بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / ….ربط ملت!

….ربط ملت!

خیبرپختونخوا اِسمبلی میں ’نئی قانون سازی‘ کا مسودہ ’داخل دفتر‘ ہوا ہے‘ جس کی اِیوان سے منظوری اور لاگو ہونے سے ایک ایسے متنازعہ مسئلے سے نمٹنے کی ’’قانونی صورت‘‘ ہاتھ آ جائے گی‘ جس سے نہ صرف خیبرپختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقہ جات میں بالخصوص ماہ رمضان المبارک کے آغاز اور خوشی کے سالانہ تہوار ’عیدالفطر‘ منانے والے تقسیم ہو جاتے ہیں‘ بلکہ ساحلی پٹی کے مقابلے ملک کے شمال مغربی سرحدی علاقوں میں نئے اسلامی مہینوں کا غیر سرکاری اعلان ہو جاتا ہے‘ نظام شمسی کے ہر سیارے کی حرکت (تقویم) معلوم کر لی گئی ہے۔ چاند کے سربستہ راز اور منازل کا حساب پوشیدہ نہیں رہا یہ سب ایک نطام کے تحت ہے ایسا نظام کہ جو انسانی زندگی کو نظم و ضبط سے روشناس کرانے اور منظم کرنے کیلئے بطور نعمت عطا کیا گیا ہے لیکن یہ خالصتاً تحقیقی و سائنسی علمی مسئلہ ہمارے ہاں اُلجھن اور اختلاف کا باعث بن گیا ہے‘ ملک کے دیگر حصوں کی طرح خیبرپختونخوا اور اِس سے ملحقہ قبائلی پٹی میں ’رویت ہلال‘ پر اتفاق رائے پیدا کرنیکی آئینی کوشش قانون سازی سے نہیں بلکہ اِس کے مکمل اطلاق سے کامیاب ہوسکتی ہے اور تھانہ جات ہوں یا ٹریفک پولیس‘ ایسی کوئی ایک بھی مثال ہمارے پاس نہیں جس میں قانون کا بلاامتیاز اور مکمل اطلاق ’عملی زندگی میں‘ نظر آتا ہو‘ غیرسرکاری رویت ہلال کی ممانعت سے متعلق خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے مجوزہ آئینی شق ’پاکستان مسلم لیگ (نواز)‘ سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن صوبائی اسمبلی ثوبیہ شاہد کی جانب سے داخل دفتر کی گئی ہے اور اُمید ہے کہ صوبائی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اراکین اسمبلی کے سامنے غور اور منظوری کیلئے اِسے پیش کر دیا جائے گا۔ مجوزہ قانون کا بنیادی مقصدیا لب لباب یہ ہے کہ ’’مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی موجودگی میں صوبائی یا علاقائی سطح پر غیرسرکاری رویت ہلال کا اعلان کرنے کی انفرادی یا اجتماعی اجازت کسی فرد واحد‘ مذہبی سیاسی جماعت‘ اِدارے یا تنظیم کو نہیں ہونی چاہئے۔

رویت ہلال سے متعلق یہ اصولی مؤقف اپنی جگہ اہم ہے کہ وفاق پاکستان کی جملہ اکائیوں کے درمیان ’ربط‘ رہنا چاہئے کیونکہ ’’فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں۔۔۔موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں‘ (علامہ اقبالؒ )۔ کسی سائنسی و علمی معاملے سے اختلاف رکھنے والوں کا نکتۂ نظر کی بنیاد اصول اور پس منظر بھی پیش نظر رہنا چاہئے‘ کیونکہ اِس کے سیاسی اثرات بھی ظاہر ہو سکتے ہیں اورپی ٹی آئی کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ قومی سطح پر عام انتخابات کے دہانے وہ خیبرپختونخوا میں اپنی مقبولیت گنوائے۔ رویت ہلال پر وفاقی احکامات بذریعہ قانون لاگو کرانے کی بجائے اگر ’فلکی طبیعیات‘ سے متعلق علوم مدارس کے نصاب کا حصہ بنایا جائے تو کائنات میں غور کرنے اور علم کی ترقی یافتہ اشکال سے استفادہ کرنیکی صورت اِس مسئلے کا اَزخود حل نکل آئیگا‘ اختلاف کا حل اگر خالصتاً علمی نکتے کو زیادہ وضاحت سے بیان کرتے ہوئے ’رویت ہلال پر اتفاق رائے‘ پیدا کرنے کی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے۔

راکین صوبائی اسمبلی بالخصوص حکمراں پی ٹی آئی کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ایسی کسی قانون سازی کا کیا فائدہ کیا ہوگا جبکہ اُسے عملاً لاگو کرنا ’قانون ساز اداروں‘ کیلئے ممکن نہ ہو اور پھر دینی معاملات میں مداخلت سے انتشار بڑھنے اور پھیلنے کا اندیشہ اپنی جگہ موجود ہے۔ البتہ تعجب خیز ضرور ہے کہ رویت ہلال سے متعلق ’نئی قانون سازی‘ سے خیبر پختونخوا ملک کا ایسا پہلا صوبہ ہونے کا منفرد اعزاز حاصل کر لے گا‘ جہاں مسائل کوقانون کی مدد سے حل کرنے کو زیادہ قابل عمل‘ آسان و پائیدار سمجھا لیا گیا ہے! اس پر ضرورت ہر ایک کا موقف سننے اور اتفاق کی ہے۔