بریکنگ نیوز
Home / کالم / صنف نازک سے انصاف

صنف نازک سے انصاف


میرے ایک مربّی تھے۔ خدا بخشے نہایت دیانتدار اور خوددار تھے انکی بیٹی فائزہ نے گزشتہ روز دل کے پھپھولے میرے سامنے پھوڑے۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیابھائی شادیاں کرکے الگ ہورہے فائزہ پڑھی لکھی اور قابل تھی ایک باعزت ملازمت ملی ہوئی تھی۔ کوئی اور خرچہ تھا نہیں اسلئے تنخواہ میں تھوڑی بہت بچت ہوجاتی تھی چند ایک سال پہلے ایک بھائی نے کوئی کاروبار شروع کیا جب معلوم ہوا کہ فائزہ کے پاس کچھ رقم پڑی ہوئی ہے تو سبز باغ دکھا کر وہ لے لی کہ پڑے پڑے تو کوئی فائدہ نہیں کاروبار میں ڈالیں گے تو باقاعدہ منافع ملے گا جب چند ماہ گزر گئے تو فائز ہ نے رقم اور منافع کے بارے میں پوچھا’اب اتنی جلدی تو منافع نہیں ملتا، تھوڑا صبر سے کام لو‘ جواب ملا۔ جب مہینوں کے بجائے سال گزر گئے تو فائزہ نے اپنی اصل رقم اور اس پر منافع کا تقاضا کیا بس بھائی صاحب تو بالکل ہی مکر گئے فائزہ نے رقم اپنی دوسری بہن کے سامنے دی تھی اس وجہ سے بھائی صاحب کا انکار زیادہ دیر نہ چل سکا فائزہ نے بڑے بھائی کے پاس جاکر فریادکی اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ بھائی صاحب صرف اصل رقم ادا کرنے پر راضی ہوگئے ۔ فائزہ کا مجھ سے سوال تھا کہ کیایہ انصاف ہے؟

یہ گھر گھر کی کہانی ہے جس میں کئی اسباق پوشیدہ ہیں پہلا سبق لکھائی کا ہے نہ صرف قرآن بلکہ ہمارے رسول کریم ؐ نے ہمیشہ کاروبار اور رقم کی لین دین کے وقت لکھا پڑھی کی ہدایت کی ہے یہ بھی وضاحت ہے کہ ساتھ کسی گواہ کو بھی رکھ لو۔ کسی صحابیؓ نے پوچھا کہ کیا روزمرہ کی خرید و فروخت بھی لکھی جائے تو اسکی اجازت دے دی کہ اسے درگزر کیا جاسکتا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو مہذب ملکوں میں دو ٹکے کی خریداری پر بھی باقاعدہ رسید پیش کی جاتی ہے یہاں بھی یہ دیکھا گیا ہے کہ عام دکاندار اپنا سودا واپس لینے سے انکاری ہوتا ہے جب بہت ہی زچ کیا جائے تو رسید مانگتے ہیں وگرنہ اُس دکاندار کیلئے جو گاہکوں کی کوئی خریدی ہوئی چیز خوش اخلاقی سے واپس لے تو اس کیلئے حضورؐ نے بڑے اجر کا ذکر کیا ہے جب میں ولایت میں چند سال گزار کر آیا تو وہی عادت یہاں بھی جاری رہی اور ہر خریداری کی رسید ایک بکسے میں جمع کرتا رہا۔ خیر روزمرہ اور نقد لین دین تو جانے دیں ہمارے ہاں بڑے بڑے کاروبار میں بغیر لکھے کے شرکت ہوتی ہے جس سے کبھی نہ کبھی لڑائی بن ہی جاتی ہے اگر بزرگوں نے کسی کاروبار میں شرکت کی ہو اور تحریری ثبوت سامنے نہ ہو تو بزرگ کی موت پر اسکے وارث بالکل بے سہارا رہ جاتے ہیں مجھے اعتراف ہے کہ میں بھی کبھی کبھی زبانی لین دین کرلیتا ہوں لیکن میری بیگم اس سلسلے میں بڑی سخت ہیں مجھے فوراً واپس بھیج دیتی ہیں اور جب تک ساری لین دین تحریر کی صورت میں نہ لاؤں ہر روز یاد دلاتی رہتی ہیں ہمارے یہاں انکم ٹیکس کو ایک عذاب سمجھا جاتا ہے اور خصوصاً دکاندار تو کسی چیز کی تحریر دینے پر راضی نہیں ہوتا اسی وجہ سے سرمایہ دار بے نامی کی جائیداد لیتے ہیں گاڑیاں دوسروں کے نام لے لیتے ہیں اورہمارے اکثر سیاستدانوں کی طرح اپنا مال کبھی ظاہر نہیں کرتے خیر یہ تو میں روزمرہ کی خرید وفروخت کی بات کررہا ہوں لیکن اب تو کمپنیاں بھی دو دو قسم کے حساب رکھتی ہیں ایک کمپنی کے مالکان کیلئے اور دوسرا حکومت اورمحکمہ انکم ٹیکس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے‘ مسلمان کی حیثیت سے ہم پر فرض ہے کہ دو حلیفوں کے درمیان جو بھی لین دین ہو ، اسے منّ و عن لکھا جائے اور اس پر گواہ کے دستخط بھی لئے جائیں۔دوسرا سبق اس کہانی سے یہ ملا کہ مروّت میں آکر اپنے رشتہ داروں یا قریبی دوستوں سے کوئی لین دین نہیں کرنا چاہئے۔

اسکے کئی ایک پہلو ہیں ایک تو اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے لکھوانا معیوب سمجھا جاتا ہے پھر کاروبار میں اگر شفافیت نہ ہو تو دل میں شک کا کانٹا ضرور بڑھتا ہے اسکے بعد تعلق میں دراڑ پڑنے لگتی ہے اگرفریقین میں ایک طاقتور ہو تو کمزور کو کاروبار کے علاوہ بھی زِک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے اس طرح سے نہ صرف اپنی کمائی سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں بلکہ رشتہ بھی ختم ہوجاتا ہے پختون معاشرے میں تو اس سے ایک نہ ختم ہونیوالی دشمنی شروع ہوجاتی ہے۔ تیسرا سبق ہمارے معاشرے میں خواتین کی حیثیت سے تعلق رکھتا ہے۔ جہاں اپنے گھر کی خواتین کو کم حیثیت دی جاتی ہے وہاں ان کو بات بات پر غیرت دلائی جاتی ہے۔ کہیں عزت اور ناموس کے نام پر ان پر قدغنیں لگائی جاتی ہیں۔ اچھے خاصے تعلیم یافتہ خاندانوں میں خواتین کی حیثیت ایسی نہیں ہوتی کہ وہ خاندان میں کسی مرد سے اپنا حق وصول کرسکیں اگر کہیں پنچایت بھی بیٹھ جاتی ہے تو وہ خواتین کو مردوں کے برابر انصاف دینے پر تیار نہیں ہوتی چونکہ اکثر خواتین اپنی قسمت سمجھ کر ایسی کئی ناانصافیاں برداشت کرلیتی ہیں اسلئے وہ بھی اپنی صنف کے دفاع میں کھڑی نہیں ہوسکتیں حتیٰ کہ ماں بھی انصاف کو بھول کر بیٹے کی طرف لینے میں نہیں ہچکچاتی ہم سے ایک نسل پرانی خواتین ابھی بھی صنف نازک کی اونچی آواز سنناقرب قیامت کی نشانی سمجھتی ہیں‘ بظاہر تو ہم اسلام کا نام لیتے ہیں اور اسکے عدل کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے لیکن جب ماؤں بہنوں اور بیویوں کی بات آتی ہے تو حضور ؐ کی ساری زندگی کو نظر انداز کردیتے ہیں آپؐ نے صاف بتادیا تھا کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کیساتھ بہتر سلوک کرے (ترمذی)۔ وہی معاشرہ جو خواتین کے کام کرنے کو برا سمجھتا ہے، اُس وقت خاموش رہتا ہے جب اسی خاتون کی کمائی پر مرد قابض ہوجائے حالانکہ صنف نازک کا پیسہ ہڑپ کرجانا زیادہ بے غیرتی ہے۔

معاشرے کی تعمیر میں ماں باپ کا بڑا رول ہے خصوصاً ماؤں کو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں میں برابر ی رکھنی اور دکھانی چاہئے بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ اپنے بیٹوں کو نہ صرف اپنی بہنوں بلکہ دوسری لڑکیوں کی بھی عزت اور ان پر رحم کرنا سکھائیں جب بچپن سے مرد کو عورت کی عزت سکھایا جاتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی ماں ، بہنوں اور رشتہ دار خواتین کی عزت کرتا ہے بلکہ وہ معاشرے میں دوسری خواتین کو بھی اُسی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تاہم اگر بچے اپنی والدہ کو اپنے باپ سے پٹتا دیکھتے ہے تو وہ اسے معمول سمجھنے لگتے ہیں اور یوں اس ناانصافی کے محض تماشائی کل عورتوں پر ظلم کرنیوالے بن جاتے ہیں اگر مائیں بیٹے اوربیٹی میں فرق کرنے لگیں تو بڑے ہوکر بھائی کو کبھی بھی اپنی بہن کو برابری دینے کا خیال نہیں آتا خواتین کو بھی بیٹی کی پیدائش پر ایک دوسرے پر ترس کھاناچھوڑنا ہوگا تبھی بیٹی کی پیدائش رحمت سمجھی جائیگی اور مرد اور عورت میں توازن برقرار رکھا جاسکے گا۔