بریکنگ نیوز
Home / کالم / حکومت حماقت کا دوسرانام ہے

حکومت حماقت کا دوسرانام ہے


سعادت حسن منٹو کو اللہ بخشے ایک مرتبہ انہوں نے کہا تھا حکومت‘حماقت کادوسرا نام ہے اس مقولے کی صداقت آئے دن ہم پر ظاہر ہوتی رہتی ہے نیب والوں کو نہ جانے کیا سوجھی جو انہوں نے وزارت صحت کو یہ مشورہ دے ڈالا کہ سگریٹ کے ہر پیکٹ اور ادویات کی ہر ڈبیا پر یہ الفاظ چھاپے جائیں Say no to corruption یعنی کرپشن کو خیر باد کہئے۔ ان بھلے مانسوں سے کوئی یہ پوچھے کہ کیا کبھی خالی خولی نعروں سے بھی کرپشن جسے موذی ذہنی مرض سے کوئی ٹھیک ہوا ہے یہ ذہنی مرض نہیں تو اور کیا ہے کہ انسان کو راتوں رات ارب پتی بننے کی لت پڑ جائے اوروہ یہ تہیہ کر لے کہ اس نے ہر قیمت پر برلا یا ٹاٹا یا ہنری فورڈ جیسا امیر کبیر بننا ہے ؟ دوسری بات یہ ہے کہ کئی برسوں سے سگریٹ کی ڈبیا پر یہ سلوگن چھاپا جا رہا ہے Smoking kills یعنی سگریٹ نوشی جان لیوا ہے لیکن کیا اس اشتہار بازی سے ملک میں سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں کوئی قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے ؟ سگریٹ ہو کہ شراب ‘ ان دونوں کی اس ملک میں کھپت کم نہیں بلکہ دن بہ دن بڑھ رہی ہے پرانے زمانے میں لوگ چلم پیتے تھے آج کل نشئی چلم کی جگہ ’شیشے‘ کا استعمال کرتے ہیں ۔

جس کا کاروبار ہر شہر کے فیشن ایبل علاقوں میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہاہے حتیٰ کہ عدالت عظمیٰ کو اس کا نوٹس لینا پڑا ہے اس ذہنی مرض اور عادت بد کو روکنے کے لئے قانون بھی کمزور ہے او ر قانون نافذ کرنیوالوں ادارے بھی کرپٹ ہیں ’ہم نے بات شروع کی تھی کرپشن کو ختم کرنیکی مہم میں اشتہار بازی کی اور وہ کدھر سے کدھر نکل گئی کرپشن کیسے ختم ہو گی جبکہ ارباب اقتدار کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ہولا رکھتے ہیں آپ کو یاد ہو گا چند ماہ قبل الیکٹرانک میڈیا نے کس قدرزور و شور سے ٹیلی ویژن پر کئی روز تک فوٹیج چلائی جس میں بلوچستان حکومت کے ایک سیکرٹری اور ایک وزیر کے گھروں سے کروڑوں روپے بلکہ اربوں روپے کی کیش برآمد کی گئی ان کو گرفتار کیا گیابعد میں جیسے الیکٹرانک میڈیا کو سانپ سونگھ گیا ہو نہ اس نے اس کیس کا کوئی فالو اپ دکھایا اور نہ بلوچستان کی حکومت نے کوئی وضاحتی بیان جاری کیا کہ آخر ان اربوں روپے کی برآمد شدہ کرنسی کا کیا ہوا؟ جن ارباب اقتدار کے گھروں سے وہ برآمد ہو ئی انکے خلاف مقدمات کس مرحلے میں ہیں۔

اس خاموشی سے تو یہ پتا چلتا ہے کہ حکومت اس کیس پر کسی سیاسی مصلحت کے تحت مٹی ڈال رہی ہے اور وہ جو5کروڑ پاؤنڈ برطانیہ میں الطا ف حسین کے فلیٹ سے لندن پولیس نے برآمد کئے تھے کہ جن کی مالیت پاکستانی کرنسی میں اربوں روپے بنتی ہے ان کا کیا بنا؟ کیا برطانوی حکومت پر دباؤ ڈالنا نہیں چاہئے تھا کہ اس موٹی رقم کو پاکستان کے حوالے کر دیا جائے ان دونوں کیسز میں حکومت کی سردمہری اگر اس کی حماقت نہیں تو پھر کیا ہے ؟اسکے علاوہ بھی ہزاروں کرپشن کے کیسز ہیں کبھی ڈالروں سے بھری لانچیں پکڑی جاتی ہیں اور کبھی گھر وں سے پانچ پانچ کروڑ کیش مل جاتے ہیں کبھی سونے کی اینٹیں پکڑی جاتی ہیں میگا کرپشن سکینڈلز اسکے علاوہ ہیں پھر بھی مجال ہے کہ کسی کے کانوں پر جوں تک رینگتی ہواب دیکھئے سپریم کورٹ نے پلی بارگین کرنیوالوں کی فہرستیں طلب کرلی ہیں ان صاحبان نے کروڑوں کما کر چند لاکھ روپے جمع کرکے جان چھڑا لی تھی لیکن اب پکڑ میں آرہے ہیں۔