بریکنگ نیوز
Home / کالم / خراج تحسین

خراج تحسین


ایبٹ آباد شہر جو ساٹھ کی دہائی میں کنج جدید سے شروع ہو کر کھولہ کہیال پر ختم ہوتا تھا اور پولیس لائن سے شروع ہو کر لیڈی گارڈن پر ختم ہو جاتا تھا اور ایبٹ آباد کینٹ لیڈی گارڈن سے شروع ہو کر کاکول اکیڈمی پر ختم ہوتا تھا اور اس درمیان بھی کافی خلا ہوتے تھے یعنی ایک بڑا سلسلہ میدانوں کا ہوتا تھا جس میں فوج کے پریڈ گراؤنڈ‘ ہاکی اور فٹ بال کے بڑے بڑے گراؤنڈ اور حیوانات یعنی گھوڑوں اور خچروں کیلئے احاطے ‘ آبادی کا یہ حال تھا کہ جب تک کالجوں میں تعلیم جاری رہتی بازار کی رونقیں بھی بحال رہتی تھیں اور جب کالجوں سکولوں میں سردی کی چھٹیاں ہوتیں تو بازار سنسان ہو جاتے ‘ ٹریفک کا یہ حال تھا کہ فوجی گاڑیوں کے علاوہ بہت کم سویلین گاڑیاں ہوتی تھیں ‘ ٹانگہ شہر اور کینٹ کے درمیان او رشہر اور نواں شہر کے درمیان سواری کا واحد ذریعہ تھا‘گاہے گاہے سڑک پر کوئی کار بھی دوڑتی نظر آ جاتی تھی جس میں ان ٹیکسیوں کی تعداد پانچ یا چھ ہوتی تھی جو کیڈٹس کو شہر سے کاکول اکیڈمی لاتی لے جاتی تھیں۔شہر اور کینٹ بارش کے بعد یوں لگتا تھا جیسے کسی نے دلہن کو سجایا ہو۔بارش کے بعد عموماً شہر کے باسی باہر نکل پڑتے اور ایبٹ آباد کے حسن سے لطف اندوز ہوتے۔شہر سے گزرنے والی سڑکیں سنگل لائن اور تنگ سی تھیں مگر بارش کے بعد دھل کر اتنی صاف ہو جاتیں کہ ان میں بندہ اپنا منہ دیکھ سکتا تھا‘پھر آہستہ آہستہ آبادی نے بڑھنا شروع کر دیا‘ ایک توسکولوں اور کالجوں کی وجہ سے اور دوسرے مختلف اوقات میں ملک میں مختلف آفات کی وجہ سے نقل مکانی نے اس شہر کی آبادی میں اضافہ کیا اب اگر ایبٹ آباد کا محل وقوع دیکھا جائے تو وہ جناب بخاری صاحب کا لاہور معلوم ہوتا ہے کہ اسکے مشرق مغرب شمال جنوب میں ایبٹ آباد ہی ایبٹ آباد ہے۔

ادھر حکومتوں کے عوام کو کاروں کے حصول کو آسان بنانے اور عوام کے بیرون ملک نوکریاں کرنے نے اہم رول ادا کیا ہے‘ جس ایبٹ آباد میں ستر اور اسی کی دہائی میں کہیں کہیں موٹر کار نظر آتی تھی وہاں کاروں کے ہجوم کا یہ حال ہے کہ سڑک پار کرنا بھی ایک مسئلہ بن گیاہے اور سڑکوں کا یہ حال ہے کہ مانسہرہ روڈ کو تو دو رویہ کیا گیا ہے مگر ایسے کہ کسی بھی مقام سے ایک گاڑی کا دوسری گاڑی کو اوورٹیک کرنا بھی ایک مسئلہ ہے جبکہ اندرون شہر کی سڑکیں ابھی تک دو رویہ نہیں ہوپائیں‘ادھر جو لوگ 2005 کے زلزلے کی وجہ سے نقل مکانی کر کے آئے اور ضرب عضب کے متا ثرین نے اس شہر پرجو بوجھ ڈالا ہے وہ الگ ہے اس کیساتھ ساتھ یہ شہر ایسی جگہ واقعی واقع ہے کہ شمالی علاقہ جات کو جانیوالی ہر گاڑی یہیں سے ہو کر گزرتی ہے اس کے سبب ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے۔ خصوصاً فوارہ چوک سے آگے مانسہرہ روڈ تو عام دنوں میں عموماً اور عید وغیرہ کی چھٹیوں میں خصوصاً ٹریفک جام کا منظر پیش کرتا ہے اور ان دنوں میں سلہڈ سے سے لیکر میر پور تک ٹریفک کا چلنا دشوار ترین ہو جاتا ہے‘سلہڈسے ایبٹ آباد تک کا فاصلہ اتنا وقت لے لیتا ہے کہ جتنا راولپنڈی یا پشاور سے سلہڈ تک کا وقت درکار ہوتا ہے‘ہمیشہ عید کے دنوں میں یا مخصوص چھٹیوں کے دنوں میں تو اس سے بھی زیادہ برا حال ہوتا ہے۔لیکن اس دفعہ عید کی چھٹیوں میں لوگوں کا ہجوم گلیات کاغان ناران ‘گلگت سکردو وغیرہ کی سیر کو آنے والوں کا، بہت زیادہ تھا مگر مزے کی بات یہ ہے کہ اس رش کے باوجود اس دفعہ معجزہ یہ ہوا کہ ان دنوں میں ٹریفک کہیں بھی رکی نہیں ‘ہمیں عید پر گاؤں جانا ہوتا ہے جو حویلیاں سے تین میل جنوب میں ہے ۔

اس دفعہ حیران تھے کہ آسانی سے دو تین دن آتے جاتے رہے‘یہ حیرانی اسوقت ایک حیرت انگیز خوشی میں بدلی کہ جب ہمیں شہری اتحاد کی جانب سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا کہ وہ ٹریفک پولیس کو خراج تحسین پیش کرنے جا رہے ہیں ‘ فنکشن میں وہ سارے جوان شامل تھے جنکی وجہ سے ہمیں ٹریفک جام کا دکھ نہیں اٹھانا پڑا۔ اس میں سب سے بڑا ہاتھ اس با ہمت آفیسر جناب اشفاق انور صاحب کا تھا جو یہاں پر ڈی پی او بن کر آئے ہیں‘یہ ہمارے شہر میں پہلے مجسٹریٹ کے طور پر بھی فائز تھے اور پھرپولیس سروس میں آگئے‘ انکی اس شہر سے محبت دیدنی تھی انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شہری اتحاد کو بھی خراج تحسین پیش کیا خصوصاً جناب کامران احمد ایڈوکیٹ کو جو شہری اتحاد کے صدر او رایک انتھک کار کن ہیں۔جنہوں نے یہ ضروری سمجھا کہ ٹریفک پولیس کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے کہ جنہوں نے اس قدر مستعدی سے ٹریفک کو جاری و ساری رکھااس د وران یہ بھی انکشاف ہوا کہ جو فلائی اوور اس شہر کیلئے ضروری تھے ان کا نہ بننا بھی ٹریفک کا ایک بڑا مسئلہ ہے حکومت اس شہر کے مسائل خصوصاً فلائی اوورز پر سنجیدگی سے غور کرے۔