بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ستر سال میں کوئی وزیراعظم 5 سالہ مدت پوری نہیں کرسکا

ستر سال میں کوئی وزیراعظم 5 سالہ مدت پوری نہیں کرسکا

اسلام آباد۔پاکستان کے قیام کو ستر سال ہوگئے تاہم اس مدت میں کوئی بھی وزیراعظم پانچ سالہ مدت پوری نہیں کرسکا ٗ1947ء کے بعد سے پاکستان میں سیاسی صورتحال نشیب وفراز سے دوچار رہی اور 4منتخب حکومتوں کو فوجی آمروں نے نکال باہرکیا۔ایک وزیراعظم کو قتل تو دوسرے کو عدلیہ کے ذریعے پھانسی ہوئی جبکہ کئی ایک وزرائے اعظم کو صدور نے گھر بھجوایا اور ایک کو سپریم کورٹ نے برطرف کیا۔پھر دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو 17اپریل 1953ء کوگورنر جنرل غلام محمدنے ہٹایا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خواجہ ناظم الدین نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو جسٹس منیر کوغلام محمد کے غیر قانونی اقدام کی توثیق کیلئے نظریہ ضرورت ایجاد کرنا پڑا۔

پھرمحمد علی بوگرہ آئے ٗانہیں بھی 1954ء میں غلام محمد کی جانب سے برطرف کیا گیا ٗبعد ازاں وہ دوبارہ وزیراعظم نامزد ہوئے توانہیں قانون ساز اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں تھی جس پر 1955ء میں گورنر جنرل سکندر مرزا نیان کی حکومت برطرف کر دی۔چوہدری محمد علی 1955ء میں وزیراعظم بنے تاہم ان کی سکندر مرزا سے چپقلش جو1956ء کے آئین کے نتیجے میں صدر بن گئے تھے کی بناپرمحمد علی نے 12ستمبر 1956ء کو استعفیٰ دیدیا ۔حسین شہید سہروردی جوعوامی لیگ کے قائدتھے، انہوں نے 1954ء کے قانون ساز اسمبلی کے الیکشن میں اپنی جماعت کوفتح دلائی۔ وہ مسلم لیگ کے سواکسی دوسری جماعت سے تعلق رکھنے والے پہلے شخص تھے جنہیں 1956ء میں وزیر اعظم نامزد کیا گیا۔انہیں سکندر مرزا سے اختلاف کی بناء پر 1957ء میں ہٹا دیا گیا ٗابراہیم اسماعیل چندریگر کوسہروری کے استعفے کے بعد سکندر مرزا نے وزیراعظم نامزدکیا ٗوہ تقریباً 2ماہ وزیر اعظم رہے۔انہوں نے دسمبر 1957ء میں استعفیٰ دیا۔اسکے بعد سکندر مرزا نے فیروزخان نون کو ملک کا ساتواں وزیراعظم نامزد کیا۔ 1958ء میں ایوب خان نے مارشل لاء لگا کر انہیں برطرف کر دیا۔تیر ہ سال مارشل لاء کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے ٗ بھٹو 1973ء کے آئین کی منظوری تک خصوصی بندوبست کے تحت صدر رہے۔انہوں نے 1973ء کے الیکشن میں کامیابی حاصل کی لیکن اسی سال جولائی 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء کے ذریعے انہیں ہٹا دیا۔

1979ء میں مقتدر فوجی عدالتی گٹھ جوڑ کی جانب سے انہیں پھانسی ملی۔1985ء کے غیر جماعتی الیکشن میں ملک کے بد ترین آمروں کے تحت محمدخان جونیجو پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ایک سیاستدان ہونے کی وجہ سے وہ آمر کیلئے خطرہ بنے رہے اس لئے انکی حکومت 29مئی 1988ء کو سانحہ اوجڑی کیمپ راولپنڈی جس میں فوجی اسلحہ ڈپومیں دھماکوں سے 100کے قریب افرادجاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے کی تحقیقات کرانے کے اعلان کے کچھ روز بعد ہی برطرف کر دیا گیا۔1988ء کے الیکشن کے نتیجے میں بینظیر بھٹو 2دسمبر 1988ء کو برسراقتدار آئیں۔ 1989ء میں مواخذے کی کوشش کو پیپلزپارٹی نینا کام بنایالیکن صدر غلام اسحاق خان نے 6اگست 1990ء کو آرٹیکل 58ٹو بی کے بد نام صدارتی اختیار کے ذریعے بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔بینظیر کے بعدمیاں نواز شریف آئے جو 1990ء میں پہلی با ر وزیر اعظم بنے۔صدر غلام اسحاق خان نے 1993ء میں انکی حکومت ختم کی تاہم سپریم کورٹ نے اسے بحال کر دیالیکن پھر مشہور کاکڑ فارمولا سامنے آیا جب اس وقت کا آرمی چیف وحید کاکڑ نے میاں نواز شریف اور غلام اسحاق خان دونوں سے18 جولائی 1993ء میں استعفیٰ لے لیا۔بینظیر بھٹو 1993ء میں پھر وزیر اعظم پاکستان بن گئیں لیکن انکی دوسری حکومت بھی 3سال ہی چل سکی اورانکے اپنے چنے ہوئے وفادار صدر فاروق لغاری نے ان کیخلاف سازش کی اور نومبر 1996ء میں انکی حکومت 58ٹو بی کااختیاراستعمال کرکے بر طرف کر دی۔فروری 1997ء کے الیکشن کے نتیجے میں میاں نواز شریف دوبارہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے تاہم 12اکتوبر 1999ء کوجنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگاکر نواز شریف کو اقتدار سے ہٹا دیا۔اس کے بعد ڈکٹیٹر مشرف کے تحت 3وزرائے اعظم آئے جن میں میر ظفر اللہ خان جمالی 19ماہ تک عہدے پر رہ سکے پھر انہیں مشرف نے گھر بھجوادیا۔

ٗچوہدری شجاعت 2ماہ کیلئے عبوری وزیرا عظم رہے جسکے بعد مشرف کے دوست شوکت عزیز اگست 2004ء میں وزیرا عظم بنے۔2008ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ گیلانی کیلئے سب اچھاجارہا تھا تا وقتی کہ انہیں عہدے پر موجودصدر کیخلاف کرپشن کے کیسز ری اوپن کرنے کیلئے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں توہین عدالت کے کیس میں سزا ہوئی۔گیلانی 23مارچ 2008ء سے 19جون 2012ء تک ملک کے وزیر اعظم رہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کی باقی مدت راجہ پرویز اشرف نے پوری کی جو جون 2012ء سے مارچ 2013ء وزیر اعظم رہے۔میاں نواز شریف 2013ء میں تیسری بار وزیراعظم بنے لیکن جیسے ہی انکی مدت کا آخری سال شروع ہواتو انہیں سپریم کورٹ میں پاناما کیس نے گھیر لیا۔