو جاری شوکاذ پر عمل ہی نہیں ہوا، جرمانہ ادائیگی پر ایس ای سی پی اور جہانگیر ترین کا معاملہ ختم ہو گیا، جو معاملہ ختم ہو گیا اس پر آرٹیکل 62کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟کیا کوئی صرف جرمانہ دینے پر صادق اور امین نہیں رہتا؟آپ چاہتے ہیں کہ ہم کہہ دیں 12سال بعد جہانگیر ترین صادق نہیں رہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ جہانگیر ترین نے بظاہر کسی کے ساتھ فراڈ نہیں کیا، جرمانہ تو انکم ٹیکس قوانین میں بھی ہوتا ہے۔ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین کا جرم معمولی نوعیت کا نہیں تھا، ایس ای سی پی نے قانون کے مطابق معاملہ آگے نہیں چلایا، معاملہ آگے چلاتا تو جہانگیر ترین کمپنی کے ڈائریکٹر نہ رہتے۔نجی ٹی وی کے مطابق عدالت نے جہانگیر ترین کے وکیل سے 5سوالوں کے جواب طلب کرلئے کہ جہانگیر ترین کا ٹرسٹ کب بنا؟ جہانگیر ترین کی آف شور کمپنی کب بنی؟ کمپنی کا لیگل اور بینیفیشل اونر کون ہے؟آف شور کمپنی کتنی رقم سے اور کب بنائی گئی؟2002سے 2017تک جہانگیر ترین نے بچوں کو رقم بطور گفٹ کتنی مرتبہ بھجوائی ہے۔عدالت نے سماعت (آج) جمعرات تک ملتوی کر دی۔