بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی وعدے

سیاسی وعدے

آپ کو یاد ہوگامیاں محمد نواز شریف نے جب 2013ء میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا بہتر کارکردگی کامظاہرہ کرنے والا ہی بچے گا جبکہ ان وزراء کو باہر کا دروازہ دکھادیا جائے گا جن کی کارکردگی اطمینان بخش نہ ہو گی کیا انہوں نے کسی ایک کو بھی گھر بھیجا؟ آپ کو یہ بھی یقیناًیاد ہو گاکہ 2013ء کے الیکشن کے بعد میاں محمد نواز شریف نے گڈ گورننس کے فروغ کے لئے وفاقی کابینہ کاحجم15 وزارتوں اور 5 وفاقی ڈویژنز تک محدود کر دیا تھا چنانچہ وزارتیں 43 سے کم ہو کر 28 او ر ڈویژنز43 سے گھٹ کر 38 ہو گئے تھے شاید خاقان عباسی نے 27 وزراء اور 16 وزراء مملکت کے ساتھ اپنی اننگز کا آغاز کر دیا ہے جبکہ کچھ مزید وزراء بھی ان کی کابینہ میں شامل ہو جائیں گیااس بات کا بھی قومی امکان ہے کہ کئی مشیر اور معاونین بھی وہ تعینات کریں کہ جن کا درجہ وفاقی وزراء یا وزیر مملکت کے برابر ہو غالب امکان یہ ہے کہ ا ن کی کابینہ شاید اس ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ ہو افسوس اس بات کا ہے کہ کسی رکن اسمبلی نے کھل کر وزیراعظم کو کبھی اشارتا بھی یہ بات نہیں کہی کہ وزراء کی اس فوج ظفر موج کی کیا ضرورت ہے ؟ کیوں وہ ہفتے میں کم از کم ایک دن خود بنفس نفیس قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرکے اراکین کے سوالات کے جوابات دینے کی تکلیف نہیں کرتے ؟ میاں محمدنواز شریف نے تو قومی اسمبلی کے اجلاس میں معدودے چند روز ہی شرکت کی ہو گی اور وہ بھی ان دنوں جب وہ سیاسی گرداب میں بری طرح پھنس گئے تھے جس سے نکلنے کیلئے انہیں قومی اسمبلی کے اراکین کی معاونت مطلوب تھی! شاہ محمود قریشی ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ اگرخاقان عباسی نے صرف 45 روز کے لئے ہی بادشاہی کرنی ہے تو اتنی لمبی چوڑی کابینہ کی تشکیل کی بھلا کیا ضرورت تھی ؟

ظاہر ہے کہ (ن)لیگ کا پروگرام یہی نظر آ رہا ہے کہ ان کو اگلے الیکشن کی تاریخ تک بطور وزیراعظم گھسیٹا جائے !واقفان حال کا کہنا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کا دل تو یہ چاہتا ہے کہ (ن)لیگ کے اندر وزارت عظمیٰ کی کرسی مستقل طور پر اگر کوئی سنبھالے تو وہ ان کی صاحبزادی مریم نواز ہی ہو ان کی یہ خواہش کس حد تک پوری ہوتی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ موروثیت کی بیماری میں وہ لوگ بھی مبتلا ہیں کہ جو برسراقتدار ہیں اور وہ بھی جو ایوان اقتدار میں گھسنے کیلئے بے قرار ہیں سیاسی پارٹیوں کے اندر بھی اب کہاں جمہوریت نظرآتی ہے ؟برائے نام الیکشن اگر ہو بھی جائیں تو اس میں کوئی بھی پارٹی کے مخصوص لوگوں کا مقابلہ نہیں کرتا اور اکثر بلامقابلہ ہی منتخب ہوتے ہیں، بلکہ اکثر سیاسی جماعتوں میں انتخاب کی بجائے نامزدگیاں ہوتی ہیں، جو پارٹی رہنما ہیں وہ ذیلی تنظیموں کیلئے افراد کو نامزد کرتے ہیں اور کسی کو بھی اس میں چون وچرا کی جرات نہیں ہوتی،اس طرح ہر پارٹی کا قائد اپنے ورکروں کو ایسے ہانکنا ہے جسے کوئی گڈریا مال مویشیوں کے ریوڑ کو ؟ ان وکروں سے سوچنے کی حس چھین لی گئی ہے کہ پریس کانفرنس میں بعض سرے پھرے صحافی پھر بھی سیاستدانوں سے ایسے سوال پوچھ لیتے ہیں جن سے ان کے چہرے سرخ ہو جاتے ہیں لیکن کسی سیاسی پارٹی کے اندر تو ایسا سوال پوچھنا غدای کے زمزے میں آ سکتا ہے کہ جس سے پارٹی کے قائد کا موڈ خراب ہونے کا خطرہ ہو یا جس سے اس کی ابرو پر خم آئے ، پارٹی قائدین یس سر سننے کے عادی ہوتے ہیں اور تنقید کو برداشت کرنے کا ان میں حوصلہ نہیں ہوتا، ماضی میں بادشاہ فن سپہ گری اور امور مملکت کے رموز سمجھانے کیلئے اپنے بال بچوں کی تربیت کیلئے اتا لیق مقرر کیا کرے تھے آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے گو اس کے خدوخال میں تھوڑا فرق آ گیا ہے بھٹو نے بے نظیر کو ٹرین کیا لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا نہ بھٹو کو پورا وقت میسر آ سکا اور نہ بے نظیر کے ساتھ عمر نے زیادہ وفاکی کہ وہ اپنے بچوں کو آگے بڑھائیں یہ کام زرداری کو کرنا پڑا میاں صاحب نے سو چا کہ کیا ان کی صاحبزادی کسی طور بے نظیر سے کم ہے ؟

لیکن یہاں بھی قسمت کو کچھ اور ہی منظور ہے ان کی اس خواہش کی تکمیل میں سردست کھنڈت پڑی نظر آ رہی ہے کل کی کون جانے ؟ ہم نام لینانہیں چاہتے کہ کن سیاسی پارٹیوں میں موروثیت بدرجہ اتم موجود ہے اس حمام میں سب ننگے ہیں ماسوائے ایک آدھ سیاسی پارٹی کو چھوڑ کر سول سوسائٹی کا اب یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ببانگ دہل سیاسی پارٹیوں کے قائدین سے پوچھیں کہ وہ کس منہ سے پارلیمانی جمہوریت کا پرچار کر ہے ہیں کہ جب پارلیمان میں وہ گونگے پہلوانوں کی طرح بیٹھے رہتے ہیں انہوں نے اب تک کونسی ایسی قانون سازی کی ہے کہ جو عوام دوست ہو ‘ کیا ان کی پارٹیوں کے اندر ان کے خاندان کے افراد کے علاوہ ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ جس کو وہ پارٹی کی مستقبل کی قیادت سنبھالے کیلئے گروم کر سکیں ، اصل جمہوری ڈھانچہ وہی ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوریت ہو، وہاں پر بھی اختلاف رائے کی قدر ہو اور کارکنوں کو پارٹی کی قیادت کے مرحلے تک پہنچنے کی مکمل آزادی اور سہولت ہو۔