بریکنگ نیوز
Home / دلچسپ و عجیب / کیریئر کو تباہ کردینے والی غلطیاں

کیریئر کو تباہ کردینے والی غلطیاں

ایسی کئی بڑی غلطیاں ہوتی ہیں جو دفتر میں آپ کی ساکھ کو تباہ کرکے رکھ دیتی ہیں یا برطرف کرانے کا باعث بن جاتی ہیں مگر کچھ چھوٹی چھوٹی خامیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو لوگوں کو اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے میں مشکلات کا شکار کردیتی ہیں۔

بری عادات جیسے ای میلز کے جواب میں روکھا رویہ اپنانا یا پورا دن اپنے آپ میں گم رہنا آپ کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں چاہے آپ کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو۔ ایسی ہی چند بری عادات کے بارے میں جانیے جو دفتر میں آپ کی ساکھ کو بتدریج تباہ کرکے رکھ دیتی ہیں اور اس کا خمیازہ آپ کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔

آپ کمپنی کا ماحول نہیں اپناتے

کریٹیو کامنز فوٹو

ہر دفتر کی اپنی سماجی روایات ہوتی ہیں اور اس میں نہ ڈھلنا آپ کو لوگوں کی نظر میں ناپسندیدہ بنادیتا ہے۔ خود کو بہتر سمجھنے کا رویہ آپ کو ساتھی ملازمین سے دور کردیتا ہے اور ان کو ایسا لگتا ہے کہ آپ دفتر میں مثبت تعلقات قائم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

غلطیوں پر ہمیشہ جواز پیش کرنا

کریٹیو کامنز فوٹو

اپنی غلطیوں اور ناکامی کی ذمہ داری کو قبول نہ کرنے کی عادت آپ کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ کسی کام کو بروقت مکمل نہ کرپانے پر آخری وقت تک انتظار کریں اور پھر اپنے باس کو بتائیں کہ اس کی یہ وجہ تھی، بجائے اس کے کہ مختلف بہانے یا جواز پیش کرکے اپنی ساکھ کو تباہ کیا جائے۔

لباس کا خیال نہ رکھنا

کریٹیو کامنز فوٹو

جب آپ کسی پوزیشن پر سیٹ ہوجاتے ہیں تو آپ کے لیے اپنی شخصیت کو کمتر انداز سے پیش کرنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ مناسب لباس کا خیال نہ رکھ پانا آپ کی ساکھ کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ کو اس چیز کی پروا بھی نہیں۔

مایوس شخصیت

کریٹیو کامنز فوٹو

اگر آپ عادتاً برے رویے کے حامی ہیں تو آپ اپنے باس کے لیے ایک درد سر بن جائیں گے اور وہ آپ کو اپنی ٹیم سے الگ بھی کرسکتا ہے۔ مسلسل شکایات کرنے کی عادت آپ کے لیے ارگرد کا ماحول خوشگوار نہیں بناتی اور آپ کا باس بھی آپ کو اپنے پاس دیکھنے کا خواہشمند نہیں رہتا۔

ساتھی ورکرز کو نظر انداز کرنا

کریٹیو کامنز فوٹو

اپنے ساتھی ورکرز سے دوستی کرنا بھی اعلیٰ عہدیداران سے اچھے تعلقات قائم کرنے جیسا اہم ہے۔ لوگوں میں پسندیدگی کا احساس کرنے سے آپ کو اپنے ساتھی ورکرز سے قابل قدر معلومات ملتی ہیں جو آپ کے کام کے لیے بہت مددگار بھی ثابت ہوتی ہے۔

دفاعی طرز عمل اپنانا

کریٹیو کامنز فوٹو

آپ کا باس یہ نہیں چاہتا کہ آپ ایک مثالی ورکر بنیں مگر مسلسل دفاعی طرز عمل اپنانے کی عادت آپ کو غیر پیشہ وارانہ شخصیت کی حامل بنادیتی ہے۔ اگر آپ تعمیراتی تنقید کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یا اپنی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھتے تو اس سے آپ کے باس کے پاس یہ تاثر جاتا ہے کہ آپ شخصیت بہتر بنانے کے بھی خواہشمند نہیں۔

ٹال مٹول کے عادی

کریٹیو کامنز فوٹو

اپنے پراجیکٹ یا ٹاسک کو آخری منٹ تک التواء میں ڈالے رکھنا نہ صرف آپ پر دباﺅ بڑھاتا ہے بلکہ وہ دیگر افراد کو بھی آپ کے کام پر انحصار نہ کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اگر کچھ غلط ہوجائے تو سب سے زیادہ امکان اسی بات کا ہوتا ہے کہ آپ ہی پر اس کا ملبہ ڈالا جائے گا۔

کام میں بامقصد حصہ نہ ڈال پانا

کریٹیو کامنز فوٹو

میٹنگ کے دوران بات برائے بات کے لیے کچھ کہنا کسی بھی طرح تعمیری ثابت نہیں ہوتا، اس کے برعکس وقت سے پہلے تیاری اور تعداد کے مقابلے میں معیار کو اُس وقت ترجیح دینی چاہیے جب آپ اپنے آئیڈیاز شیئر کررہے ہو۔

ہمیشہ تاخیر کرنا

کریٹیو کامنز فوٹو

اکثر تاخیر کی عادت ساتھی ورکرز پر یہ تاثر ڈالتی ہے کہ آپ کے لیے کام سے زیادہ کچھ اور اہمیت رکھتا ہے اور آپ کو وقت کی اہمیت کا احساس نہیں۔ یہ چیز آپ کو احترام نہ کرنے والا اور کسی کی پروا نہ کرنے والی شخصیت کی شکل میں پیش کرتی ہے اور لوگ آپ پر اعتماد کرنے سے گریز کرنے لگتے ہیں، لہذا آپ کو ہمیشہ بروقت ہونے کی عادت کو اپنانا چاہیے۔

بہت زیادہ گھلنا ملنا یا بولنا

کریٹیو کامنز فوٹو

ہاں یہ ٹھیک ہے کہ اپنے ساتھی ورکرز کے بارے میں جاننا اچھا ہوتا ہے مگر جب آپ بہت زیادہ بولنے لگتے ہیں تو یہ چیز آپ کو اپنا کام درست انداز میں کرنے سے روکنے لگتی ہے۔ لوگوں سے کھانے کے اوقات یا وقفوں کے دوران بات چیت کریں تاکہ دیگر افراد بھی پریشان نہ ہوں اور آپ ایسے فرد نہ بن جائیں جس کے ساتھ کوئی کام نہ کرنا چاہتا ہو۔

ای میلز کو نظر انداز کرنا

کریٹیو کامنز فوٹو

مناسب وقت میں ای میلز کا جواب دینے میں ناکامی نہ صرف آپ کے جواب کے منتظر افراد کو چڑچڑا بناسکتا ہے بلکہ اس سے آپ کے ساتھیوں تک یہ اشارہ بھی جاتا ہے کہ آپ انہیں اپنے وقت کے قابل نہیں سمجھتے اور وہ آپ کو غیرپیشہ ورانہ سوچ کا حامل سمجھنے لگتے ہیں۔اگرچہ ہر ای میل کے موصول ہوتے ہی اس کا جواب دینا ممکن نہیں تاہم منظم کوشش کے ذریعے ان کے جوابات کو ایک خاص دورانیے کے اندر ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

تند مزاج یا بدتمیز

کریٹیو کامنز فوٹو

اچھا کام کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر فرد آپ کے ساتھ کام کرنے کا خواہشمند بھی ہے۔ درحقیقت بدتمیزی یا اکھڑ پن ساتھی ورکرز کو دلبرداشتہ کرتی ہے بلکہ اعلیٰ عہدیداران بھی دوسروں کے جذبات کا خیال نہ رکھنے والے ملازمین کو برداشت نہیں کرتے۔ یاد رکھیں خوش اخلاقی ہی لوگوں کا دل جیتنے کی چابی ہے۔

آپ طویل المیعاد مقاصد پر توجہ مرکوز نہیں کرتے

کریٹیو کامنز فوٹو

اگرچہ اپنے روزمرہ کے کام میں مصروفیت اہمیت رکھتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنے کیریئر کے مستقبل کے بارے میں سوچنا بھی یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ اپنے کیریئر کو مجموعی طور پر بہتر بنانے کے لیے کیا کچھ بہتر ثابت ہوسکتا ہے اس پر غور کرنا کافی اہم ہوتا ہے۔

مغرور ہونا

کریٹیو کامنز فوٹو

اس بات کی پروا نہیں کہ آپ کتنے تجربہ کار ہیں درحقیقت سب کچھ جاننے کی اداکاری کرنا آپ کے ساتھیوں کو بہت جلدی برہم کردیتی ہے۔ کیریئر میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا ہے جسے سیکھا جاسکتا ہے تو ایک ایسا راستہ دریافت کریں جو نئے آئیڈیاز تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو۔

فیڈ بیک کو نظرانداز کرنا

رائٹرز فوٹو