بریکنگ نیوز
Home / کالم / باربرداری بذریعہ ریلوے

باربرداری بذریعہ ریلوے

جب عوام میں صبر کا فقدان ہو جائے تو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہم نے جب سے آنکھ کھولی ہے ایسے حالات ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔کبھی گندم کے لئے قطاروں میں لگنا پڑتا رہا کبھی مٹی کے تیل کے لئے قطاروں میں لگنا پڑتا رہا اور کبھی چینی کے لئے۔ایک مصیبت ایسے حالات میں یہ ہوتی رہی ہے کہ ہمیں چونکہ قطار میں لگنے کی ٹریننگ ہی نہیں ہے اس لئے ہمیں کسی بھی چیز کے حصول کیلئے غلط ذرائع استعمال کرنے کی عادت پڑ گئی ہے جہاں کہیں بھی ہمارا بس چلتا ہے ہم اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اگر ہم میں سے کوئی ایک ایسی حیثیت میں ہے کہ اس کو بغیر قطار کے کوئی چیز حاصل ہو جاتی ہے تو قطار میں لگے لوگوں کی بے صبری کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ کچھ ہماری عادت ثانیہ بن چکی ہے کہ کسی بھی چیز کی کمی کا اظہار ہو جائے تو ہم باوجود اس شے کے اپنے پاس موجود ہونے کے اسے لینے کو دوڑ پڑ تے ہیں ۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ شے کی کمی ہو جاتی ہے ہم کو ایسی کوشش سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے اگر ہمارے گھر میں اس قدر آٹا ہے کہ جس سے ہم مہینے کے آخر تک پہنچ سکتے ہیں اور بازار میں آٹا ناپید ہونے چلا ہے تو ہم نے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ اس کے حصول کے لئے دوڑ پڑیں ۔ تو ایسا ہوا ہے کہ مہینے کے آخر تک وہ کمی ختم ہو گئی ہے اور ہم آسانی سے بازار سے آٹالے آئے ہیں مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ لوگ دوڑ پڑتے ہیں کہ آٹاختم ہو گیا تو جانے کیا ہو جائے اس لئے بازار میں آٹے کی دکانوں پر رش ہو جاتا ہے اور دکان داروں کی چاندی ہو جاتی ہے اور وہ منہ مانگی قیمت لے کر اپنے گھر بھر لیتے ہیں اور عوام اس کے حصول میں سر پھٹول کرتے رہتے ہیں اگر دیکھا جائے تو چیزوں کی کمی اتنا اثر نہیں کرتی جتنا ہماری بے صبری کر جاتی ہے ابھی گزشتہ روزملک میں پٹرول کی کمی کا خدشہ ہونیکی صورت حال بنتی جا رہی تھی۔

دیکھا جائے تو حادثے کو مثال بنا کر حکومت بھی جو اقدام کر رہی ہے وہ ہماری سمجھ کے مطابق غلط ہے حادثہ حادثہ ہوتا ہے اور یہ کسی وقت بھی اور کہیں بھی پیش آ سکتا ہے۔پچھلے دنوں کے حادثے کومثال بنا کر بہت کچھ کیا گیا ہے جس میں دیکھا یہ گیا ہے کہ جو لوگ پٹرول چوری کر رہے تھے ان کیلئے تو خزانے کے منہ کھول دیئے گئے اور جو حادثے کا شکار ہوا اور جس کا ہزاروں لٹر پٹرول ضائع ہوا جس کاٹینکر جل گیااس پر جرمانہ لگادیا گیا۔حادثے کب نہیں ہوتے اس کے بعد بھی دسیوں آئل ٹینکر الٹے اور ہزاروں لٹر پٹرول ضائع ہوا مگر کسی پر نہ تو جرمانہ ہو ا اور نہ کسی پر کوئی سختی ہوئی آئل ٹینکروں سے قبل بھی سارے ملک میں تیل سپلائی ہوا کرتا تھاجو ہم نے خود ختم کر دیا اس سے حکومت کو کروڑوں کا نقصان ہو ا اور حکومت آج آئل ٹینکر مالکان کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہی ہے۔ادھر ریلوے کو اس مد میں کروڑوں کا نقصان ہوا۔ ٹرک مالکان اور ٹینکر مالکان کے ساتھ ریلوے ڈیپارٹمنٹ کی ساز باز نے ریلوے کی مال گاڑیاں بند کر دیں جس ریلوے نے پاکستان کے ہر کونے میں مال اور تیل ہمیشہ بر وقت پہنچایا اسے ساز باز کر کے تقریباً ختم کر دیا گیا اب اسی کی سزا پورا ملک بھگت رہا ہے۔ریلوے کی تیل کی بوگیاں اورمال بردار بوگیاں تباہ کر دی گئیں اگر یہ ہوتیں تو آج ہمیں اس شارٹیج کاسامنا نہ کرنا پڑتا اسکا حل صرف یہی ہے کہ حکومت ریلوے کی مال گاڑیوں کو چلائے اور ایسے بحرانوں پر قابو پایا جائے ۔

اور آئل ٹینکروں اور بار برداری کے ٹرکوں کے مالکان کے ہاتھوں حکومت روز روز بلیک میل نہ ہو اگر آج سے ہی حکومت اپنی ریلوے کو استعمال کرے تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ایک تو پورے ملک میں تیل اور گندم وغیرکی ترسیل میں کبھی کمی نہ آئے اور نہ حکومت کبھی ان تیل ٹینکروں کے مالکان اور ٹرک مالکان سے بلیک میل ہواور حکومت کی آمدن میں بھی روز افزوں فائدہ ہو اور گھاٹے میں چلنے والا ریلوے ایک منافع بخش ادارہ بن جائے۔صرف ان عناصر کی سرکوبی کی جائے جنہوں نے ٹرک مالکان اور تیل بردار ٹینکروں کے مالکان سے مل کر ریلوے کی مال گاڑیوں کو بند کروایا اب بھی اگر ریلوے کی مال بردار گاڑیوں کو فعال کیا جائے تو ہم سو فی صدی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ٹینکر مالکان خود حکومت کی منتیں کرتے دکھائی دیں گے ۔