بریکنگ نیوز
Home / کالم / وسیع ترقومی مفاد!

وسیع ترقومی مفاد!

پاکستان کی ترقی توانائی بحران حل کئے بغیر ممکن نہیں لیکن کیا ہمارے سیاسی فیصلہ سازوں کو اِس ضرورت کا احساس بھی ہے؟ قومی اسمبلی میں کالا باغ ڈیم کی بازگشت سنائی دی ہے لیکن جب پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے حکومتی ارکان اسمبلی کی جانب سے کالا باغ ڈیم بنانے کی بات کی گئی تو پیپلز پارٹی نے اس کی بھرپور مخالفت کی‘ تحریک انصاف کے رکن غلام سرور خان نے کالاباغ ڈیم بنانے کی حمایت کی جبکہ وزیر پانی جاوید شاہ نے کہا کہ ’’چاروں صوبوں کی زنجیر ہونے کی دعویدار جماعت کو اس حوالے سے مثبت سوچ اختیار کرنی چاہئے۔‘‘ جاوید علی شاہ نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت اور اسے مسترد کرنے کو ملک دشمنی کے مترادف قرار دیتے ہوئے واضح کیا پیپلز پارٹی کبھی قومی جماعت اور کسی جگہ مفاد پرست جماعت بن جاتی ہے اس طرح چاروں صوبوں کی زنجیر نہیں کہلوا سکتی اور کالاباغ ڈیم کو سیاست کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘‘ کالاباغ ڈیم کی سخت مخالفت کرنیوالے ایک ہی سانس میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر تنقید بھی کرتے ہیں لیکن اگر ہم سستی بجلی پیدا کرنے کے امکانات سے استفادہ نہیں کرتے اور درحقیقت اپنے ہی وسائل ضائع کر رہے ہوتے ہیں صوبہ سندھ میں پنجاب‘ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی طرح بڑے پیمانے پرزمینیں پانی کی شدید کمی کے باعث بنجر اور بے آباد پڑی ہیں۔

ایک طرف ہم کاروبار کی بدحالی‘ بیرونی سرمایہ کاری کی کمی اور نصف آبادی کے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے کا واویلا کرتے ہیں‘ دوسری طرف بیک وقت بجلی اور پانی کی ضرورت پوری کرنے والے منصوبے کی دشمنی کی حد تک مخالفت کی جاتی ہے۔قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں نیپرا اور وزارت پانی و بجلی اور واپڈا کی طرف سے اعتراف کیاگیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال بجلی زیادہ مہنگی ہوئی ہے جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں فی یونٹ ایک روپیہ تیئس پیسے کا اضافی سرچارج بھی عائد کیا گیا ہے اور بجلی کے شعبے کے قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی صارفین پر ڈالا جارہا ہے۔ وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان میں سالانہ ایک سو پینتالیس ملین مکعب فٹ پانی دستیاب ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں بڑے ڈیم نہ ہونے کے باعث صرف چودہ ملین مکعب فٹ پانی ذخیرہ ہوتا ہے جبکہ تیس ملین مکعب فٹ پانی ضائع ہوکر سمندر میں جا گرتا ہے۔ اگر ملک کو بچانا ہے تو ہمیں بڑے آبی ذخائر یعنی ڈیم بنانا پڑیں گے۔ کیا یہ امر لائق توجہ نہیں کہ تربیلا ڈیم کی پیداواری صلاحیت بھی چھتیس فیصد کم ہوچکی ہے اس لئے ہمیں پانچ چھ سالوں میں دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر یقینی بنانی ہوگی۔

دوسری جانب بھارت کے کشن گنگا ڈیم کے باعث نیلم جہلم میں پندرہ سے بیس فیصد پانی کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ چیئرمین واپڈا کے بقول بڑے ڈیمز نہ ہونے کے باعث ملک میں سالانہ پچیس ارب روپے کا پانی ضائع ہو جاتا ہے!کالاباغ ڈیم کی دشمنی کے پیچھے کچھ لوگ اپنی سیاسی مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی سے متاثر ہو کر مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ اُن کی غلط فہمی دلیل سے دور ہو سکتی ہے مگر دلیل کوئی سنے تو سہی۔ خورشید شاہ جیسے لیڈر بھی بریفنگ لینے سے انکار کردیں تو حقائق کیسے واضح ہو سکتے ہیں؟ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے پاکستان اندرونی اور بیرونی محاذ پر مخالفت کا سامنا کررہا ہے بھارت پاکستان آنیوالے دریاؤں پر آبی ذخائر کی کا سلسلہ تعمیر کررہا ہے جس سے وہ پاکستان آنے والے پانی پر کنٹرول حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ کافی حد تک وہ ایسا کر بھی رہا ہے۔ پاکستان کو پانی کی ضرورت ہو تو پانی روک کر قحط سالی سے دوچار کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کئی بار مون سون میں تمام دریاؤں کا رخ پاکستان کی طرف موڑ کر سیلاب برپا کرچکا ہے۔ برسات میں خود ہمارا پانی بھی انسانوں اور فصلوں کو ڈبوتا ہوا سمندر میں جاگرتا ہے اگر کالاباغ ڈیم تعمیر ہوچکا ہوتا تو کئی سیلابوں سے پاکستان محفوظ رہتا۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر اتفاق رائے کیا خوابوں میں ہو سکتا ہے؟ آخر حکومتی پارٹی نے کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے کے لئے کیا کیا ہے؟ کسی بھی صورت کالاباغ ڈیم جیسے وسیع البنیاد ترقیاتی منصوبے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: اسماعیل شہریار۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)