بریکنگ نیوز
Home / کالم / اٹو میٹک اسلحہ اور عبوری وزیر اعظم

اٹو میٹک اسلحہ اور عبوری وزیر اعظم

شاہدخاقان عباسی بادی النظر میں وزیراعظم تو45 دنوں کیلئے بنے ہیں پر گزشتہ منگل کی شب قومی اسمبلی کے فلور پر اپنی مختصر تقریر کے دوران جو ایجنڈہ انہوں نے دیا ہے اس پر تو کسی صورت بھی اس قلیل عرصے میں سو فیصد عمل درآمد نہیں ہوسکتا ان کی تقریر میں ہمیں جو چیز اچھی لگی وہ ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ کسی بھی پرائیویٹ فرد کے پاس آٹو میٹک اسلحہ دیکھنا نہیں چاہتے، اس قسم کااسلحہ صرف اور صرف امن عامہ کے نفاذ سے متعلق اداروں کے پاس ہونا چاہئے‘ مثلاً پولیس‘ پیراملٹری فورسز اور آرمی‘ پر انہوں نے یہ کہہ کر کمزوری دکھائی کہ اگر ان کی کابینہ نے ان کیساتھ اتفاق کیا تو وہ آٹومیٹک اسلحہ کے لائسنسوں پر پابندی لگادیں گے، بھئی آپ نے اس اچھے اور ضروری کام پر عمل درآمد کو کابینہ کی منظوری کیساتھ کیوں مشروط کردیا؟ لیڈر تو وہ ہوتا ہے جو کابینہ کو صحیح راستہ دکھاتا ہے، لیڈر وہ نہیں ہوتا کہ جسے کابینہ کے اراکین ہانکیں! اس میں دو آراء بالکل نہیں کہ اس ملک میں امن عامہ جو تباہ وبرباد ہوا ہے، اس میں بھاری اور آٹو میٹک اسلحے کے استعمال کا بڑا عمل دخل ہے اس معاملے کو حل کرنے میں بدقسمتی سے ماضی میں ہر حکومت مصلحت پسندی کا شکار ہوئی‘ اگر اس جانب کوئی پیش رفت ہوئی بھی تو نیم دلانہ، پرانے وقتوں کانظام بہتر تھا، آرمز ایکٹ کے تلے یہ اختیار صرف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس تھا کہ وہ اسلحہ کے لائسنس جاری کرے‘ اس مقصد کیلئے اس کا ماہانہ کوٹہ مقرر تھا جس سے زیادہ وہ آرمز لائسنس جاری نہیں کرسکتا تھا‘ آرمز لائسنس دو اقسام کے ہوتے تھے‘ ایک کو ممنوعہ بور کے اسلحے کا لائسنس کہا جاتا اور دوسرے کو غیر ممنوعہ بور کا۔ اول الذکر تو کبھی شاذ ہی کسی کو جاری ہوتا پھر ایک ایسا دور شروع ہوا کہ اسلحے کے لائسنس کے اجراء میں مادر پدر آزادی شروع ہوگئی، وزارت داخلہ کے کارندوں نے بھی آرمز لائسنسوں یا سپیشل پرمٹوں کے انبار لگادیئے اور وہ بھی کلاشنکوف اور اس جیسے ممنوعہ بور کے اسلحے کے، چنانچہ ہم نے دیکھا کہ ہر نتھو خیرے کے پاس کلاشنکوف کے پرمٹ آگئے۔

اب بات بہت دور تلک نکل چکی ہے اب اس کو کنٹرول کرنے یا باالفاظ دیگر معاشرے سے آٹو میٹک اسلحے کی لعنت ختم کرنے کیلئے 45دن ناکافی ہوں گے، ہاں البتہ شروعات ضرور کی جاسکتی ہیں پر آٹومیٹک اسلحے کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے فالو اپ ایکشن بھی ضروری ہوگاجس کا دورانیہ 45مہینوں تک پھیل سکتا ہے، کیونکہ اس لعنت کی مثال کینسر کی بیماری ہے جس کے مکمل علاج کیلئے لمبا عرصہ درکار ہوگا، ابتداء میں تو ضروری ہے کہ جو تجاویز ہم ذیل میں درج کررہے ہیں ان کیلئے ضروری قانون سازی کی جائے، پہلے مرحلے میں حکومت میڈیا کے ذریعے ہرخاص وعام کو مطلع کرے کہ وہ ایک مہینے کے اندر اندر جو بھی آٹو میٹک اسلحہ ان کے پاس موجود ہو اپنے نزدیکی تھانے میں جمع کرادے اور اس کے بدلے تھانیدار انہیں پکی رسید دے گا، اگر یہ عمل ایک ماہ کے اندر پورا نہ ہوا تو اس کا دورانیہ مزید ایک ماہ کیلئے بڑھایاجائے، پبلک کو غیر مبہم الفاظ میں بتلا دیاجائے کہ اگر مقررہ وقت کے اندر انہوں نے اسلحہ جمع نہ کرایا اور بعد میں پولیس نے اگر ان سے وہ برآمد کرلیا تو اس جرم میں ملوث فرد کو دس لاکھ روپے جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے، پبلک نوٹس کے ذریعے عوام کی تسلی کرائی جائے کہ وہ جو اسلحہ جمع کرائیں گے ان کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق انہیں پیسے سرکار دے گی، اس آٹو میٹک اسلحہ کو حکومت پھر پولیس، پیرا ملٹری فورسز اور آرمی کے حوالے کرسکتی ہے‘ یہ کام مشکل ضرور ہوگا پر ناممکن نہیں‘ دنیا کے کسی بھی ملک میں اس طرح کھلے عام نہ تو آٹو میٹک اسلحے کو رکھنے کی اجازت ہے اور نہ ہی اس کی کھلی نمائش کی، یہ اس ملک میں ہی ہو رہا ہے، وقت آگیا ہے کہ اب اس معاملے کو سنجیدگی سے نبٹایا جائے۔