بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی موسموں کی تبدیلی؟

سیاسی موسموں کی تبدیلی؟

مسلم لیگ(ن)کے سربراہ بطوروزیراعظم عہدے کی اہلیت عوام کے منتخب نمائندوں کی حمایت کے سبب رکھتے تھے لیکن انہیں پارلیمنٹ اور اپنی ہی بنائی ہوئی سیاسی جماعت کے عہدے سے تاحیات نااہل قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرنے والوں کو تنقید سے پہلے فیصلے کی واضح باریک اور تکنیکی جواز پر غور کرلینا چاہئے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ’’واجب الوصول‘‘ پیسہ جو کبھی وصول ہی نہیں کیا گیا ان پیسوں کو ظاہر نہ کرنے سے کسی کی ایمانداری اور اعتماد کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا وہ یہ بھی نکتہ اٹھاتے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف پٹیشن دائر کرنے والوں کی جانب سے عائد کردہ سنگین الزامات اور وہ الزامات بھی جو جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی درج ہیں‘ اس فیصلے کے اندر ان الزامات کو نااہلی کی بنیاد ہی نہیں بنایا گیا اور ان کا کہیں ذکر بھی نہیں ملتا۔ اس چیز نے قانونی اور سیاسی طور پر کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پہلا اختلافی حکم نامہ اور اب آخری اتفاقی حکم نامہ جاری کرنے سے قبل کل تحقیقاتی مرحلہ مکمل کیوں نہیں کیا گیا؟ ایسا کہا گیا کہ ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی اور یوں فیصلے کی غیر جانبداری منفی طور پر متاثر ہو رہی ہے اگر احتساب عدالت ریفرنسوں کی تحقیقات اور جائزہ لینے کے بعد وزیر اعظم پر مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ کرتی ہے‘ تو کیا وہ ’تکنیکی‘ خلاف ورزی کی بنیاد پر پھر بھی تاحیات نااہل رہیں گے؟ کیا تاحیات پابندی موجودہ قانون کے مطابق بھی تھی؟ اگر نہیں‘ تو کیا سپریم کورٹ کا فل بنچ نظرثانی کے بعد پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کو واپس لے سکتا ہے؟ ایسے کسی اقدام کے سیاسی اور قانونی نظام پر کیا اثرات ہوں گے‘ خاص طور پر انتخابی سال میں؟ سپریم کورٹ کے فیصلے کا دفاع کرنے والوں کے مطابق‘ وزیر اعظم کا اعتراف کہ انہوں نے کیپٹل ایف زیڈ ای سے واجب الوصول پیسوں کو ظاہر نہیں کیا‘ کوئی ’معمولی تکنیکی بات‘ نہیں ہے۔

اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں میں سے ایک نے الزام عائد کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے شیکسپیئر کے ایک کردار کے خیال سے متاثر ہو کر فیصلہ کیا جسکے مطابق ’ایک بڑے درست کام‘ کی خاطر ’ایک چھوٹا غلط کام‘کیا جا سکتا ہے۔ دراصل اعلیٰ عدلیہ نے کوئی بھی غلط کام کئے بغیر ایک بہت ہی بڑا درست کام کیا ہے‘ بھلے ہی فیصلے پر باہمی رضامندی کو یقینی بنانے کیلئے معمولی عدالتی جواز ہی کیوں نہ پیدا کیا گیا ہو لیکن وزیر اعظم کی نااہلی کے لئے آپ اس معمولی جواز کی بھی قانونی حیثیت سے انکار نہیں کر سکتے۔ جواز بھلے ہی معمولی ہو لیکن اس کی قانونی حیثیت نااہلی کے لئے کافی ہے۔ مزید برآں‘ احتساب اور ٹرائل کورٹ کو زیادہ سنگین الزامات کے حامل ریفرنسوں کے ذریعے نااہلی ممکن ہے اس سے بھی بدتر کے قانونی جواز کا پرمعنی انداز میں وسیع اِمکان موجود ہے۔ ملک کے اندر موجود طرز حکمرانی کی حالت کو فیصلے کا جواز نہیں بنایا گیا۔ نہ ہی اسے نظر انداز کیا گیا بلکہ سپریم کورٹ نے بڑے ہی محتاط انداز میں غور و فکر‘ دور اندیشی اور دانائی کے ساتھ اپنا کام کیا۔ اس کے باوجود بھی ہم زبردست سیاسی غیر یقینی کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ سبکدوش ہونیوالے وزیر اعظم نے اپنے اور بھی زیادہ متنازع بھائی کو اپنا جانشین منتخب کیا ہے اور ان کے بھائی نے اپنے بیٹے حمزہ کو اپنے جانشین کے طور پر نامزد کیا ہے! جبکہ لچکدار‘ جرم میں شریک اور کرپٹ ارکانِ پارلیمنٹ سے اس خاندانی تسلسل کو برقرار رکھنے والے فیصلوں کی ربر سٹیمپ بن کر توثیق کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور انکے بیٹے کے نام قریب سولہ ریفرنسوں میں شامل ہیں اور سپریم کورٹ نے ان ریفرنسوں کو احتساب عدالتوں میں بھیجنے کے لئے نیب کو ہدایت جاری کی ہوئی ہے۔ دیگر تحقیقات بھی ہونا باقی ہیں جس میں سیاسی مداخلت اور ساز بازی کے لئے لائسنس موجود نہیں ہوگا چنانچہ بڑی حد تک امکان ہے کہ شہباز شریف اور ان کے بیٹے بھی پارٹی اور سرکاری عہدے سے نااہل قرار دے دیئے جائیں گے۔ اس کے مسلم لیگ نواز پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ پاکستان کی سیاست پر کون سے اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا پی ٹی آئی بغیر کچھ کئے عام انتخابات جیتنے کیلئے اس سنہرے موقع کا فائدہ اٹھا سکتی ہے؟ کیا یہ اپنے کم سطحی توقعات کے جال کے ساتھ پنجاب کو ہلا کر رکھ سکتی ہے؟ سرد ہواؤں کا سلسلہ شاید کچھ عرصہ مزید جاری رہے مگر صبح بہار طلوع ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے اگر بلاامتیاز احتساب اوپر سے شروع نہیں ہوگا تو اِس سے ملکی ساکھ اور عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوگا۔

( بشکریہ: ڈان۔ تحریر: اشرف جہانگیر قاضی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)