بریکنگ نیوز
Home / کالم / دشنام طرازی سے گریز

دشنام طرازی سے گریز

جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ‘ اس ملک میں بالکل اسی طرح سیاستدان جلسوں اور جلوسوں کے بنا آرام سے سانس نہیں لے سکتا جس طرح کسی قریب المرگ مریض کے منہ سے آکسیجن ماسک ہٹا دینے سے اس کی موت واقع ہو جاتی ہے بالکل اسی طرح اگر کسی سیاستدان کو جلسوں سے دور رکھا جائے تو اس کی سانسیں اکھڑ جاتی ہیں میاں نوازشریف کا یہ فیصلہ کہ وہ کل یعنی بدھ کو اسلام آباد سے لاہور بذریعہ جی ٹی روڈ جائیں گے اور راستے میں جگہ جگہ کارکنوں سے خطاب کریں گے مندرجہ بالا حقیقت کی غمازی کرتا ہے انسان جس طرح اگر دن میں ایک مرتبہ کھانا نہ کھائے تو اس پر کمزوری کی وجہ سے غشی طاری ہو سکتی ہے بالکل اسی طرح وہ ذاتی پبلسٹی کا بھی سخت بھوکا ہوتا ہے اور پھر وہ شخص جو صبح دوپہر اور شام کو ٹیلی ویژن سکرین پر اپنی شکل دیکھنے کا عادی ہوچکا ہو اگر اس کو کسی روز اپنی شکل ٹی وی سکرین پر نظر نہ آئے۔

تو اس کے ذہنی کرب کا اندازہ لگانا کوئی مشکل بات نہیں جس زمانے میں الیکٹرانک میڈیا نہیں ہوا کرتا تھا تو وزراء کی یہ خواہش ہوا کرتی تھی کہ روزانہ کسی نہ کسی خبرکیساتھ انکی فوٹو اخباروں کے صفحہ اول کی زینت بنے اگر کسی روز ایسا نہ ہو تو انکے پی آر او کی شامت آ جاتی تھی آج کل سیاستدانوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ ٹیلی ویژن سکرین پر خواہ مخواہ نظر آئیں ویسے بھی ہم لوگ من حیث القوم شخصیت پر ست ثابت ہوئے ہیں ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ادارے پھلیں پھولیں شخصیت سازی میں آج کل میڈیا اور اشتہاری کمپنیاں یعنی ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں کلیدی کردار ادا کر تی ہیں وہ ان سیاسی شخصیات کی تعریف میں اشتہاروں اور دیگر پبلسٹی کے ذرائع کو استعمال کرکے زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتی ہیں ایک مرتبہ جب وہ کسی کھلاڑی‘ اداکار کو پاپولر کر دیتی ہیں تو پھر وہ ان کو ہر قسم کے اشتہار میں استعمال کرتی ہیں بھلے وہ کسی صابن کی پبلسٹی سے متعلق ہو یا کسی ٹوتھ پیسٹ یا شیمپو یا کریم کو عوام میں مشہور کرنے کیلئے ہو اسی طرح اگر الیکٹرانک میڈیا کسی سیاسی شخصیت کو عوام کی نظروں میں گرانا چاہے ۔

تو یہ کام بھی وہ باآسانی کر سکتا ہے مختصر یہ کہ تھانیدار کی طرح نہ اس کی دوستی اچھی نہ دشمنی اچھی‘ یہ ایک دو دھاری تلوار ہے اگر ہتک عزت کے قانون کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے تو شاید میڈیا کسی کی پگڑی اچھالنے میں احتیاط کرے لیکن اس قانون کو سہل بھی بنانا ہو گا اور وکلاء کو اس کے تحت مقدمے لڑنے کیلئے اپنی فیس بھی کم کرنا ہو گی ‘ پی پی پی نے اپنی توپوں کا رخ پی ٹی آئی اور (ن) لیگ دونوں کی طرف بیک وقت کر دیا ہے وہ ایک ہی تیر سے دو شکار کرنے کے موڈ میں نظر آتی ہے عائشہ گلالئی کیا کم تھی جو اب میدان میں عائشہ احد نے بھی چھلانگ لگا دی ہے اس روش سے اخلاقیات کا تو جنازہ اٹھے ہی اٹھے گا اہل سیاست کو بھی یہ آگ بھسم کر جائے گی بعض باتیں پردے میں کرنے کی ہوتی ہیں ان کا ڈھنڈورا پیٹنے والے یہ ضرور سوچیں کہ ٹیلی ویژن کچے اذہان کے بچے اور بچیاں بھی دیکھتی ہیں کیا تاثر وہ لیتے یا لیتی ہوں گی ہمارا الیکٹرانک میڈیا اتنا بانجھ ہو گیا ہے کہ وہ اپنے ناظرین کی تفریع طبع کیلئے کوئی معلوماتی‘ سائنسی اور صحت مندانہ مزاحیہ پروگرام وضع کرسکے ؟ اس کا نوے فیصد تو ٹاک شوز میں خرچ ہو رہا ہے جہاں قسم قسم کے سقراط اورارسطو اپنے اپنے ’’علم‘‘ کے خزانے بکھیرتے نظر آ تے ہیں ۔