بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزارت اور سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا، چوہدری نثار

پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزارت اور سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا، چوہدری نثار

اسلام آباد: وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ  انہوں نے وزارت ، اسمبلی اور سیاست چھوڑنے کا انتہائی فیصلہ کر لیا تھا اور آج صبح تک اپنے فیصلے پر قائم تھے مگر  پھر چند دوستوں سے ملاقات کے بعد  اسے تبدیل کردیا۔

اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ آج معاملات بہت گھمبیر ہیں اور ان کا سیاست سے دل اچاٹ ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل ان کی دوستوں سے چار گھنٹے تک ملاقات ہوئی اور وہ اِس بات پر اٹھے کہ جس دن پاناما کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا اس دن وہ وزارت، قومی اسمبلی اور سیاست سے استعفیٰ دے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چاہے فیصلہ نوازشریف کے حق میں ہو یا خلاف وہ ایم این اے شپ سے استعفیٰ دے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا وہ تب بھی وزیراعظم ہاؤس جائیں گے اور چٹان کی طرح ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ وہ ہمیشہ سول و ملٹری تعلقات میں توازن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’ملک شدید خطرات سے دوچار ہے، ہمیں گھیرا جارہا ہے، صرف چند لوگ ہی اس بارے میں جانتے ہیں جن میں میں ہوں، وزیراعظم اور دو فوج کے لوگ ہیں‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اردگرد گہرے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ملک کو درپیش خطرات کا مقابلہ متحد ہوکر کرنا ہوگا۔

چوہدری نثار نے وزیراعظم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس میں کسی قسم کے انتشار کا موجب نہ بنیں، میاں صاحب اگر ہم ہارے بھی تو قوم کو یکجا کریں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ آپ کو غصہ دلائیں گے، ہمیں گھیرے میں لیا جارہا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ آج کی پریس کانفرنس شاید میری زندگی کی سب سے مشکل پریس کانفرنس ہو، شہباز شریف و دیگر وزرا بیٹھے تھے ،انہوں نے گلہ کیا  آپ نے پریس کانفرنس رکھ لی۔‘

انہوں نے کہا کہ پارٹی کا ہر مشکل ترین ادوار میں ساتھ دیا تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے انہیں پارٹی کے اجلاسوں میں شامل نہیں کیا جارہا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ نوازشریف، ن لیگ کیساتھ اپنی ساری زندگی داؤ پر لگائی کبھی مڑکر نہیں دیکھا لیکن مجھے سینیر ترین مشاورت میں مجھے نہیں  بلایا گیا اور بن بلائے میں جاتا نہیں، نہ میں کبھی گیا، میرے لیے یہ کہنا تضحیک آمیر ہے کہ مجھے مشاورت سے الگ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 33 سال سے وہ ہر میٹنگ میں موجود ہوتے تھے۔

 وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اتوار اور پیرکو جو میٹنگ بلائی گئی تھی اس میں ایک بڑا فیصلہ کرلیا تھا اور اعلان کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جنھوں نے پارٹی قائم کرنے میں مدد کی میں ان میں شامل ہوں، جس نے بھی کہا نثار پارٹی نہیں چھوڑے گا میرے لیے اس سے بڑا تمغہ نہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ انہوں نے تمام عمر نواز شریف کے سامنے سچ کہنے کی جسارت کی ہے، کبھی پیچھے نہیں ہٹا، میرا کردار نواز شریف کے ساتھ یہی ہے۔

انہوں کہا کہ ’ رات کو روز سوچتاہوں کہ مجھ سے کیا غلطیاں ہوئیں، میں منافق نہیں ہوں، میں نے وزیراعظم سے کہا  آپ نے باتیں کیوں سنیں ،آپ مجھے بلا کر پوچھ لیتے، میری زندگی میاں صاحب آپ کو یہ بتاتے گزری کہ یہ غلط  ہےاور وہ غلط ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جب حالات نہیں سنبھلے تو ایک انتہائی فیصلہ کیا، تین مہینے پہلے میاں صاحب کے سامنے غلطیوں کی نشاندہی کی، میں کسی پر الزام نہیں لگارہا۔

چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ انہوں نے ایکسپریس ٹرین مس نہیں کی، وہ ہر اسٹاپ پر ٹرین بدلنے والوں میں سے نہیں، نہ تو کسی عہدے کے خواہشمند ہیں نہ ہی امیدوار ۔

انہوں نےکہا کہ ان کے دادا، بھائی اور  قریبی عزیز فوج کا حصہ رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی سویلین بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

چوہدری نثار نے انکشاف کیا کہ ان کے جنرل پاشا سے قریبی تعلقات تھے مگر جب انہوں نے سیاست میں زیادہ مداخلت کی تو وہ ان کے خلاف ہوگئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گالم گلوچ کا کلچر مسلم لیگ ن کا کلچر نہیں، اسی بات پر اختلاف ہوا لیکن اس کے پیچھے وزیر اعظم نواز شریف نہیں، وہ واضح ہدایات جاری کرچکے ہیں کہ کیا کرنا ہے، پھر کون ہے جو یہ سب کروا رہا ہے۔

دوسری جانب وزارت داخلہ کے ترجمان نے  پریس کانفرنس کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وزارت اور قومی اسمبلی سے متعلق فیصلہ گزشتہ شام کا تھا۔

ترجمان کے مطابق میڈیا اس بیان کے حوالے سے سیاق و سباق مدنظر رکھے، وزیر داخلہ نے چند دوستوں سے ملاقات کے بعد فیصلہ تبدیل کردیا۔