بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اعجاز الحق کی وزیراعظم سے دوستی کام نہ آسکی

اعجاز الحق کی وزیراعظم سے دوستی کام نہ آسکی

اسلام آباد۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کی تشکیل میں مسلم لیگ (ضیاء) کے علاوہ دیگر تمام اتحادیوں کو نمائندگی دیدی گئی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی مسلم لیگ (ضیاء ) کے سربراہ اعجاز الحق سے 48 سالہ دوستی کے باوجود انہیں کابینہ میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق نئی کابینہ کی تشکیل میں جمعیت علماء اسلام (ف) کو ایک کی بجائے 2 وزارتیں مل گئی ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کا پرانا کوٹہ برقرار رکھتے ہوئے میر حاصل بزنجو کو دوبارہ وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ مقرر کیا گیا ہے جبکہ نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ مرتضیٰ جتوئی کو بھی وزارت صنعت کے وزیر کے طور پر دوبارہ وفاقی وزیر بنایا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ فاٹا کو بھی نمائندگی دی گئی ہے اور اقلیتیوں میں سے کامران مائیکل کے بعد (ن) لیگ سندھ سے خصوصی نشستوں پر منتخب ڈاکٹر درشن لال کو وزیر مملکت بنایا گیا ہے۔ بعض حلقوں کا یہ خیال تھا کہ اعجاز الحق کو اس کابینہ میں نمائندگی دی جائے گی کیونکہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے پہلے لانگ مارچ سے لے کر اب تک اعجاز الحق نے مسلم لیگ (ن) کے اتحادی کے طور پر بھرپور ساتھ دیا اور حالیہ رمضان المبارک میں شیخ رشید احمد نے انہیں سعودی عرب میں عمرہ کے دوران یہ کوشش کی تھی کہ وہ سابق وزیر اعظم نوا زشریف کا ساتھ چھوڑ دیں۔

لیکن اعجاز الحق نے شیخ رشید کی باتوں پر کوئی مثبت جواب نہیں دیا تھاجبکہ و زیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ان کی 48 سال سے دوستی ہے اور دونوں زمانہ طالب علمی میں امریکہ میں رہائش پذیر رہے ہیں اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے بڑے بھائی زاہد عباسی مرحوم اعجاز الحق کے کلاس فیلو تھے اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے والد خاقان عباسی اعجاز الحق کے والد جنرل (ر) ضیاء الحق کے قریبی دوست تھے اور ان کی ہی وجہ سے خاقان عباسی محمد خان جونیجو مرحوم کی کابینہ میں وفاقی وزیر بنائے گئے تھے۔