بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بھارت‘ افغانستان کے حوالے سے اصولی موقف

بھارت‘ افغانستان کے حوالے سے اصولی موقف

دفتر خارجہ کے ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ افغانستان اور بھارت کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کی عکاس ہے۔ نفیس ذکریا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کرنے کیساتھ بتا رہے ہیں کہ حریت قائدین کو ہراساں کرنے اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کیلئے تحریک کو دہشت گردی سے منسوب کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ دفتر خارجہ افغانستان میں دہشت گردی کی مذمت بھی کرتا ہے جبکہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے افغانستان سے تعاون اور بارڈر مینجمنٹ بھی بہتر بنانے کا خواہاں ہی ہے۔ پاکستان امریکی وفد کے دورے میں بھی افغانستان کے مسائل اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھا چکا ہے۔ اس کے ساتھ چار ملکی رابطہ گروپ کے تحت بھی افغانستان میں امن کے قیام کی جدوجہد جاری ہے اس سب کے باوجود افغانستان سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہی رہتا ہے جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل کیلئے نتیجہ خیز مذاکرات ہی چاہتا ہے ۔

دوسری جانب بھارت نہ صرف ہر مرتبہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتا رہا ہے بلکہ اس میں کشمیر کے مسئلے کو سرے سے شامل ہی نہیں کرنا چاہتا۔ بھارت کی موجودہ حکومت میں تعلقات مزید بگاڑ کی جانب ہی گئے ہیں۔ بھارتی روےئے نے سارک کے مجموعی عمل کو بھی متاثر کیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے اقدامات بھی سامنے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اس معاملے پر سرتاج عزیز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط بھی بھجوا چکے ہیں۔ برسرزمین حالات اور ان کے تناظر میں پاکستان کا مثبت کردار اس بات کا متقاضی ہے کہ عالمی برادری صورتحال کا نوٹس لے اور پاکستان کے موقف کو سپورٹ کیاجائے۔ اس میں عالمی ادارے کے وقار کا بھی سوال ہے جس کی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے منظور شدہ قراردادوں پر عمل نہیں کیا جا رہا۔

مجسٹریسی سسٹم کا نعم البدل؟

پشاور میں کمرتوڑ مہنگائی کی اپنی کمر توڑنے کیلئے ڈسٹرکٹ لیول پر انفورسمنٹ افسروں کو فعال بنادیاگیا۔ ضلعی حکومت نے تعمیلی افسروں کو موقع پر جرمانہ کرنے کیلئے رسید بکس بھی جاری کر دی ہیں۔ ضلع ناظم کی زیر صدارت اجلاس میں بار بار قاعدہ قانون توڑنے والوں کو عدالت کے ذریعے50 ہزار روپے تک جرمانہ اور تین ماہ قید کی سزا دلوانے کا عندیہ بھی دیاگیا ہے۔انفورسمنٹ افسروں کو مختلف علاقے تفویض کر دئیے گئے ہیں۔ ہر قاعدے قانون سے آزاد مارکیٹ کنٹرول کی ضرورت کا ضلعی سطح پر احساس قابل اطمینان اور اس حقیقت کا عکاس ہے کہ مجسٹریسی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سسٹم کی بحالی مرکز اور صوبوں کی سطح پر فیصلہ سازی سے مشروط ہے۔ مرکز اور صوبوں کو خود اس ضرورت کا احساس کرنا ہوگا کیونکہ اس سے ہی عوامی ریلیف جڑی ہوئی ہے۔ سردست ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے لئے ضروری ہے کہ وہ انفورسمنٹ افسروں کو بھرپور اختیارات کے ساتھ وسائل بھی فراہم کرے تاکہ وہ ثمرآور نتائج دے سکیں۔