بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / وفاقی کابینہ کی حلف برداری

وفاقی کابینہ کی حلف برداری

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی نئی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے خبررساں ایجنسی کے مطابق نئی کیبنٹ میں27 وزراء اور19 وزرائے مملکت شامل ہیں بعض نے ابھی حلف بھی نہیں اٹھایا ‘ مشیر اور معاونین علیحدہ ہوں گے چوہدری نثار علی خا ن کابینہ میں شامل نہیں جبکہ کچھ نئے چہرے بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں کابینہ میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کی نمائندگی بھی بڑھ گئی ہے پوسٹل سروسز کو ایک بار پھر الگ منسٹری بنادیا گیا ہے جبکہ توانائی کی وزارت تخلیق کرکے اس کا قلمدان وزیراعظم کے پاس ہی رکھا گیا ہے کابینہ میں خواجہ آصف کو مکمل طور پروزیر خارجہ بنا دیا گیا ہے جبکہ وزارت داخلہ احسن اقبال کے سپرد کر دی گئی ہے ‘ وفاقی کابینہ کے اتنے بڑے حجم کے باوجود محکموں کی تقسیم اور کیبنٹ میں نمائندگی نہ ملنے پر بعض ارکان ناراض بھی رہیں گے۔

کابینہ کی حلف برداری سے قبل وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اپنے فرائض منصبی سنبھال چکے ہیں وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو اس وقت متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے سیاسی محاذ پر گرما گرمی موجود ہے شریف خاندان کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کی جارہی ہے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرنا ‘ بیرونی قرضوں کا بڑھتا والیوم‘ تجارتی خسارہ‘ گردشی قرضے‘ توانائی بحران‘صوبوں کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ سمیت دیگر معاملات طے کرنا‘ فاٹا کی حیثیت سے متعلق ہونے والے فیصلوں کو عملی شکل دینا ایسے کام ہیں جن پر سنجیدگی کی ضرورت ہے ‘ وزیراعظم اس عزم کااظہار کر رہے ہیں کہ پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنایا جائے گا شاہد خاقا ن عباسی اور انکی ٹیم کو انتخابی اصلاحات کیساتھ اگلے انتخابات سے قبل عوام کی ریلیف بھی یقینی بنانا ہو گی ‘ انہیں یہ بات ہر صورت پلے باندھنا ہو گی کہ حکومت کے اقدامات اس وقت تک ثمر آور نہیں قرار دیئے جا سکتے جب تک انکا فائدہ عام شہری کو نہ پہنچے توانائی بحران ہو یا پھر اقتصادی اعشاریئے حکومت کے اقدامات بے شک ریکارڈ کا حصہ ضرور ہیں تاہم عام شہری کو ابھی عملی نتائج کا انتظار ہے حکومت کو اس ضمن میں موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ لوگ ریلیف کا خوشگوار احساس پائیں۔

ہائر ایجوکیشن کے لئے داخلے؟

میٹرک کے بعد انٹر کے نتائج کا سلسلہ جاری ہے انٹر کے نتائج کیساتھ ڈگری اور پروفیشنل اداروں میں داخلہ طالب علموں اور ان کے والدین کیلئے اہم مرحلہ ہوتا ہے سرکاری اداروں کیلئے سب طالب علموں کوکھپانا جبکہ پرائیویٹ اداروں کے چارجز سب کیلئے ادا کرنا ممکن نہیں سرکاری اداروں کی فیسیں بھی روز بروز بڑھتی جارہی ہیں فیسوں کیساتھ مختلف مدوں میں دیگر وصولیاں بھی والدین کیلئے درد سر ہیں غریب طالب علم پروفیشنل ایجوکیشن کیلئے سرکاری کالجوں سے رہ جائے تو اس کیلئے نجی اداروں میں داخلہ کسی طور ممکن نہیں اس طرح صرف فیس نہ ہونے پر وہ پروفیشنل ایجوکیشن سے محروم رہ جاتے ہیں حالانکہ وہ امتیازی نظام تعلیم کے باعث اردو میڈیم سے پڑھ کر آنے کے باعث زیادہ نمبر حاصل نہیں کرپاتے حکومت کو اب کی بار داخلوں کیلئے ایسی ٹھوس حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی جس میں غریب اور متوسط گھرانوں کے بچوں کیلئے اعلیٰ اور معیاری تعلیم کاحصول ممکن ہوسکے اس مقصد کیلئے خصوصی سکالر شپس کیساتھ سرکاری اداروں میں نشستوں کی تعداد بڑھانا بھی ضروری ہے نجی اداروں کو غریب سٹوڈنٹس کیلئے رعایت کا پابند بناکر بھی داخلے دلوائے جاسکتے ہیں۔