بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / بنی گالہ:حقوق کی جنگ!

بنی گالہ:حقوق کی جنگ!

عدلیہ کا عملاً احترام کسی ایک فیصلے کو تسلیم کرنے کا نام نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک فیصلے پر سرتسلیم خم کرنا ہوتا ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد کے مشرقی نواح میں راول ڈیم سے متصل بنی گالہ میں 122 رہائشگاہوں کی تعمیرات و توسیع کے عمل کو سپریم کورٹ نے غیرقانونی قرار دیا لیکن چونکہ ان گھروں کے مالک عام لوگ نہیں اسلئے سپریم کورٹ کے حکم کو عملی جامہ پہنانے کیلئے قومی ادارے بے بس ہیں! یاد رہے کہ بنی گالا کی وجہ شہرت یہ ہے کہ وہاں نامور سیاستدانوں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے علاوہ کئی سیاستدانوں کی رہائش گاہیں ہے۔ ملک کے سیاسی اور آئینی حلقوں میں گزشتہ ہفتے سے جاری بحث کا عنوان ہے کہ کیا بنی گالا کی تعمیرات بالخصوص عمران خان کی رہائش گاہ غیر قانونی ہے اور اگر سپریم کورٹ ایسی تمام تعمیرات کو غیرقانونی قرار دے چکی ہے تو کوئی شخص کس طرح ’اہل‘ ہو سکتا ہے جو دانستہ طور پر غیرقانونی اقدام کا مرتکب ہو؟پانامہ کیس کا فیصلہ سامنے آنے سے قبل ہی بنی گالا میں تعمیرات کا معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو چکا تھا لیکن اس سے متعلق چہ میگوئیوں میں اس وقت اضافہ ہوا‘ جب کچھ ہفتے قبل عمران خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر بنی گالا میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف نوٹس لینے اور سی ڈی اے کو متحرک کرنے کی درخواست کی۔ عمران خان کی اپنی ہی تحریر کردہ درخواست ان کیلئے وبال جان بن گئی اور جب سپریم کورٹ کے حسب حکم تحقیقات کا آغاز ہوا تو معلوم ہوا کہ تمام تعمیرات تجاوزات کے زمرے میں آتی ہیں! عجیب صورتحال یہ پیدا ہوئی ہے کہ صرف سرمایہ داروں ہی کے نہیں بلکہ بنی گالہ کی حدود میں متوسط آمدنی رکھنے والوں کے مکانات بھی سپریم کورٹ حکم کی زد میں آ گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بنی گالہ کے دیگر رہائشی عمران خان سے نالاں بلکہ ناراض ہیں کہ انہیں آخر ایسا کرنیکی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔

یہ بات بہت ہی کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ ’بنی گالا‘ میں معروف سیاستدانوں کے وسیع و عریض مکانات کی تعمیر سے قبل دارالحکومت اسلام آباد کا ترقیاتی ادارہ اس مقام پر نیشنل پارک بنانے جا رہا تھا اور یہ اراضی سرکاری کاغذات میں مختص بھی کی جاچکی تھی۔ نیشنل پارک کی یہ تجویز انیس سو ساٹھ میں تشکیل دیئے گئے اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ بتائی جاتی ہے ‘ اس تجویز کے تحت آج جس جگہ بنی گالا واقع ہے‘ وہیں ایک بہت بڑا درختوں سے بھرا پارک بنایا جانا تھا۔ اسلام آباد کی تعمیر کے ماسٹر پلان کی سرکاری دستاویزات موجود ہیں جن میں بنی گالا کے علاقے کو نیشنل پارک کے لئے مختص دیکھا جاسکتا ہے مگر فیصلہ سازی کے منصب افراد نے اِس مقام پر پہلے امیر طبقات اور بعدازاں متوسط آمدنی والوں کے آباد کرنے کی اجازت دے دی! آج بھی اگر کوئی ’گوگل میپ‘ کے ذریعے بنی گالا کی فضائی تصاویر دیکھے تو چند دہائیوں کی تصاویر کے آپسی موازنے سے صورتحال واضح ہو جائے گی۔ کیا بنی گالا میں غیرقانونی تعمیرات راتوں رات قائم ہوئیں اور متعلقہ اداروں کو پتہ ہی نہ چل سکا؟ بالکل ایسا نہیں ہے بلکہ تجاوزات کے خلاف پہلے اُنیس سو نوے اور بعد ازاں اُنیس سو بانوے میں بڑے پیمانے پر کاروائیاں کی گئیں لیکن سیاسی دباؤ اور متاثرین کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کرنے کی وجہ سے یہ کاروائیاں انجام تک نہ پہنچ سکیں۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ بنی گالہ کی قانونی حیثیت متنازعہ ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 1998ء اور خود سپریم کورٹ نے 1999ء میں بنی گالہ میں تعمیرات کے حق میں فیصلے دیئے ہیں۔ یاد رہے کہ سی ڈی اے کی اسی دلیل کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے بنی گالا میں عمران خان کی رہائش کو بھی غیر قانونی قرار دے رکھا ہے اگرچہ عمران خان نے قانونی طور پر زمین خریدی۔ اسی طرح دیگر افراد نے بھی قانونی طور پر زمین حاصل کی اور خود انتظامیہ نے بنی گالا میں تعمیرات کو قانونی قرار دیا تو اب اسے غیر قانونی قرار دینے کی منطق کیا ہے؟ اِس حوالے سے مباحثوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا‘ جب تک اس علاقے کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے سی ڈی اے کی گذشتہ پالیسیوں‘ زوننگ قواعد میں تبدیلیوں اور بنی گالا کے رہائشیوں کی جانب سے تعمیرات کا ایماندارانہ جائزہ نہیں لیا جاتا اس جگہ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہوئے بدعنوان اشرافیہ یا حکومتی عہدیداروں پر تنقید سے بنی گالا سے متعلق وہی گمراہ کن تصورات برآمد ہوں گے‘ جیسا کہ ذرائع ابلاغ پر پیش کئے جا رہے ہیں! بنی گالہ میں تعمیرات کا معاملہ آئین سے زیادہ سیاسی پہلو رکھتا ہے لیکن اگر سیاستدان غیرقانونی تعمیرات سے خود کو الگ نہیں کریں گے تو عام آدمی کسی بھی صورت اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔