بریکنگ نیوز
Home / کالم / ایک اُداس باپ

ایک اُداس باپ

کل میری ملاقات ایک اداس باپ سے ہوگئی وہ کس کا باپ تھا ‘کتنوں کا باپ تھا‘ کہاں سے آیا تھا کہاں جارہا تھا یا کہیں جابھی رہا تھا یا نہیں اس کے بارے میں مجھے کچھ علم نہیں‘ میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ وہ پارک کے ایک کونے میں بنچ پر بیٹھا ایک اداس باپ تھا‘ مجھے دیکھ کر اس نے سراٹھایا اور کہنے لگا ’تارڑ صاحب آپ بھی باپ ہیں؟ میں نے کہا ’ہاں جی ‘ماشاء اللہ میں تو ایک نانا اور دادا بھی ہوں۔ تو وہ ذرا ناراض ہوکر بولا کہ میں نے آپ سے صرف یہ پوچھا ہے کہ کیا آپ ایک باپ ہیں اور آپ جواب دے رہے ہیں کہ میں ایک نانا اور دادا ہوں‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا حضرت اگر میں نانا اور دادا ہوں تو ظاہر ہے پہلے باپ ہوا اور پھر اس کے بعد یہ کچھ ہوا۔ ’اس کا مطلب ہے کہ آپ ایک باپ ہیں اس نے سرہلایا ’کیا آپ خوش ہیں کہ آپ ایک باپ ہیں۔اب پارک میں سیر کرتے ہوئے طرح طرح کے مختلف اقسام کے لوگوں سے ملاقات ہوتی رہتی ہے ان میں سے کچھ حواس باختہ بھی ہوتے ہیں تو یہ شخص شاید ان میں سے ایک ہے اور اسے ذرا احتیاط سے ہینڈل کرنا چاہئے ’جی میں بالکل خوش ہوں کہ میں ایک باپ ہوں لیکن میں خوش نہیں ہوں میں ایک اداس اور رنجیدہ باپ ہوں ‘مجھے نہ صرف اپنے بچوں سے بلکہ اس پورے معاشرے سے شکایت ہے کہ یہ باپوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتا‘ ہر جانب صرف ماؤں کی تعریفیں ہوتی ہیں ان کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں یہ بچے یہ نہیں سوچتے کہ اگر ہم باپ نہ ہوتے تو وہ بھی نہ ہوتے اور یہ ساری سازش ماؤں کی ہے جو اولاد کے کان بھرتی رہتی ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہیں جنم دیا پھر راتوں کو جاگ جاگ کر تمہیں پالا تمہیں طرح طرح کے پکوان بناکر کھلائے وغیرہ وغیرہ اب کوئی پوچھے کہ بھلا یہ سب کچھ ممکن تھا اگر باپ دن رات مشقت کرکے رزق کما کر گھر نہ لاتا بیمار ہوجائے تب بھی آرام نہیں کرتا کہ اس کے ذہن میں سکولوں کی فیسیں ‘یونیفارم‘بسوں کے کرائے اور بچوں کے جیب خرچ چل رہے ہوتے ہیں اور اس کے باوجود ہر جانب ماں ماں ہورہی ہوتی ہے یقین کیجئے میں نے اپنے بڑے بیٹے کو واقعی راتوں کو جاگ جاگ کرپالا ہے اسے ہمیشہ ساتھ سلاتا تھا ‘دودھ گرم کرکے پلاتا تھا اور اس کے پوتڑے دھوتا تھا اور اس کے باوجود وہ الو کا کان بڑا ہوا ہے تو وہ بھی ماں ماں پکارتا ہے کبھی باہر سے فون کرتا ہے تو کہے گا۔

ہیلو ابو کیا حال ہے اس سے پیشتر کہ میں اپنا حال بتاؤں وہ فوراً فرمائش کردے گا کہ ذرا امی سے تو بات کروادیں اور پھر ایک ایک گھنٹہ اس سے باتیں کرتا رہتا ہے ‘ماں سے محبت تو ایک قدرتی بات ہے جناب‘ میں نے اسے ڈھارس دی۔ تو کیا باپ سے محبت کرنا غیر قدرتی ہے ؟ اب یہ جو چاروں طرف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ماں کے قدموں میں جنت ہے تو یہ بھی ماؤں کی سازش ہے ابھی پچھلے دنوں بیوی کیساتھ میرا چھوٹا سا جھگڑا ہوگیا جبکہ بڑا بیٹا بھی وہاں موجود تھا زیادتی سراسر بیوی کی تھی اور وہ قدرے بدتمیز بھی ہورہی تھی تو میں نے پورا کیس بیٹے کے سامنے رکھ دیا کہ تم فیصلہ کرو اس نے کان گھجا کر کہا کہ ہاں غلطی تو امی کی ہے یہ سن کرامی نے دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا تو بیٹے نے فورا کہا ‘غلطی تو امی کی تھی لیکن آپ کا لہجہ بہت سخت تھا ذرا دھیما بولتے تو کیا حرج تھا‘ آئندہ احتیاط کیجئے گا‘ یہ میری پیاری امی ہیں اس پر پیاری امی نے فرزندار جمند کو گلے لگا کر خوب پیار کیا اور وہ دونوں میری جانب یوں دیکھنے لگے جیسے میں ہی مجرم ہوں دنیا کا سب سے برا شخص ہوں۔میں سمجھ گیا کہ وہ کیوں ایک اداس باپ ہے ۔ وہ ان باپوں کی ترجمانی کررہا تھا جنہیں اولاد ماں کے مقابلے میں ایک کمتر مخلوق سمجھتی ہے ۔ باہر سے گھر آتی ہے تو باپ کو پرے دھکیل کر ماں کو جپھا مارتی ہے اور پھر بادل نخواستہ باپ سے بھی ذرا فاصلے سے ’ہیلو ابا جی‘ کرلیتی ہے میرے زخم بھی ہرے ہونے لگے اور میں اس اداس باپ سے ہمدردی محسوس کرنے لگا اور تارڑ صاحب اس ماں زندہ باد کے مغالطے کو سب سے زیادہ ہوا دینے والے رکشہ ڈرائیور ہوتے ہیں ‘تقریباً ہررکشے کے عقب میں پپو مستری اور استاد گاما پیچ کس کے نیچے‘ ماں کی دعا‘لکھا ہوتا ہے ماں تیری عظمت کو سلام کا اشتہار ہوتا ہے ۔

اب کوئی ان سے پوچھے کہ کیا باپ ان کو دعائیں نہیں دیتے ان کے لئے جان قربان نہیں کرتے جب ہمایوں بیمار ہوا تھا تو یہ بابر بادشاہ تھا جس نے اس قریب المرگ بیٹے کے گرد چکر لگاتے ہوئے دعا کی تھا کہ یا اللہ اس کی بجائے میری زندگی لے لے‘ اسے صحت مند کر دے اور باپ ایک بیٹے پر قربان ہوگیا تھا اب آپ ہی بتائیے کہ کبھی کسی ماں نے بھی اتنی بڑی قربانی دی ہے ویسے مجھے یقین ہے کہ صحت یاب ہونے پر ہمایوں نے بھی اپنی ماں سے جپھا ما ر کر کہا ہوگا ماں یہ تو آپ کی دعا تھی‘ ہالی ووڈ میں آسکر ایوارڈز کی تقریب منعقد ہوئی جس میں موسیقار اے آر رحمن کو بہترین موسیقی اور بہترین گانے پر دو آسکر ملے اور انہیں وصول کرتے ہوئے آپ جانتے ہیں کہ اس کمبخت نے کیا کہا ‘یہ سب میری ماں کی دعاؤں کے طفیل ہے ‘باپ بے چارے کا نام تک نہیں لیا۔بے شک مجھے آپ کے بیانات سے خاص حد تک اتفاق ہے لیکن آج آپ پارک کے اس کونے میں اتنے رنجیدہ اور دل گرفتہ کیوں بیٹھے ہیں‘اور اس باپ نے ایک نہایت اداس آہ بھری اور کہنے لگا ’میرے بیٹے کو ایک عرصے سے ملازمت نہیں مل رہی تھی میں نے اس کے لئے بہت تگ ودود کی‘ دوستوں کے آگے فریاد کی‘ سفارشیں تلاش کیں‘ اپنی عزت نفس کو بھی اس کے لئے مجروح کیا‘ آج صبح اسے خصوصی ڈاک سے ملازمت کا پروانہ آگیا اور وہ سیدھا جاکر اپنی ماں کے پاؤں میں بیٹھ گیا کہ بس یہ آپ کی دعاؤں کا اثر ہے ماں‘میرا تو فیوز اڑ گیا تارڑ صاحب اور یہاں چلا آیا کہ کہیں خودکشی پر مائل نہ ہوجاؤں۔مجھے اس اداس باپ پر بڑا ترس آیا میں نے اس کی ہمت بندھائی ‘ڈھارس دی کہ آپ گھر واپس جائیے آپ کے بیوی بچے آپ کی یکدم غیر موجودگی سے پریشان ہوں گے پارک سے باہر آکر ان کے لئے ایک رکشہ رکوایا وہ بیٹھنے لگے پھر کچھ سوچ کر باہر آئے اور رکشے کے پیچھے جاکر اس پر ایک نگاہ ڈالی اور وہ جلال میں آگئے اس کمبخت نے بھی ’ماں کی دعا ‘لکھوا رکھا ہے میں پیدل جاؤں گا اس رکشے پر نہیں بیٹھوں گا ‘خدا حافظ!