بریکنگ نیوز
Home / کالم / فرق صاف ظاہر

فرق صاف ظاہر


ہماری طرح کے لوگوں نے پرانے سیاست دانوں کا چال چلن ، بول چال اور گفت و شنید کو بھی قریب سے دیکھا اور سنا ہے۔ وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ ان میں اور موجودہ دور کے سیاست دانوں کے اطوار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آج سیاست میں برد باری ، شائستگی اور سنجیدگی کا سخت فقدان ہے آج کے سیاست دان اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جو زبان استعمال کر رہے ہیں وہ اخلاق سے گری ہوئی ہے وہ مسائل پر اتنا نہیں بولتے کہ جتنا اپنے مخالفین کی کردار کشی پر اپنا منہ کھولتے ہیں بذلہ سنجی ان کی کتابوں میں ہے ہی نہیں ویسے کتابیں پڑھنے کا شوق بھی ان میں عنقا ہے۔ مطالعہ سے ان کی دشمنی ہے یہی وجہ ہے کہ تاریخ پر ان کی گہری نظر نہیں کسی دور میں اگر پاکستان میں کسی کی سب سے زیادہ بڑی ذاتی لائبریری تھی تو وہ میاں ممتاز دولتانہ کی تھی دنیا کے کسی بھی حصے میں بھی اردو یا انگزیری زبان میں کسی بھی موضوع پر کوئی کتاب چھپتی تو وہ سب سے پہلے پاکستان میں انکے گھر کے پتے پر پہنچا دی جاتی اس طرح حسین شہید سہروردی اور ذوالفقار علی بھٹو کو بھی کتابیں پڑھنے سے ازحد شغف تھا ۔ آج کل تو اکثر سیاست دان اپنے سیاسی مخالفین اور سینئر بیورو کریٹس کو بھی ارے کہہ کر مخاطب ہوتے ہیں جیسے وہ ان کے زر خرید غلام ہوں بھرے مجمع میں وہ ڈپٹی کمشنر کی سطح کے اہلکار کی عوام کے سامنے بے عزتی کر دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو عوام کی نظروں میں اس طرح بے توقیر کر دیا جائے گا تو کل کلاں اسی ڈپٹی کمشنر کے ذریعے وہ عوام کے مسائل حل کر پائیں گے آخر اس بیورو کریسی کے ذریعے ہی سیاست دانوں نے اقتدار میں آکر امور مملکت چلانے ہوتے ہیں۔

قائد اعظم کا اس معاملے پر بڑاصاف مؤقف تھا انہوں نے برملا کہا تھا کہ سرکاری اہلکار صرف اور صرف ریاست کے اور ملک کے قانون کے غلام اور انکے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں وہ اسکے پابند بالکل نہیں کہ وہ حکومت وقت کا کوئی غیر قانونی حکم مانیں‘بانی پاکستان کے اس واضح فرمان کی بھٹو کے دور سے نفی شروع ہوئی اور آج وہ نکتہ عروج پر ہے تو ہم نے بات شروع کی تھی اپنے موجودہ سیاست دانوں میں سنجیدگی کے فقدان کی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کا ڈکٹیٹر اپنی تقریروں میں اکثر برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتا ایک مرتبہ اخباری نمائندوں نے جب چرچل کی توجہ ہٹلر کی ان کے خلاف دشنام طرازی کی طرف مبذول کرائی تو چرچل نے مسکرا کر جواب میں بس اتنا کہا کہ لگتا ہے ہٹلر کی پرائمری ایجوکیشن اچھی نہ تھی۔ اس ایک جملے میں پنہاں طنز نے ہٹلرکا ایسا تیا پانچا کیا کہ اس کے بعد وہ جب بھی تقریر کرتا چرچل کے بارے میں کوئی بھی لفظ استعمال کرنے میں بڑی احتیاط کرتا۔

جو لوگ اخبارات باقاعدگی سے پڑھتے ہیں انہیں خبر ہے کہ ماسکو سے دو معروف اخبارات عرصہ دراز سے چھپ رہے ہیں ایک کا نام ہے پراودا (Prauda) اور دوسرے کا نام ہے ازویستیا (Izuestia) اول الذکر کمیونسٹ پارٹی کا ترجمان ہے اور ثانی الذکر سوویت یونین کی حکومت کا ترجمان تصور کیا جاتا ہے پراودا کا مطلب ہے ’’ سچ ‘‘ اور ازویستیا کامطلب ہے ’’ خبر ‘‘ ان دونوں اخبارات کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں ایک امریکی سیاسی رہنماء نے ان کو گالی دیئے بغیر ان الفاظ میں کیا خوب صورت طنز کیا۔ وہ الفاظ یہ تھے ’’ میں جب بھی پراودا پڑھتا ہوں اس میں ازویستیا نہیں ہوتا اور جب ازویسیتا پڑھتا ہوں تو اس میں کوئی پراودا نہیں ہوتا‘‘ با الفاظ دیگر میں جب ’’ سچ‘‘ پڑھتا ہوں تو اس میں کوئی ’’ خبر ‘‘ نہیں ہوتی اور جب میں ’’ خبر ‘‘ پڑھتا ہوں تو اس میں کوئی ’’ سچ ‘‘ نہیں ہوتا ۔ اس قسم کے الفاظ صرف با ذوق افراد ہی استعمال کر سکتے ہیں افسوس صد افسوس کہ جہاں دیگر شعبوں کا معیار گرا ہے وہاں سیاست کا ادارہ بھی روبہ زوال ہے ۔