بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاست میں مظلومیت

سیاست میں مظلومیت

اگر سیاسی لیڈروں نے کوئی ایسا منشور نہیں دیا کہ جس میں کہ عوام کی بہتری کے لئے کوئی منصوبے رکھے گئے ہوں۔ پھر ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح عوام کے سامنے پارٹی مظلوم کا درجہ حاصل کر لے اور اس وقت مسلم لیگ اس تاثر سے بھر پور استفادہ کرنے جارہی ہے۔ جناب نواز شریف جو لاہور جانے کے لئے اپنے نتھیا گلی کے مکان سے نکلے تو پروگرام یہی تھا کہ وہ موٹر وے سے لاہور جائیں گے مگر مری اور راولپنڈی کے راستے میں لیگی کارکنوں کے ہجوم نے اُن کو پروگرام بدلنے پر مجبور کر دیا۔ اور پارٹی کے سارے بڑوں نے یہی مشورہ دیا کہ وہ اپنا سفر جی ٹی روڈ سے کریں تاکہ استقبال میں اضافہ ہو اور جگہ جگہ رک کر اپنی مظلومیت کا رونا عوام کے سامنے روئیں اور عوام کو باور کروائیں کہ جس قصور پر اُنہیں نشانہ بنایا گیا ہے وہ اس کے قابل ہی نہ تھے اور جب عوام ایک دفعہ اپنے لیڈر کی زبانی اُن کی مظلومیت کی داستان سن لیں گے تو آنے والے سالوں تک اُن کے اذہان سے یہ محو نہیں ہو گا اور اپنا صوبہ تو اپنا ہی رہے گا۔مقابلے میں پی ٹی آئی ہے جہاں فواد چوہدری سپوکس مین کے طور پر موجود ہیں اب تو ڈاکٹر بابر اعوان بھی پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں۔جو زبان اس جماعت کے لیڈران استعمال کرتے ہیں وہ چند نوجوان تو ضرور پسند کرتے ہونگے مگر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہمیشہ ایک سلجھی ہوئی زبان کو پسند کرتے ہیں اور وہ ایسی زبان کو پسند نہیں کرتے جس میں دلیل اور ثبوت کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات کی بھرمار ہو، تنقید تو جماعت اسلامی کے امیر بھی کرتے ہیں اور ہم سب اُن کی تنقید کو سنتے ہیں کہنے کو وہ بھی وہی بات کرتے ہیں جو پی ٹی آئی والے کرتے ہیں مگرزبان کے فرق سے جماعت کے امیر کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔

کے پی کے حکومت میں جماعت پی ٹی آئی کی حلیف جماعت ہے او ران کے ساتھ حکومت میں شامل ہے۔کے پی حکومت کو بھی مظلومیت کا شوق دکھائی دیتا ہے جس کیلئے وہ تگ دو میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ قومی وطن پارٹی کو حکومت سے علیحدہ کرنا بھی اسی جانب ایک قدم ہے۔ اب لگتا ہے کہ وزیر اعظم کے انتخاب میں جماعت کا اپنا امیدوار لانا بھی ان دونوں جماعتوں میں دوری کا عندیہ دیتا ہے اور اگر جماعت کو بھی قومی وطن پارٹی کی طرح حکومت سے نکالا جاتا ہے تو پی ٹی آئی ایوان میں اپنی تعداد کھو بیٹھتی ہے جس کا مطلب ان کی مظلومیت ہے اور یہ تاثر اُن کیلئے اگلے الیکشن میں کتنامعاون ثابت ہو سکتا ہے توآنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے مگر لگتا ہے کہ اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑیگا۔کیونکہ ہمیں اپنے صوبے کی سیاسی سمجھ بوجھ کا بھی علم ہے‘ یہاں جو بھی جماعتیں اقتدار میں آئی ہیں اگر انہوں نے ڈیلور نہیں کیا تو اس صوبے کے عوام نے ان کو کان سے پکڑ کا باہر کر دیا ہے۔ یہاں مسلم لیگ کی حکومت بھی رہی ۔ مسلم لیگ اور اے این پی کی مشترکہ حکومت بھی رہی ہے۔ ایم ایم اے کی حکومت بھی رہی ہے۔

اور ہر حکومت دوسری دفعہ اس لئے نہیں آ سکی کہ وہ عوام کے امتحان میں پاس نہیں ہو سکی۔ اے این پی کی حکومت نے اپنی حد تک صوبے کی خدمت کی کوشش تو کی ہے مگر دہشت گردی نے اُن کے بڑے بڑے لیڈروں کو بھی نشانہ بنایا مگر جماعت عوام کے لئے اُس طرح ڈیلور نہیں کر سکی جیسا کہ عوام چاہتی تھی۔نتیجہ کہ آج وہ ،جمعیت بھی اور مسلم لیگ بھی حزب اختلاف میں بیٹھے ہیں۔ گو اس صوبے کے عوام اپنی پارٹی سے جان نچھاور کرنے کی حد تک پیار کرتے ہیں مگر جہاں تک حکومت میں رہ کر عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی بات ہے تو خیبرپختونخوا کے عوام اس پر کمپرومائز کرنے کے لئے تیار نہیں اور جو حکومت سارا سال سوائے مرکز سے جھگڑے کے کچھ نہیں کر سکی حتیٰ کہ اپنے بجٹ میں رکھے گئے اہداف بھی پورے نہیں کر سکی تو اُسے یہ مان لینا چاہئے کہ مستقبل اُس کا نہیں ہے، اب بھی وقت ہے کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کو تیز کیا جائے اور عوام سے جو وعدے کئے گئے ہیں ان کو ایفا کرکے آنے والے انتخابات میں کامیابی کیلئے راہ ہموار کرے اور عوام میں اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش نہ کرے۔