بریکنگ نیوز
Home / کالم / اقتدار کی کہانی

اقتدار کی کہانی

انتخابات کے قریب آتے ہی ہمیں بر سر اقتدار پارٹی کے کرتا دھرتا لوگوں کو پوری طرح بے نقاب دیکھنا نصیب ہو جاتا ہے۔ہم جن کو اپنے محافظ کے طور پراسمبلیوں میں بھیجتے ہیں یہ سوچ کر کہ یہ ہمارے لئے سہولتیں مہیا کریں گے اور ملک کو ترقی کی منزلوں کی جانب لے جائیں گے انکے آخری دنوں میں ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ ہم ریڈیو ‘ ٹیلی ویژن اور اخبارات میں حکومت کی کارکردگی کے متعلق سنتے پڑھتے اور دیکھتے رہے ہیں وہ سراسر دھو کا تھا جو ترقی ہمیں ریڈیو اور حکومتی ٹی وی کے ذریعے سنائی دیتی رہی اور دکھائی جاتی رہی وہ تو محض دکھاوا تھی اور جو منصوبے ہمارے ملک کی ترقی کیلئے لگائے جاتے رہے وہ تو محض کاغذوں کا پیٹ بھرنے کیلئے تھے اور جو رقوم ان منصوبوں کے لئے مختص تھیں وہ تو بہت سے لوگوں کے بینک بیلنس کے اضافے کا سبب تو بنی مگر منصوبے پر خرچ نہیں ہوئیں اور اب اُس منصو بے کو مکمل کرنے کے لئے مزید اُسی قدر رقم کی ضرورت ہے کہ جتنی پہلی دفعہ منظور ہوئی تھی اس لئے کہ اب تو اشیاء کی قیمتوں میں پہلے کے مقابلے میں دگنا چوگنااضافہ ہو گیا ہے۔ کہنے کا مطلب کہ پہلے والے تو کھا گئے ہیں جو نئے آئے ہیں ان کے ساتھ بھی تو اللہ نے پیٹ کا دوزخ لگا رکھا ہے۔ چنانچہ اسی منصوبے کی لاگت کو کئی گنا زیادہ کر دیا گیا ہے اور اس کے لئے آئی ا یم ایف سے ادھار بھی مل رہا ہے۔اسی طرح کی عیاشیوں نے ملک کو قرضوں کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے۔ جدھر سے بھی کسی منصوبے کے لئے ادھار ملتا ہے اس کو کھانے کے لئے بیسیوں منہ کھل جاتے ہیں۔

اخباروں اور دیگر ذرائع سے ہمیں منصوبے کی افادیت کا ڈھنڈورا سننے کو ملتا رہتا ہے مگر اصل میں کیا ہوتا ہے وہ ہمیں انتخابات کے نزدیک جا کر پتہ چلتا ہے اسلئے کہ حکومت میں رہنے والے انتخابات سے قبل پارٹیاں بدلتے ہیں اور راز جا کر دوسری پارٹیوں میں کھولتے ہیں اور عوام اُن کے پیچھے ہو جاتے ہیں ۔ سیاست دان خود ایک دوسرے کو ننگا کرتے ہیں اور دوران حکومت سیاسی لوگوں کی فائلیں دفاتر میں کام کرنے والے لوگ مرتب کرتے رہتے ہیں اور آنے والے لوگوں کے سامنے رکھ دیتے ہیںیوں عوام اس وقت آگاہ ہوتے ہیں جب ان کا سب کچھ لٹ چکا ہوتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے اب تک کاحساب جوڑیں اور اس میں سیاسی لوگوں کی ناکامیوں اور آمروں کی کامیابیوں کا موازنہ کریں تو آمروں کو لانیوالے بھی سیاسی ہی ہوتے ہیں۔ پہلے مارشل لاء سے قبل کی سیاست کو دیکھیں تو خان عبدالقیوم خان کے بتیس میل لمبے جلوس نے حکومتی ایوانوں کی بنیادوں کو ہلا دیا اور اس وقت کی سیاسی حکومت نے اپنا بچاؤ اسی میں سمجھا کہ نہ کھیلو اور نہ کھیلنے دو۔ چنانچہ سکندر مرزا مرحو م نے یہی بہتر جانا کہ حکومت فوج کے حوالے کر دی جائے۔ مارشل لاء نے سیاست دانوں پر ایبڈو کی چھری پھیر دی اورایو ب خان مرحوم نے حکومت کو چلانے کے لئے اعلیٰ ترین دماغوں کو اپنے گرد اکٹھا کیا اور پاکستان کی ترقی کے لئے نت نئے منصوبے بنائے۔ایوب خان کو بھی بیرونی اشارے پر حکومت سے علیحدہ کر دیا گیا اور سیاستدانوں نے ملک کو آدھا کر کے اپنی اپنی حکومتیں بنا لیں۔

کچھ عرصہ نام نہاد جمہوری حکومت چلی مگر سیاستدانوں نے پھر سے فوج کو بلا لیا اور جمہوریت کو سالوں کے لئے لپیٹ دیا گیا۔ اس مارشل لائی حکومت سے بھی سیاستدانوں نے بھر پور فائدہ اٹھایا اور پھر آمر کی موت نے ایک دفعہ پھر سے سیاست دانوں کے ہاتھ میں حکومت سونپ دی۔ اس سیاسی حکومت کو سیاست دانوں نے ہی ٹکنے نہیں دیا او رہر دوسرے دن ایک حکومت کو صدر پاکستان کے ہاتھوں گھر جانا پڑتا رہااور حکومت کے جانے سے پہلے حکومتی پارٹی کیخلاف حزب اختلاف کی پارٹیوں خصوصاً بڑی پارٹی نے حکومت کے قبل از وقت خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ اور جب وقت پڑا تو پھر پہلی پارٹی نے وہی عمل دوسری بر سر اقتدار پارٹی کے خلاف دہرایااور جب مارشل لا ء لگے یا حکومت کو گھر بھیجا گیا تو ان ہی سیاستدانوں نے مٹھائیاں بانٹیں اور جب اپنی باری آئی تو اپنی مظلومیت کے رونے روئے اور اپنے خلاف اُسی اقدام کو، کہ جس کے لئے انہوں نے دوسروں کی صورت میں مٹھائیاں بانٹی تھیں، خلاف حقیقت کہا اور اسی کو مینڈیٹ کیخلاف سازش کہا ۔اس میں شک نہیں کہ سیاسی پارٹیوں کا آخری گول حکومت حاصل کرنا ہے مگر یہ صرف ووٹ کے ذریعے ہونا چاہئے اور جب ایک پارٹی اقتدار میں آ جائے تو اس کے ووٹ کا احترام کیا جائے اور اگلے انتخابات کا انتظار کیا جائے۔جمہوریت صرف اسی صورت قائم ہو گی۔جو اقتدار میں آ گیا چاہے وہ کتنا بھی برا ہے بہر حال عوام کا چنیدہ ہے اس کا احترام ہی جمہوریت ہے۔