بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / روبہ زوال اقدار!

روبہ زوال اقدار!

تحریک اِنصاف کی مرکزی قیادت اس بات کا دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہے کہ اس نے ملک کو ایسے نئے سیاسی کلچرسے روشناس کرایا جس میں غریب و متوسط طبقات کی طرح ایک معقول تعداد میں سرمایہ دار اور ان روشن خیال طبقات سے تعلق رکھنے والے گھرانے بھی نئے پاکستان کی انقلابی جدوجہد کا حصہ بنے‘ جو قبل اَزیں جلسے جلوسوں اور بالخصوص عام انتخابات جیسی ہنگامہ آرائیوں سے الگ رہنے میں عافیت سمجھتے تھے۔ تحریک انصاف ہی ہے جس نے عوامی اجتماعات میں ملی نغموں‘ پارٹی کی تعریف میں تحریر و نغمائے گئے ترانوں اور سیاسی اجتماعات کے اختتام پر قومی ترانے کا استعمال کیا۔ اسی طرح سیاسی پیغامات کی ترسیل و تشہیر کیلئے سماجی رابطہ کاری کے وسائل بالخصوص ٹوئٹر کے استعمال کا سہرا بھی تحریک انصاف ہی کے سر ہے۔ تحریک انصاف نے طرز حکمرانی کی اصلاح کے لئے ای گورننس کے وسائل پر ایک خاص حد تک بھروسہ کیا لیکن بہت سے کاموں کی تکمیل ہونا ابھی باقی ہے جیسا کہ پورے خیبرپختونخوا کے لینڈ ریکارڈکی کمپیوٹرائزیشن‘ ترجیحات کی درجہ بندی درست اقدام ہوتا اگر اِسے پایا تکمیل تک بھی پہنچایا جاتا۔ بہرحال بالائی ہزارہ ڈویژن کے علاقوں پر مشتمل سیاحتی علاقے گلیات میں جنگلات و اراضی کا سروے بذریعہ گوگل میپ کرکے نئی حد بندیاں جاری کرنا غیرمعمولی عملی کوشش ہے جس پر اعتراض کی گنجائش‘ باقی نہیں رہی لیکن انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بے حدوحساب استفادے میں تحریک انصاف کسی بھی دوسری جماعت سے پیچھے نہیں!

تحریک کا مرکزی میڈیا سیل بھی موجود ہے لیکن ہر رہنما اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بیانات داغنے کیلئے ملی آزادی سے خوب محظوظ ہو رہا ہے سیاست سے اخلاقیات کے رخصت ہونے کی تاریخ تو بہت پرانی ہے لیکن جس طرح عمومی و خصوصی آپسی رابطوں سے لیکر سوشل میڈیا تک پھیلے الیکٹرانک آلات کا استعمال رازداری کیلئے ہوا ہے اسکے منفی اثرات سیاسی اخلاقیات پر مرتب ہوئے ہیں کیونکہ حفظ مراتب کا لحاظ نہیں رہا۔ تحریک انصاف سے چار سال تک وابستہ اور خواتین کی مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی بننے کا اعزاز رکھنے والی ’محترمہ عائشہ گلالئی‘ کی مثال موجود ہے‘ جنہیں اور جن کے اہل خانہ کو نہ صرف تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین کی حددرجہ تنقید کا سامنا ہے بلکہ انہیں ذرائع ابلاغ بھی اپنی ریٹنگ اور کسی سیاسی مؤقف کی حمایت میں دل کھول کر گھسیٹ رہے ہیں! عائشہ گلالئی تو رول ماڈل ہونی چاہئے کہ ہمارے جیسے ملک میں کسی بھی خاتون کے لئے اس قسم کی بات کرنا کمزور حوصلہ رکھنے والوں کے بس کی بات نہیں ہوتی! گلالئی کا یہ حق ہے کہ وہ جب چاہے اور جب مناسب سمجھے اپنے ساتھ ہونیوالی زیادتی کو بیان کرے‘ لہٰذا یہ اعتراض بالکل غلط ہے کہ انہوں نے پارٹی قیادت کے ہراساں کرنے پر مبنی رویئے کو کم سے کم چار سال تک برداشت کیوں کیا! دیکھنا تو یہ چاہئے کہ مبینہ طور پر زیادتی ہوئی ہے یا نہیں اور اس کا فیصلہ کرنے کے قومی ادارے موجود ہیں۔ درحقیقت الزامات عائد کرنے والی گلالئی پر ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیان کے حق میں ناقابل تردید ثبوت فراہم کریں۔ گلالئی پاکستان کی صحافت کیلئے بھی ایک ٹیسٹ کیس ہے۔

سیاسی اختلافات پر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے تقسیم ہونے کی سمجھ تو آتی ہے لیکن کسی خاتون کے خود کو ہراساں کئے جانے کے بیان کو بھی ’سیاسی تناظر اور حالات‘ کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرنے والوں سے دانستہ غلطی سرزد ہو رہی ہے۔ تین اگست کی صبح سینئر صحافی و تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی سے ٹیلی فونک بات چیت میں درخواست کی گئی کہ وہ پاکستان میں ’نجی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا‘ کے کردار اُور غیرجانبداری کے اَصولوں پر مبنی صحافتی اَخلاقیات کو اُجاگر کریں‘ کیونکہ پاکستان میں جسطرح صحافت فعال بصورت روبہ زوال ہے اِس کی واپسی ’اَزخود‘ نہیں ہوگی۔ یہ اَمر بھی لائق توجہ ہے کہ پاکستان کے سینئر صحافیوں میں صرف رحیم اللہ یوسفزئی ہی کے کندھوں پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی لیکن وہ مشعل بردار کا کردار ادا کرتے ہوئے صحافت کی کھوئی ہوئی ساکھ ضرور واپس دلا سکتے ہیں۔