بریکنگ نیوز
Home / کالم / خارجہ امور نئے چیلنجز!

خارجہ امور نئے چیلنجز!

نئی وفاقی کابینہ میں ’وزیر خارجہ‘ کو شامل کرنے سے متعلق پاکستان پیپلزپارٹی کا مؤقف یہ ہے کہ اُن کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے اور اگر نواز لیگ مزید بھی اُن کے مشوروں پر عمل کرتی تو آج یوں بحران کا شکار نہ ہوتی۔ پاکستان کے لئے خارجہ امور کی اہمیت اور عالمی تنہائی دور کرنے کی یہ کوشش کتنی باآور ثابت ہوگی اور نئے وزیرخارجہ کس طرح ایک طویل غیرحاضری کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلاء کو ختم کریں گے‘ اس پر صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ عالمی توجہات بھی مرکوز ہیں۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل ایچ آر مک ماسٹر کا کہنا ہے کہ ’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستان عسکریت پسندوں کی مبینہ مدد کی اپنی دوہری پالیسی تبدیل کرے جس سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘‘ ایک امریکی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل مک ماسٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا دفاع کیا جس کے تحت افغانستان میں جنگ جیتنے کے لئے امریکی افواج کو لامحدود اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ امریکی حکام ماضی میں بھی پاکستان پر عسکریت پسندوں کی مبینہ مدد کا الزام لگاتے رہے ہیں جس کی پاکستان نے ہمیشہ تردید کی تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ یہ الزام امریکی صدر سے منسوب کیا گیا۔ مک ماسٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی صدر نے واضح کیا کہ ہمیں خطے میں رویئے کی تبدیلی دیکھنے کی ضرورت ہے‘ حقیقت حال یہ ہے کہ آج افغانستان میں امریکہ کا عمل دخل ایسے ہی ہے جیسے سامراجیت کا کسی کالونی میں ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں طالبان اقتدار کے خاتمہ کے بعد امریکہ کے زیر اثر حکومت کے ہاتھ میں افغان معاملات ہیں۔

امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اپنی استعداد سے بڑھ کر امریکہ کا ساتھ دیا جس سے پاکستان خود بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا جبکہ افغانستان کو امریکہ نے الٹ پلٹ تو کردیا‘ طالبان حکومت کا خاتمہ کردیا۔ لاکھوں افغان جنگ کا ایندھن بن گئے۔ افغانستان امریکہ کے زیرتسلط آگیا مگر امریکہ اور اس کے زیر اثر حکمران پہلے حامد کرزئی اور پھر اشرف غنی پورے ملک میں اپنی رٹ قائم نہ کرسکے۔ ان کا اقتدار کابل تک محدود ہے۔ کئی صوبوں میں طالبان کا مکمل کنٹرول ہے۔ اب تو اس ملک میں داعش کے مقبوضات بھی سامنے آرہے ہیں‘ امریکہ کی زیرکمان نیٹو افواج اور افغان نیشنل گارڈز تو طالبان گوریلوں کا سامنا نہیں کر پارہے تھے اب داعش بھی افغانستان میں قدم مضبوط کررہی ہے۔ وہ بیک وقت افغان انتظامیہ اور طالبان کے خلاف برسرپیکار ہے۔ ایک طرف طاقتور امریکہ ہے اور دوسری طرف طالبان جو کہ اپنے اقتدار کی واپسی کے لئے سرگرم عمل ہیں‘ ان کو اقتدار میں شریک کرکے معاملات کو درست سمت میں لایا جا سکتا ہے مگر افغان حکمران طالبان کو امن کی راہ دکھاتے ہیں ان کیساتھ مذاکرات کرکے انہیں قومی دھارے میں لانے کے لئے آمادہ نہیں۔ اَفغانستان کے تناظر میں بھارت کی سازشیں بھی توجہ طلب ہیں‘ جو خطے میں حاکمیت قائم کرنے کے لئے دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کر رہا ہے اور اِسی مقصد سے پاکستان میں انتشار اور خلفشار پیدا کرنے کے لئے اپنا جاسوسی نیٹ ورک بھی بروئے کار لا رہا ہے۔ وزیرخارجہ خواجہ آصف کا یہ کہنا بجا ہے کہ ’’سندھ طاس معاہدے کو ستاون سال بعد بھارتی رویئے سے خطرات اور خدشات لاحق ہیں‘ امریکہ اس معاہدے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہا ہے۔‘‘ وزیر خارجہ نے بالکل درست نشاندہی کی‘ امریکہ دیگر معاملات میں اخلاقیات اور سفارتکاری کے اصولوں کو روندتے ہوئے بھارت کی حمایت پر کمربستہ ہے۔

اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ممبر بنوانا چاہتا ہے‘ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رُکنیت دلانے کے لئے بھی کوشاں ہے‘ اس کے ساتھ ایسے دفاعی معاہدے کئے گئے ہیں جس سے خطے میں اسلحہ کی دوڑ مزید تیز ہوگی اور طاقت کا توازن بھی بُری طرح بگڑے گا۔ خواجہ آصف کے وزیر خارجہ تعینات ہونے پر اُن کی صلاحیتوں پر سوال بھی اُٹھائے جارہے تھے‘ ایسے سوالات اٹھانے والوں کی اُن کے بیان سے تسلی ہوگئی ہوگی۔ ان کا بطور وزیر خارجہ پہلا ردعمل مثبت اور حوصلہ اَفزاء ہے۔ پاک امریکہ تعلقات خواجہ آصف کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر ’ایچ آرمک ماسٹر‘ کے بقول پاکستان کے رویئے میں تبدیلی دیکھنا چاہتا ہے جو ان کے نظر میں طالبان‘ حقانی نیٹ ورک اور دیگر شدت پسند گروپوں کی مدد میں کمی سے ہو سکتی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کی مدد میں کمی تو کیا پاکستان تو ان کے وجود ہی کے خلاف ہے۔ امریکہ کو پاکستان کے نکتۂ نظر سے زمینی حقائق کا جائزہ لینا ہوگا اور اِس کے لئے مضبوط و فعال سفارتکاری کی ضرورت ہے‘ جس کے تقاضوں کو سمجھتے کی صورت خواجہ آصف کے لئے آنیوالے دنوں میں گھمبیر چیلنجز کی کمی نہیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: سقاف ایڈوکیٹ۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)