بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / وزیر اعلیٰ پرویز خٹک وفاق کے رویئے سے نالاں

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک وفاق کے رویئے سے نالاں

پشاور ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ا ن کی حکومت نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہترین خدمات کو یقینی بنانے کے لئے اپنے اہداف کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا اور از سر نو اہداف مقرر کئے جن کے حصول کے لئے ٹھوس اقدامات کئے۔ صوبے میں غیر ترقیاتی اخراجات اور وسائل کے غیر ضروری مصرف کی حوصلہ شکنی کی۔ مختلف سماجی شعبوں میں ریفارمز متعارف کرانے پر وسائل خرچ کئے ۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کی طرف سے صوبے کے شیئر کی ترسیل میں سست روی قابل افسوس ہے جو صوبے میں ریفارمز کے عمل کو سست کر رہی ہے۔ ہماری حکومت نے صوبے کے وسائل کی بنیاد وسیع کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں اور صوبے میں مختلف شعبوں میں ڈی ایف آئی ڈی کی سپورٹ کو سراہا۔ انہوں نے ایشین ڈویلپنٹ بنک کی بس ریپڈ ٹرانزٹ پشاور اور پن بجلی سکیموں میں معاونت کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم صوبے میں فاٹا کے انضمام کے لئے تیار ہیں لیکن وفاقی حکومت کا پلان سست ہے اور انضمام کے حوالے سے اس میں نیک نیتی نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی ایف آئی ڈی کی ہیڈ جوانا ریڈ اور اسکی ٹیم سے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اپنے عہدے کی معیاد پوری کرنے والے ڈپٹی ہیڈڈی ایف آئی ڈی جودت ہربرٹسن، سٹر یٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ اور انتظامی سیکرٹری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ نے تعلیم ، صحت ، امن و امان کے اقدامات ، احتساب اور ہیومینیٹرین کے شعبوں میں مدد دینے پر ڈی ایف آئی ڈی کا شکریہ ادا کیا جو تعلیم میں سپورٹ پروگرام کا تخمینہ 283.2ملین پاؤنڈ ہے جبکہ دیگر شعبوں میں تعلیم و صحت، حکمرانی، احتساب وغیرہ شامل ہیں۔ جوانا ریڈ نے تعلیم ، صحت اور سماجی خدمات کے شعبوں میں وزیر اعلیٰ اور اسکی صوبائی حکومت کی گراں قدر خدمات اور کامیابیوں کو سراہا۔

انہوں نے صوبے میں متعدد قانون سازی کے ذریعے کرپشن کے خاتمے اور شفاف حکمرانی کو بھی سراہا۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی ترجیحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ، صحت اور سماجی خدمات کے شعبے انکی حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست رہے۔کیونکہ جب وہ حکومت میں آئے تو یہ سارے شعبے زبوں حالی کا شکار تھے ۔ ماضی کے حکمرانوں نے اس پر سیاست کی اور اسے تباہی کے نہج تک پہنچا دیا اسلئے انکی حکومت نے ان اداروں سے سیاست کا خاتمہ کیا۔سماجی خدمات کو عوامی خواہشات کے تابع بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے۔ صوبے میں ریفارمز کے عمل کو تیز تر کیا، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ڈاکٹروں اور غیر دستیاب سہولیات پوری کرنے کے لئے وسائل فراہم کئے۔

یہ ایک مشکل مرحلہ تھا کیونکہ تمام شعبوں میں سیاست بازی نے تباہی پھیلائی تھی اور صوبے کے وسائل کم تھے لیکن ہم نے تمام مشکل صورت حال کا کامیابی کے ساتھ حل کرنا اپنا مشن سمجھااور سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحت اور تعلیم سمیت تمام سماجی خدمات کے شعبوں کے لئے زیادہ وسائل مختص کئے۔ حکومت نے سکولوں میں طلبا کے نتائج پر اثر انداز ہونے والے بوٹی مافیا کا خاتمہ کیا، نمبروں کی خرید و فروخت کا راستہ روکا جسکی وجہ سے عجیب و غریب قسم کی صورت حال سامنے آئی لیکن یہ بہتری کا سفر تھا اور اس سفر کے لئے مشکل فیصلے کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ تاہم ریفارمز کا سفر جاری رہے گا اور اسکے مکمل نتائج میں دو تین سال لگ سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے وفاق کی طرف سے صوبے کو وسائل کی فراہمی میں سستی پر افسوس کا اظہار کیا جو اصلاحات کے عمل میں رکاوٹ بنتی جا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں زیادہ وسائل اسلئے ڈالے کہ وہ تباہ حال دکھائی دے رہے تھے۔ انفراسٹرکچر تو تھا لیکن اس میں سہولیات نہیں تھیں۔ اساتذہ اور ڈاکٹر موجود نہیں تھے اس سے استفادہ بھی نہیں ہو رہا تھا۔ اس انفراسٹرکچر سے بھرپور طریقے سے استفادہ کرنے کے لئے اپنی استعداد سے بڑھ کر وسائل دیئے اور تمام قسم کی تبدیلی اور تعیناتی کو سیاسی بنیادوں سے آزاد کیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے صوبے کی ترقی کی سمت ٹھیک کر دی ہے اور صوبے کے وسائل کی بنیاد میں وسعت لانے کے لئے متعدد اقدامات کئے تاکہ صوبہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر عوامی خوشحالی کے لئے ہونے والے اقدامات کے لئے وسائل پیدا کر سکے۔ انہوں نے ایف ڈبلیو او کے ساتھ دو ہاؤسنگ سکیموں اور پن بجلی کی متعدد سکیموں کا حوالہ دیا جو صوبے کے وسائل کی استعداد میں اضافہ کا باعث ہو گا اور صوبے کی خوشحالی کا ضامن ہو گا۔

وزیر اعلیٰ نے صوبے میں کرپشن کے خاتمے اور شفاف حکمرانی کے لئے صوبائی حکومت کے درجنوں قوانین پر بھی روشنی ڈالی جس میں مفاد سے ٹکراؤ، اطلاعات تک رسائی اور وسل بلوئر کا قانون شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام اداروں کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے تاہم اس میں مزید بھی کام کرنے کی ضرورت ہے اور سب سے زیادہ اہم عوام کو کرپشن کے خلاف بیدار کرنا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے صوبے میں فاٹا کے انضمام کے حوالے سے کہا کہ ہم اس سلسلے میں مکمل طور پر تیار ہیں لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے انضمام میں سستی اسکی عدم دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔صوبائی حکومت کے افسران فاٹا میں گورننس سسٹم کا حصہ ہیں صرف وہاں پولیسنگ کے نظام کو توسیع دینا ہے فی الوقت ایف سی میں تربیت یافتہ اہلکار موجود ہیں جو فاٹا میں آپریشنل پولیسسنگ کے لئے فراہم کئے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان فاٹا کے انضمام کے مخالف ہیں شاید اسکا ایجنڈا کچھ اور ہے۔صوبے کو لون اور عملدرآمد کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے سماجی خدمات کے شعبوں میں بہتر سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے تیز تر ٹائم لائن اور تیز تر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ حکومت عوام کو تمام سماجی شعبوں میں تمام آسانیاں فراہم کرنا چاہتی ہے کیونکہ ماضی میں بد قسمتی سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑاہے۔