بریکنگ نیوز
Home / کالم / اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

موت کسی وقت بھی ہمارے دروازے پر دستک دے سکتی ہے، وہ پہلے پوچھ کر تھوڑی آتی ہے، اسے کیا پرواہ کہ کون سا وقت ہے، دن ہے کہ رات ہے، سیاہی ہے یا سفیدی، گرمی ہے کہ سردی، دھوپ ہے کہ چھاؤں، وہ وقت کی قید سے آزاد ہے وہ بوڑھے‘ جوان‘ مرد عورت ‘لڑکا لڑکی میں تمیز نہیں کرتی‘ آنے سے پہلے اسے اس فرد سے پیشگی ملاقات کا وقت نہیں لینا پڑتا کہ جس کی روح قبض کرنے وہ آتی ہے اس کے البتہ ابتدائی ایڈوانس پیغام دینے کے اپنے منفرد انداز ضرور ہیں‘ غالب جب 69برس کے ہوئے تو اکثر اپنے حواس خمسہ کی کمزوری کا تذکرہ اپنی تحریروں میں کیا کرتے
ہو گئے مضمحل قویٰ غالب
اب عناصر میں اعتدال کہاں

یہ اوپر کی سطور آپ جملہ معترضہ سمجھ کر پڑھ لیجئے ورنہ آج ہم نے اس بے اعتنائی کے بارے میں اپنے قارئین سے دوچار باتیں کرنی تھیں کہ جو ہم من حیث القوم کتب بینی کے ساتھ برت رہے ہیں اس ملک میں لائبریریاں ناپید ہوتی جارہی ہیں کتب بینی کا شوق عنقا ہوچکا ہے کتابوں اور لائبریریوں کے بغیر کسی تعلیمی ادارے یاکسی شہر کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، ہم وہ بدقسمت ہیں کہ انگریز ورثے میں جو لائبریریاں ہمارے لئے چھوڑ گیا تھا ہم نے انہیں بھی ختم کردیا، اپنے صوبے کی ہی بات کرلیتے ہیں، آپ کو کسی بھی شہر میں کوئی ڈھنگ کی لائبریری ملے گی ہی نہیں اور اگر کسی شہر میں ایک آدھ لائبریری موجود ہے بھی تو وہ سرکاری دفتر کی طرح چلائی جاتی ہے، اس کے وہی اوقات کار ہوتے ہیں کہ جو کسی سرکاری دفتر میں رائج ہوتے ہیں حالانکہ لائبریری ایک ایسی جگہ ہے کہ جو صح 8بجے سے کھل کر رات کم ازکم 8بجے تک کھلی رہے اور ہفتے اور اتوار کے دن بھی اسے کھلا رکھنے کے خصوصی انتظامات ہوں، تعلیم کا پھیلاؤ ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں کبھی شامل رہا ہی نہیں،اچھی لائبریریوں کے قیام میں اور ان کے چلانے کیلئے تربیت یافتہ لائبریرینز کی خدمات درکار ہوتی ہیں جو کم ازکم لائبریری سائنس میں ایم اے ہوں، ان کو بہتر تنخواہ، سکیل دیاجائے اور وہ تمام مالی سہولیات مہیا کی جائیں کہ جو کسی کالج کے پروفیسر کو دستیاب ہیں، تب کہیں جاکر پڑھے لکھے لوگ لائبریری سائنس کی طرف راغب ہوں گے، آج کے اس کالم کے عنوان یا مضمون کی مناسبت سے ہم اپنے قارئین کے ساتھ چند پرمغز اشعار شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سیبڑی حسرت سے تکتی ہیں…مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں…جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں ا ب اکثر…گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر…بڑی بے چین رہتی ہیں کتابیں … انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے…کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہے..کئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیں…زبان پر ذائقہ آتا تھا جو صفحہ پلٹنے کااب انگلی کلک کرنے سے بس اک چھپکی گزرتی ہیکتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا کٹ گیا ہے…کبھی سینے پر رکھ کر لیٹ جاتے تھے … کبھی گودی میں لیتے تھے…وہ سارا علم تو ملتا رہے گا آئندہ بھی…مگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے سو کھے پھول اور مہکے ہوئے رقعے، کتابیں مانگنے، گرنے اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھے
ان کا کیا ہوگا؟ وہ شاید اب نہیں ہوں گے۔