بریکنگ نیوز
Home / کالم / دیانت خود بدلتی ہے

دیانت خود بدلتی ہے

اب تو ماشاء اللہ اس ملک میں پارلیمانی جمہوریت کو آئے ہوئے کئی برس بیت چکے ‘ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وقت کیساتھ ساتھ ہماری قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بحث ومباحث کا معیار بہتر ہوجاتا پر لگتا یہ ہے کہ وقت نے ہمارے اراکین پارلیمنٹ کی صحت پر کوئی اثر نہیں ڈالا وہی بے ڈھنگی چال ہے ان کی جو پہلے بھی تھی مسائل پر یہ لگ کم بولتے ہیں بلکہ بولتے ہی نہیں ایک دوسرے کی کردار کشی‘ایک دوسرے پر دشنام طرازی اور ایک دوسرے کے لتے لینے میں البتہ ان کو ید طولےٰ حاصل ہے ضرورت پڑے تو یہ ایسی مخلوق ہے کہ جو ایک دوسرے کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالنے سے بھی دریغ نہیں کرتی ایک دوسرے کی قمیضیں تو انہوں نے کئی کئی مرتبہ پھاڑی ہیں جب یہ لوگ طیش میں آجائیں تو اسمبلیوں کو یہ سبزی منڈی یا مچھلی مارکیٹ بنا دیا کرتے ہیں خدا خبر اس ملک کی نئی نسل ان کے بارے میں کیا تاثر قائم کرتی ہوگی کیونکہ آج کل تو اسمبلیوں کی کاروائی کا آنکھوں دیکھا حال ٹیلی ویژن چینلز اکثر دکھا دیتے ہیں بلاشبہ ہر اسمبلی کا سپیکر کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کا رکن ہوتا ہے پر پارلیمانی روایات یہ ہیں کہ جو نہی وہ سپیکر منتخب ہوکر اس منصب کا حلف اٹھاتا ہے وہ اپنی سیاسی پارٹی کو خیر آباد کہہ دیتا ہے موجودہ قومی اسمبلی کے سپیکر اس معاملے میں پارلیمانی تقاضوں پر پورا نہیں اترے ان کے برتاؤ اور رولنگز سے اس بات کی بو آتی ہے کہ ان کا میلان طبع(ن) لیگ کی جانب ہے یہی وجہ ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے اکثر ارکان کی نظر میں متنازعہ بن چکے ہیں ہماری اسمبلیوں کی ایک ناکامی یہ ہے کہ نہ اس کا سپیکر اور نہ اس کے اراکین وزراء کو مجبور کرسکے ہیں کہ وہ اسمبلی کی کاروائی میں دلچسپی دکھائیں اور اس میں شرکت کریں اس کی غالباً ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اور ان کے پیش رو وزرائے اعظم نے خود کبھی قومی اسمبلی اور سینٹ دونوں کے اجلاسوں میں شرکت کو درخور اعتناء نہیں سمجھا وہ صرف اس وقت قومی اسمبلی آئے جب ان کو پتہ چلا کہ ان کی کشتی ڈگمگا رہی ہے اور ان کے ڈوب جانے کا خطرہ ہے۔

ہمارے سیاست دانوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر یہ کہہ کر ڈال دیتے ہیں کہ وہ انہیں کام کرنے نہیں دیتی ورنہ وہ تو بہت کچھ کرناچاہتے ہیں چلو دو منٹ کے لئے اگر ان کا یہ موقف مان بھی لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کونسا امر مانع ہے جو آپ کو اسٹیبلشمنٹ کیخلاف قانونی ایکشن لینے سے روکتا ہے اگر آپ صدق دل سے سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کی راہ میں روڑے اٹکارہی ہے ؟ضرور آپکے اپنے اندر بھی کوئی خامیاں‘کوئی کوتاہیاں کوئی بدعنوانیاں موجود ہوتی ہیں کہ جن کی وجہ سے آپ اخلاقی طور پر کمزور ہوگئے ہوتے ہیں چونکہ اسٹیبلشمنٹ آپکی ان کمزوریوں سے آگاہ ہو چکی ہوتی ہے لہٰذا آپ اس کے خلاف کوئی ایکشن لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے اگر کسی ملک کی سیاسی قیادت دیانتدار ہو وہ سیاسی اقتدار کے زور پر اپنے ذاتی کاروبار میں بڑھوتری نہ کرے کمیشن نہ کھائے سادہ زندگی بسر کرے تو پھر کسی ریاستی ادارے کی مجال نہیں کہ وہ اس کیخلاف کوئی سازش کرسکے دیانتدار سیاسی قیادت سے ہر ریاستی ادارہ ڈرتا بھی ہے اور دل ہی دل میں اس کی عزت بھی کرتا ہے دیانتدار قیادت کو اپنے ترقیاتی کاموں کی پبلسٹی پر اربوں روپے سالانہ خرچ کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی جب چاند نکلتا ہے تو دنیا خود دیکھ لیتی ہے کہ چاند چڑھ گیا ہے کام خود بولتا ہے۔