بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / حکمت یار کی افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اضافے کی مخالفت

حکمت یار کی افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اضافے کی مخالفت

کابل۔افغانستان کے سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے ملک میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ ذدہ ملک میں استحکام لانے کا واحد راستہ انتخابات ہیں۔گلبدین حکمت یار رواں سال اپریل میں 20 سالہ طویل جلاوطنی کے بعد افغانستان میں واپس آئے تھے جس کو سنگ میل کہا جاتا تھا لیکن افغان حکومت کے ساتھ انھوں نے متنازع امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔70 سالہ حکمت یارنے میڈیا کو بتایا کہ افغانستان کو ‘ایک مضبوط صدر کی رہنمائی میں ایک مضبوط مرکزی حکومت’ کی اشد ضرورت ہے۔طویل جلاوطنی کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کے بغیرملک میں امن و استحکام لانا ممکن نہیں ہے’۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘حزب اسلامی امن اور استحکام میں حکومت کیساتھ تعاون کرنے کے لیے غیرمشروط طور پر تیار ہے’۔انھوں نے کہا کہ ‘ہمیں تسلیم کرلینا چاہیے کہ سیاسی جماعتوں کو اختیارات دینے اور انتخابات میں شرکت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے’۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو بڑھانے کی اجازت دی تھی جس پر حکمت یار نے کہا کہ ٹرمپ افغانستان میں مزید فوجی بھیجنے کی غلطی کر رہے ہیں جبکہ افغانستان میں امریکا کے 8ہزار 400 فوجی موجود ہیں جو گزشتہ 6 برسوں میں ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کی موجودگی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔حزب اسلامی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ‘موجودہ جنگ فوجیوں کی تعداد بڑھانے سے نہیں جیتی جاسکتی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری افغانستان میں ہمسائیوں اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت روکنے میں مدد کرے’۔خیال رہے کہ گلبدین حکمت یار امریکا کی جانب سے طالبان کے خلاف جنگ کے بعد افغان حکومت سے معاہدے کرنے والے کئی متنازع شخصیات میں سے ایک ہیں جو 80 کی دہائی میں روس کے خلاف لڑنے میں پیش پیش تھے۔افغان حکومت کے ساتھ حکمت یار کا امن معاہدہ گزشتہ سال ستمبر میں ہوا تھا اور وہ رواں سال اپریل میں افغانستان واپس آگئے تھے جس کو افغان صدر اشرف غنی کی امن کی بحالی کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کیا جارہا تھا۔

واضح رہے کہ افغانستان کے سابق وزیراعظم انجینئر گلبدین حکمت یار کی زیرقیادت تنظیم حزب اسلامی نے 1977 سے 1992 تک روس کے خلاف جنگ میں متحرک ترین کردار ادا کیا تھا جبکہ حزب اسلامی پر 1992 سے 1996 کی افغان خانہ جنگی کے دوران کابل میں بڑے پیمانے پر مخالفین پر حملوں میں ہلاکتوں کا بھی الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔2001 میں افغانستان میں امریکا کی فوجی دخل اندازی کے بعد گلبدین حکمت یار اور ان کی جماعت کو حکومت میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے افغانستان میں امریکا کے خلاف جنگ لڑنے کا اعلان کیا۔حزب اسلامی نے افغانستان میں آخری بڑا حملہ 2013 میں کیا تھا جس میں 6 امریکیوں سمیت 15 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔