بریکنگ نیوز
Home / کالم / فعال عدالتی نظام

فعال عدالتی نظام

مسلم لیگ(ن)کے بانی اراکین میں شامل چوہدری نثار علی خان کا شمار ان چند منجھے ہوئے سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنکے سیاسی قدکاٹھ میں یہ تعارفی جملے اضافہ کرتے ہیں کہ وہ حاضر دماغ رہتے ہیں اور ان کی عملی و سیاسی زندگی بڑی حد تک شفاف ہے۔ وہ اپنے قول و فعل سے بھی ’صائب الرائے‘ اور ’صاف گو‘ ہونا ثابت کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو قطعی طور پر غلط نہیں ہوگا کہ وہ کردار کا مظاہرہ کرتے ہیں اور دیانت داری کی روشنی میں وضع کردہ اصولوں پر اکثر کاربند دکھائی دیتے ہیں۔یادش بخیر کم و بیش 77 سال قبل جرمن فضائیہ نے لندن پربمباری کی اس وقت برطانیہ کے وزیراعظم سر ونسٹن چرچل تھے جنہیں بتایا گیا کہ ’’جرمنی کے فضائی حملے کی وجہ سے اس قدر بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں کہ قریب سبھی اقتصادی سرگرمیاں تباہ ہو گئی ہیں۔‘‘ چرچل نے جواباً پوچھا: کیا عدالتیں فعال ہیں؟ جواب ملا کہ ’’جج عدالتوں میں موجود ہیں اور انصاف کی فراہمی بلاتعطل جاری ہے۔‘‘ چرچل نے اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ ’’خدا کا شکر ہے‘ اگر عدالتیں فعال ہیں توکچھ نہیں بگڑا۔‘‘سردست پاکستان کو داخلی و خارجی محاذوں پر کئی ایک سنجیدہ نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔

داخلی طور پر دہشت گردی‘ عسکریت پسندی اور انتہاء پسندی کو کچلنے کیلئے ’رد الفساد‘ نامی فوجی حکمت عملی وضع کی گئی ہے جس کے تحت حال ہی میں ’’آپریشن خیبر فور‘‘کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔ خارجی طور پر خطرات میں ملک کی مشرقی و مغربی سرحدیں محفوظ نہیں۔ مشرق کی جانب سے بھارت اور مغرب کی سمت سے افغانستان پاکستان کے استحکام و سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافے کا محرک بنا ہوا ہے۔ ان حالات میں اگر ہم عدالت عظمیٰ کی جانب دیکھیں تو اسکے پاس اختیار کرنے کے لئے 2 ہی راستے باقی بچے تھے۔ پہلا راستہ تو یہ تھا کہ وہ عدلیہ کی تاریخ دہراتے ہوئے ماضی ہی کی طرح فیصلے کرتی اور دوسرا امکانی راستہ یہ تھا کہ وہ تاریخ ساز فیصلوں کے ذریعے اپنا معنوی وجود بطور حقیقت ثابت کرتی۔ سپریم کورٹ نے ایک نئے آئینی عہد کی بنیاد رکھتے ہوئے تاریخی ساز فیصلہ کیا ہے۔ خوش آئند ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے اپنے آئینی کردار سے جڑی ذمہ داریوں کا احساس کر لیا ہے اور اپنے آئینی حدود و کردار کے اندر رہتے ہوئے احتساب یا سزا و جزا کا عمل شروع کر دیا ہے۔ خوشخبری یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی کردار سے ایک ایسے دور کا خاتمہ ممکن ہوا ہے جو اوّل تا آخر ’بدعنوانی‘ پر مبنی تھا۔ سپریم کورٹ نے اب ایک پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے جو ملک میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

بجا ہے کہ پاکستان میں عدلیہ فعال ہے اور بقول برطانوی وزیراعظم ’جب تک عدلیہ فعال رہے گی‘ کچھ بھی نہیں بگڑنے والا۔‘‘آئین پاکستان کی رو سے‘ امور مملکت چلانے میں کسی بھی شخص یا حکومتی ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کرے۔‘‘ امور مملکت طے کرنے اور قومی وسائل سے متعلق فیصلہ سازی جیسا اختیار رکھنے والوں کی کارکردگی پر نظر‘طاقت کے بیجا استعمال‘ مالی و انتظامی بدعنوانیوں اور استحصال کے امکانات کم کرتا ہے۔ستائیس جولائی (دوہزارسترہ) ایک پاکستانی سیاستدان کو سننے کا موقع ملا اور مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ اس سے قبل کبھی بھی کسی پاکستانی سیاستدان کو اس قدر ’راست گو‘ اور ’اخلاص و دردمندی‘ سے بولتے ہوئے نہیں پایا گیا۔ چوہدری نثار علی خان کے بیان پر صداقت کی وجہ سے وزن اور تاثیر حاوی تھی۔ وہ شفاف طرزعمل کے مالک ہیں انہوں نے ایک تصور پیش کیا ان کی فی البدیہہ تقریر ناقابل تردید واضح حقائق اور مضبوط دلائل پر مبنی تھی۔ انہوں نے اپنی سوچ کے واضح ہونے کا مظاہرہ کیا اور ثابت کیا کہ وہ بدنام زمانہ پاکستانی سیاست کرنے کے باوجود بھی کردار‘ اُور اصولوں‘ کے مالک ہیں۔ اُن کی تقریر کی تین خصوصیات مندرج جات‘ ادائیگی اور الفاظ کا چناؤ اپنی جگہ اہمیت و توجہ کا حامل تھا۔

پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت سے اس قسم کے طرزعمل کی توقع نہیں تھی انہوں نے قوم کو بتایا کہ کس طرح خوشامد‘کاسہ لیسی اورمطلب پرستی پاکستان کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ چوہدری نثار علی خان کی تقریر کا سب سے اہم حصہ وہ تھا جس میں انہوں نے ملک کو لاحق داخلی و خارجی خطرات کا ذکر کیا اور کسی سیاستدان کے منہ سے ملک کو عسکری‘ جوہری‘ دہشت گردی‘ سائبر اور اقتصادی خطرات کا ذکر اِس بات کا ثبوت تھا کہ وہ ذاتی مفادات کے اسیر نہیں بلکہ گردوپیش پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسے شخص کے طور پر ابھرے ہیں جو ملک کے دو اہم فیصلہ سازوں ’سیاسی و عسکری فیصلہ سازوں‘ کے درمیان شراکت عمل کا تصور رکھتے ہیں۔بشری کمزوریاں ہر بشر کی شخصیت کا حصہ ہوتی ہیں۔ کم یا زیادہ غلطی سرزد ہونا ہم انسانوں کا خاصا ہے اور میرا خیال ہے کہ چوہدری نثار نے عملی سیاست سے الگ ہونے کا فیصلہ ایسی ہی غلطیوں کی اصلاح کرنے کے جذبے و ضرورت کے تحت کیا ہے۔ وہ پرعزم ہیں اور سیاست کی سیڑھی پر مزید آگے بڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

وہ ایسے رازوں کا ایک خزانہ بھی رکھتے ہیں جن میں انہوں نے سیاستدانوں کو قریب سے دیکھا جو جرائم پیشہ و دہشت گرد عناصر سے تعلق رکھنے کو حکمت عملی کا حصہ سمجھتے ہیں۔مقام صدشکر ہے کہ عدالتیں فعال ہیں۔ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے اور اب پاکستان میں صرف جائز حکمران ہی حکومت کریں گے۔ طرزحکمرانی کی اصلاح اور بہتر طرز حکمرانی کے قیام کو موقع ملنا چاہئے۔ سیاسی طاقت و اختیارات کا غلط استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے اور پاکستان سے ہرقسم کی بدعنوانیوں کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)