بریکنگ نیوز
Home / کالم / احتساب جاری رہنا چاہئے

احتساب جاری رہنا چاہئے


ملک کی سیاسی فضا کچھ ایسی بدلی ہے کہ بڑی بڑی نام نہاد پارٹیوں کی حقیقت کھل کر عوام کے سامنے آ گئی ہے گلوبل انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کوئی راز‘ راز رہنے ہی نہیں دیا ملک کے ایک بڑے میڈیا ہاؤس کے مالک نے اگلے روز سوشل میڈیا میں چھپنے والے موادکو جب گٹر قراردیا تو ان کے اس لفظ کو ملک کے کئی حلقوں نے پسند نہیں کیا جب انہوں نے اس سانس میں یہ بھی کہہ دیا کہ بھئی صحافت کو رکھو ایک سائیڈ پر‘ میں تو یہ دھندا کرکے اپنے لئے روٹی کماتا ہوں تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ آج صحافت کا معیار کس قدر گر چکا ہے ‘دوسروں کو نصیحت کرنے والوں کا جب اپنا یہ عالم ہو جب ان کی اپنی ذہنی کیفیت یہ ہو تو پھر کسی اورسے کیا گلہ کیا جائے‘ اب حمید نظامی ‘ سید سبط حسن‘ احمد ندیم قاسمی‘ احمد علی خان ‘ فیض احمد فیض‘ عزیز صدیقی اور مظہر علی خان جیسے بلند پایہ اخبا ر نویسوں کو کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں اس جملہ معترضہ کے بعد کہ جو کافی طولانی ہو گیا اب آتے ہیں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی طرف کہ جس کا قوم کو بڑی بے قراری اور شدت سے انتظار تھا کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘ انجام کا ر وہ دن آ ہی گیا کہ جسکی راہ تکتے تکتے اس ملک کے غریب طبقے کی آنکھیں سفید ہو نے لگی تھیں کرپشن کے اتنے بڑے مافیا کو بے نقاب کرنا اور اس پر ہاتھ ڈالنا کوئی خالہ جی کا گھر نہ تھا ججوں او ر جے آئی ٹی کے اراکین کی آنکھیں اگر ایک طرف سے دولت کے انبارکی چمک دمک سے خیرہ کرنے کی کوشش کی گئی تو دوسری جانب ان کو مختلف طریقوں سے ڈرایا دھمکایا گیا لیکن اب بھی اللہ کی بنائی ہوئی اس دنیا میں ایسے بندے ضرور موجود ہیں کہ جو انمول ہیں جو بکتے نہیں جن کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی جن کو زور زبردستی دھونس اور رعب سے سرنگوں نہیں کیا جا سکتا ان کی تعداد گو کہ معدودے چند ہیں۔

لیکن جگنو کی طرح یہ لوگ روشنی پھیلاتے رہتے ہیں عدالت عظمیٰ نے ایک طویل عرصے بعد ایک ایسا فیصلہ صادر کر دیاکہ جس کے مندرجات پر اگر من و عن صدق دل سے عملدرآمد ہوجاتاہے تویہ ہماری سیاست میں صفائی کا ذریعہ بنے گا کانے کو منہ پر کانا کہنا کوئی معمولی بات تھوڑی ہے اس لئے بہت بڑے دل اور گردے کی ضرورت ہوتی ہے قوم آج خوش ہے وہ خوشی سے پھولے نہیں سمارہی سزا اور جزا کے بغیرکوئی بھی معاشرہ پنپ نہیں سکتا سپریم کورٹ نے جو جو احکامات بھی جاری کئے ہیں اب ان پر فوراً سے پیشتر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہو گی اور عملدرآمد کے مختلف مراحل پر بھی عدالت عظمیٰ کو عقابی نظر رکھنا ہو گی عام ریت یہ ہے کہ وہ ادارے کہ جن کا تعلق استغاثے سے ہوتا ہے جن کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چالان ٹرائل کورٹس میں فوراً سے پیشتر دائر کریں وہ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں یا تو ملزمان ان کو خرید لیتے ہیں اور یا پھر کسی سیاسی دباؤ سے انکو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کیخلاف مقدمات کے ریکارڈ میں جان بوجھ کر اتنا زیادہ سقم پیدا کر دیں کہ عدالت میں کاروائی کے دوران ان کا وکیل صفائی ان ابہام اورتضادات کا فائدہ اٹھا کر عدالت کو مجبور کر د ے کہ وہ شک وشبہ کا فائدہ ملزمان کو پہنچا کر انہیں بری کر دے پھر یہ بھی ضروری ہے کہ جب ایک مرتبہ عدالتوں سے انکو سزا مل جائے تو وہ پراپرٹی جو انہوں نے کرپشن کی کمائی سے بنائی یا جو پیسے انہوں نے ڈالروں یا پاؤنڈز کی شکل میں رکھے ہوئے ہیں۔

ان سب کو بحق سرکار ضبط کیا جائے اگر ایسانہیں ہوتا تو انصاف کے تقاضے کما حقہ پورے نہ ہوں گے کسی بھی کام کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہوتا ہے بیچ منجدھار میں کسی بھی کام کو اگر ادھورا چھوڑ دیا جائے تو اس کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکلتے اب دیگر سیاسی پارٹیوں کے بعض رہنماؤں کا بھی نمبر آنا چاہئے انہوں نے بھی اس ملک کے وسائل کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ورنہ عام آدمی یہ سمجھے گا کہ شریف خاندان کیخلاف Selective justice ہوا ہے تمام کرپٹ عناصر کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا ضروری ہے ان میں کسی قسم کا بھی فرق یا تمیز و امتیاز کرنانہیں چاہئے ۔