بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / عظیم مقصد: سیاسی تنہائی!

عظیم مقصد: سیاسی تنہائی!

سپریم کورٹ اگر کمال مہربانی کا مظاہرہ نہ کرتی تو ’پانامہ کیس‘ کا فیصلہ‘ زیادہ سخت بھی ہوسکتا تھا کیونکہ عدالت کے سامنے صرف ’صداقت و امانت‘ ہی کے تحت نہیں بلکہ بیرون ملک اثاثوں کی ملکیت‘ آمدن کے ذرائع‘ ظاہری وپوشیدہ جائیدادوں کی خریداری کیلئے مشکوک مالی وسائل اور اُن وسائل کی بیرون ملک نامعلوم طریقوں سے منتقلی جیسے چند ناقابل تردید حقائق موجود تھے۔

عدالت کے مسلسل استفسار کے باوجود بھی شریف خاندان تسلی بخش ثبوت اور مطلوبہ دستاویزات فراہم نہیں کرسکا تو اب ’نوازلیگ‘ کی جانب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ عوام کی نظروں میں مشکوک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سپریم کورٹ سے ’نواز شریف کی نااہلی سے متعلق فیصلے پر نظرثانی‘ کرنے پر مشاورت اور ذرائع ابلاغ میں بحث و مباحثے جاری ہیں۔ نواز شریف کا دفاع کرتے ہوئے ’پانامہ کیس فیصلے‘ پر جو ’عمومی اعتراض‘ کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ’’نوازشریف نے جو تنخواہ وصول نہیں کی گئی اُس کی اُنہیں سزا کیوں دی گئی ہے؟‘‘ جبکہ عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ کسی شخص کی کسی اِدارے کے ذمے ’واجب الادأ تنخواہ‘ بھی اُس کی آمدنی (اثاثہ) ہوتی ہے۔

تین ضمنی سوالات یہ ہیں کہ 1: نوازشریف نے متحدہ عرب امارات میں جائیداد کی خریداری‘ کاروبار اور بینک اکاونٹ رکھنے کیلئے ’اَقامہ‘ کیوں حاصل کیا؟ 2: اپنے ہی بیٹے کی کمپنی میں انہیں ملازمت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اُور 3: اِس ملازمت کے عوض جو مخصوص رقم باقاعدگی کے ساتھ ہر ماہ اُن کے ذاتی ’بینک اکاونٹ‘ میں جمع ہوتی رہی‘ اُس بینک اکاونٹ کی تفصیلات انہوں نے عدالت کے طلب کرنے پر کیوں پیش نہیں کیں؟ سپریم کورٹ کے صادر کردہ ’پانامہ کیس فیصلے‘ سے ملک کی ایک بڑی سیاسی اور قومی اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کی ’تاحیات نااہلی‘ نہ ہوتی اگر پاکستان میں احتساب کا اِدارہ کماحقہ فعال ہوتا۔

قومی وسائل ذاتی اثاثوں میں تبدیل نہ ہوں اِس کیلئے قومی اِداروں کو مضبوط بنائے بغیر بذریعہ سپریم کورٹ ’حالت حال‘ درست نہیں ہو گی۔ جملہ قومی اداروں کو بااختیار و خودمختار بنانا ہوگا۔کیا اِداروں کو اپنے بارے تاثر تبدیل نہیں کرنا کہ وہ حکمرانوں کے نہیں بلکہ ملک کے ملازم اور قومی مفادات کے محافظ ہیں؟ اداروں کیلئے سربراہوں کی تعیناتی کا عمل اگر سیاسی مقاصد کے تابع اور محدود ہو چکاہے‘ تو اِس سلسلے میں بھی اصلاحات ہی اُس مسئلے کا حل ہو سکتا ہے‘ جو بحرانی شکل اختیار کر چکا ہے۔

پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد ’پاکستان تحریک انصاف‘ ایسی جماعت کے طور پر اُبھر کر سامنے آئی ہے جو تنظیمی طور پر مثالی نظم و ضبط نہیں رکھتی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پارٹی کی مرکزی پالیسیاں مرتب کرنے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ ہم آہنگی پر مبنی ’جمہوری طرزعمل‘ کا فقدان عام ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کئے بناء ’بیٹھے بیٹھائے‘ شیخ رشید کا نام ’وزارت عظمیٰ کیلئے بطور اُمیدوار‘ نامزد نہ کر دیا جاتا اور یہ اعلان خود شیخ رشید کیلئے بھی باعث حیرت نہ ہوتا جنہوں نے اظہار تشکر کے طور پر کہا کہ ’’عمران خان نے مجھے خرید لیا ہے‘‘ لیکن کس قیمت پر؟ پس منظر یہ ہے کہ ’پانامہ کیس‘ کی صورت آئینی محاذ پر تین سیاسی جماعتوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

سراج الحق‘ شیخ رشید اور عمران خان نے ایک دوسرے سے بڑھ کر ’دامے درہمے سخنے‘ جدوجہد کی لیکن اِن تینوں میں ’شیخ رشید‘ ہی سب سے زیادہ فعال دکھائی رہے اور اُن کی چٹخارے دار تبصروں نے نہ صرف ملک کے سیاسی ماحول کو گرمائے رکھا بلکہ ایک سال سے زائد چلنے والے مقدمے کو عوام کے ذہنوں میں زندہ بھی رکھا‘ وگرنہ تو ایک وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر ’آن دی ریکارڈ‘ کہا تھا کہ ’’قوم ’پانامہ‘ جلد بھول جائے گی۔‘ اور شیخ رشید نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ مقدمے کے اہم فریق سراج الحق چونکہ قانون ساز اِیوان بالا کے رُکن ہیں اور وہ وزیراعظم کا اِنتخاب لڑنے کیلئے اہل نہیں۔

اِس لئے پی ٹی آئی کی جانب سے ’شیخ رشید‘ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن یہ ’اعزاز‘ زیادہ باوقار اور شیخ رشید کیلئے زیادہ باعث افتخار ہوسکتا تھا‘ اگر اِس میں حزب اختلاف کی جملہ سیاسی جماعتیں شریک ہوتیں۔ کہیں ’سولو فلائٹ‘ کی خواہش ’تحریک انصاف‘ کو لے ڈوبنے کا سبب ہی نہ بن جائے؟