بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی تناؤ اور عوامی مسائل

سیاسی تناؤ اور عوامی مسائل

پانامہ کیس کے بڑے عدالتی فیصلے کے بعد وطن عزیز میں سیاسی تناؤ اور گرما گرم بیانات کا سلسلہ جاری ہے، سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ وہ استعفیٰ نہ دینے پر نکال دیئے گئے، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وزرائے اعظم کو اس طرح نکالنے کا سلسلہ جاری رہا تو ملک حادثے کا شکار ہوسکتا ہے‘ وہ خیبرپختونخوا حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت سے ایک چھوٹی میٹر وبس نہیں بن سکتی‘ دوسری جانب ن لیگ کی قیادت نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے‘ وزیراعظم نامزد ہونے پر شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ تاریخ عدالتی فیصلے کوقبول نہیں کرے گی، مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ قوم کو انصاف نہیں ملا، تحریک انصاف مل گئی ہے‘ تحریک انصاف شیخ رشید کو وزیراعظم کیلئے امیدوار نامزد کرنے کے فیصلے کیساتھ شہباز شریف کی نامزدگی کو جمہوریت سے مذاق قرار دیتی ہے، قومی سیاست میں تناؤ کیساتھ خیبرپختونخوا میں قومی وطن پارٹی اور حکمران جماعت کی راہیں ایک بار پھرجدا ہو گئی ہیں ، تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ کیو ڈبلیو پی نے پانامہ لیکس پر موقف الگ رکھا جبکہ قومی وطن پارٹی نے تحریری معاہدہ سامنے لانے کا اعلان کیا ہے۔

‘ اس ساری سیاسی گرما گرمی میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ تمام تحفظات کے باوجود قبول ہے‘ وہ سیاسی قیادت کو تنازعات پیدا کرنے سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک اس وقت مزید محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا‘ جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کو سسٹم کا حسن ضرور کہاجاتا ہے تاہم وطن عزیز کے حالات اور عوام کو درپیش مشکلات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ سیاسی قیادت ان کے حل کیلئے لائحہ عمل ترتیب دے‘ شاہد خاقان عباسی ترقیاتی عمل جاری رہنے کا عندیہ ضرور دیتے ہیں تاہم ضرورت بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھانے کی ہے‘ سیاسی قیادت کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ عام آدمی اپنے مسائل حل نہ ہونے پر مایوسی کا شکار ہورہا ہے اور یہی مایوسی انتخابات میں ٹرن آؤٹ کو متاثر کرتی ہے۔

پبلک پراپرٹی کا ضیاع

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کی انتظامیہ کو جامعہ کی کچھ پراپرٹی کمرشل مقاصد کیلئے مختص کرنے اور معاون سٹاف کم کرنے کی ہدایت کی ہے، اداروں کی خود کفالت اور قومی خزانے کے استحکام کیلئے پبلک پراپرٹی کا درست استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے، اس ضرورت کو صرف گومل یونیورسٹی تک محدود نہیں رہنا چاہئے، صوبائی دارالحکومت میں اس وقت متعدد سرکاری ادارے بہترین کمرشل لوکیشنز پر قائم ہیں، بعض اداروں کی عمارات ان کی ضرورت سے بہت زیادہ اور بعض کی بہت کم ہیں، متعدد دفاتر بھاری کرائے کی عمارتوں میں کام کررہے ہیں جبکہ بعض کیلئے عمارتوں کی تعمیر سست روی کا شکار ہے،یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پورے صوبے اور خصوصاً صوبائی دارالحکومت میں 15روز کے ٹائم فریم میں سروے کرایاجائے جس میں افسروں کے ساتھ ماہرین اور عوامی نمائندے بھی شریک ہوں جو اپنے شہر کے جغرافیے سے واقف ہوتے ہیں، اس سروے کی روشنی میں ایک مربوط حکمت عملی بناکر عمل کیاجائے تو سرکاری آمدنی میں اربوں روپے کا اضافہ ہوسکتا ہے، ضرورت صرف احساس وادراک کی ہے۔