بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / عدالتوں کی سکیورٹی کیلئے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے ٗ چیف جسٹس

عدالتوں کی سکیورٹی کیلئے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے ٗ چیف جسٹس

کوئٹہ۔چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے تانے بانے ملک کو کمزور کرنے کی سازشوں سے ملیں گے، دہشتگردی کے خلاف جنگ حوصلے سے لڑنی ہے،اس میں ہمیں اپنا حصہ ڈالنا ہے، دہشت گردی کے واقعات میں کمی ضرور واقع ہوئی ہے، عدالتوں کی سکیورٹی فول پروف بنانے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کے لیے وزارت داخلہ سے رابطے میں ہیں، پاکستان کی تخلیق دو قومی نظریہ پر ہوئی، ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں لیکن دشمن نہیں چاہتا۔

، یہ ملک خوشحال اور پرامن ہو۔ ماتم کیا ہوتا ہے زندگی میں پہلی مرتبہ 8 اگست کو دیکھا جبکہ سانحہ کوئٹہ کے شہدا اس ملک میں ایک نئی تاریخ رقم کرگئے،میری زبان میرا ساتھ نہیں دے رہی کہ میں سانحہ کوئٹہ کے شہدا کی تعزیت کرسکوں، زندگی اللہ تعالی کا سب سے بڑا تحفہ ہے، جو چلے جاتے ہیں وہ بھلائے نہیں جاتے، وکلا نے اپنی جانیں ملک کے لیے قربان کیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈگری حاصل کرنے سے وکالت نہیں آتی، وکیل بننے کے لیے وقت لگتا ہے، استاد کی نگرانی میں تجربہ حاصل کرنا پڑتا ہے جبکہ سانحہ کوئٹہ میں بہت سے استاد چلے گئے۔منگل کوسانحہ 8 اگست کے شہدا ء کی پہلی برسی پر صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثارنے کہا کہ میری زبان میرا ساتھ نہیں دے رہی کہ میں سانحہ کوئٹہ کے شہدا کی تعزیت کرسکوں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زندگی اللہ تعالی کا سب سے بڑا تحفہ ہے، جو چلے جاتے ہیں وہ بھلائے نہیں جاتے، وکلا نے اپنی جانیں ملک کے لیے قربان کیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈگری حاصل کرنے سے وکالت نہیں آتی، وکیل بننے کے لیے وقت لگتا ہے، استاد کی نگرانی میں تجربہ حاصل کرنا پڑتا ہے جبکہ سانحہ کوئٹہ میں بہت سے استاد چلے گئے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تخلیق دو قومی نظریہ پر ہوئی، اس ملک کے لیے ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں لیکن دشمن نہیں چاہتا کہ علیحدگی کے بعد بھی یہ ملک خوشحال اور پرامن ہو۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے تانے بانے ملک کو کمزور کرنے کی سازشوں سے ملیں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ حوصلے سے لڑنی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں کسی نہ کسی حد تک کمی ضرور واقع ہوئی ہے۔

دہشت گردی پاکستان کو کمزور کرنے اور امن کے فقدان کی ایک سازش ہے، اگر ہم نے اس سازش کو کامیاب ہونے دیا تو ہم اپنی نسل کو کچھ نہیں دے سکیں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے محرکات لمبی بحث ہیں، ہمیں اس جنگ کو حوصلے کے ساتھ لڑنا ہے، ہمیں اس جنگ سے کمزور نہیں پڑنا، یہ جنگ من حیث القوم لڑنی ہے اور ہر شخص نے اپنا حصہ ڈالنا ہے، اداروں کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہے، انصاف جب عدلیہ میں آتا ہے تو عدلیہ کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوتا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی بساط اور ذمہ داری کے مطابق اس میں حصہ ڈالیں۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیکیورٹی سے متعلق عام حالات نہیں، سیکیورٹی کی ذمے داری اجتماعی ہے جس میں سب کو کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا خوش آئند ہے کہ دہشت گردی میں کسی حد تک کمی ہوئی ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدالتوں کی سکیورٹی فول پروف بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اور اسے جدید خطوط پرمرتب کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے وزارت داخلہ سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی پر عملدرآمد کے لیے بار کے سربراہان اور اراکین سے تعاون کی توقع ہے جب کہ کوئٹہ سانحے کے بعد بار کی کمی پورا کرنے کیلیے وقت اور محنت درکار ہے۔