بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مجھے منع کرنیوالے اب خود سڑکوں پر ہیں ٗ عمران خان

مجھے منع کرنیوالے اب خود سڑکوں پر ہیں ٗ عمران خان

اسلام آباد۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جب ہم سڑکوں پر نکلے تو الزام لگایا گیا کہ ہم جمہوریت کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں اشارہ ملا ہے لیکن اب نواز شریف بتائیں کہ انہیں سڑکوں پر نکلنے کا کس نے اشارہ دیا۔خود کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے کسی کو اتنا موقع نہیں ملا جتنا نواز شریف کو ملا ہے جب صفائی پیش کرنے کا موقع ملا تب صفائی پیش نہیں کی اور اب کہہ رہے ہیں کہ سازشیں ہو رہی ہیں اعلیٰ دلیہ نے نواز شریف کو مجرم قرار دیا اور اسلام آباد سے لاہور تک سرکاری خرچ پر وہ جا رہے ہیں ٹیکس کے پیسے سے ایک مجرم کو لاہور سے لے جایا جا رہا ہے پاکستانی فوج کی طرف انگلی اٹھائی جا رہی ہے کیا یہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنا نہیں ہے طاہر القادری کے پاکستان آنے کو خوش آمدید کہتے ہیں انصاف دلانے کے لیے طاہر القادری کے ساتھ کھڑے ہیں قومی اسمبلی کی تحقیقاتی کمیٹی کو مسترد کر تے ہیں۔

بنی گالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف آج کہتا ہے فیصلہ نہیں مانتا اگر نواز شریف فیصلہ نہیں مانتے تو دوسرے قیدی کیوں مانیں نواز شریف کو خود کو بے قصور ثابت کرنے کا موقع ملا مگر وہ اپنے آپکو بے قصور ثابت بھی کیسے کر سکتے تھے ن لیگ کے پاس کرپٹ فیملی سے الگ ہونے کو سنہری موقع تھان لیگ شریف خاندان کو بچا نہیں سکتی آپ ساتھ ہی ڈوبیں گے اب بھی موقع ہے ن لیگ شریف خاندان کی کرپشن سے الگ ہو جائے انہوں نے کہا کہ نواز شریف سرکاری خرچے پر لاہور جا رہے ہیں ایک مجرم جس کو عدالت سزا دے چکی ہے وہ سڑک پر ہاتھ ہلائے اس کے ساتھ بُرا ہوا اس قوم کے خلاف سب سے بڑی سازش ہو رہی ہے نواز شریف میں پوچھتا ہوں کہاں سے اشارہ آیا ہے اشارہ کہیں باہر والوں کی طرف سے تو نہیں ہے عمران خان نے کہا کہ ہم سڑکوں پر نکلے تو انہوں نے کہا کہیں سے اشارہ ملا ہے اب وہ بتائیں انہیں کہاں سے اشارہ ہے نواز شریف بتا دے اشارہ کون کر رہا ہے عمران خان نے کہا کہ نواز شریف نیب سے خوفزدہ ہیں جتنے الزامات نواز شریف پر ہیں کسی اور پر نہیں ہیں نواز شریف نیب اور سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ن لیگ والے جو مرضی کر لیں میں ان کو شکست فاش سے دو چار کروں گا نئے وزیروں کو دو سو ارب روپے دے رہے ہیں تا کہ یہ الیکشن خرید سکیں میں نے کل پی ٹی آئی سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے جس میں اہم معاملات زیر غور آئیں گے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کونسا انصاف ہے کروائیں بھی آپ اور کمیٹی میں بھی آپ خود ہی بیٹھ جائیں اور فیصلہ بھی آپ ہی کر لیں میں چاہتا ہوں عائشہ گلالئی کے الزامات کی تحقیقات ہو مگر غیر جانبدار شخص تحقیق کرے پارلیمینٹ میں بتائیں گے کہ تحقیقات کرانی ہے تو طریہ کار کیا ہے طاہر القادری کا ملک میں آنا بہت اچھا ہے کیونکہ سب کو حوصلہ ملا ہے طاقتور کے خلاف اس ملک میں انصاف مل سکتا ہے ان کا بہت بڑا ایشو ہے دن دیہاڑے ماڈل ٹاؤن میں 14لوگوں کو قتل کیا اور 80کو زخمی کیا گیا خواتین کے منہ پر 5فٹ کے فاصلے سے گولیاں ماری گئیں اور جسٹس نجمی کی ابھی تک رپورٹ ہی نہیں آرہی ہم نے شاہ محمود اور اپنے ورکروں سے کہا ہے کہ طاہر القادری کی مدد کریں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی اللہ تعالی کی طرف سے پکڑ ہوئی ہے فرعون کو گرانا آسان کام نہیں تھا میں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ بتائیں اشارہ کدھر سے ملا ہے کہ آپ دو اداروں سپریم کورٹ اور فوج کے پیچھے پڑ گئے ہیں صرف پاکستان کے دشمن چاہیں گے کہ سارے ادارے تباہ ہو جائیں تا کہ ملک تباہ ہو جائے تباہ ہو جائے اپنا بلیک بیری دکھانے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ جو الزام لگانا ہے اسے ثابت کرنا پڑتا ہے ابھی تک کسی نے یہ بھی نہیں پوچھا کیس صحیح بھی ہے یا نہیں وزیر اعظم نے آتے ہی کمیٹی بنا دی جسطرح ملک میں اور کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے باقی سب ٹھیک چل رہا پھر قومی اسمبلی کی کمیٹی بنا دی گئی ہے ۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے کے پی کے کی کرپشن کا پتہ نہیں کے پی کے حکومت جانے یا وہ جانے میرا اس سے کوئی ایشو نہیں ہے عمران خان نے کہا کہ اگر نیب چیئرمین سب کچھ کرتا تو ہمیں اس پر کوئی اعتماد نہیں تھا لیکن نیب کورٹ کے اندر جا رہا ہے اور سپریم کورٹ خود مانیٹر کر رہی ہے جسطرح اس نے جے آئی ٹی کو مانیٹر کیا اس لیے ہمیں اعتماد ہے آج ساری قوم نیب کی طرف دیکھ رہی ہے آج لوگ جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کو سلام کر رہے ہیں اب نیب کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کیا نیب اس قوم کو انصاف دلائے گی نواز شریف کو پتہ ہے کہ نیب کیسز میں وہ پھنسیں گے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نیب حدیبیہ پیپرز ملز فیصلے کے خلاف اپیل کرے۔